شیعہ کی تیسری دلیل
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہصحیح بخاری و مسلم میں براء بن غارب سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے غزوہ تبوک کا قصد فرمایا تو جناب امیرؓ کو بال بچوں کی حفاظت کے لیے مدینہ طیبہ میں مقرر فرمایا۔ کفار نابکار نے جناب امیرؓ کو طعنہ دیا کہ رسول اللہﷺ آپ کو اپنے ساتھ کیوں نہیں لے جاتے؟ جناب امیرؓ کو یہ بات ناگوار گذری۔ آپؓ نے رسول اللہﷺ سے یہ ماجرا بیان کیا اور عرض کی "يَا رَسُولَ اللَّهِ تُخَلِّفُنی فِی النِّسَاء والصبيان" کیا مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ جاتے ہیں۔ تو حضورﷺ نے دلجوئی کے لیے فرمایا "اما ترضى أن تَكُونَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا إِنَّهُ لا نَبِی بَعْدِی" کیا تجھے پسند نہیں ہے، کہ تو مجھ سے بمنزلہ ہارونؑ کے ہو موسیٰؑ سے، ہاں میرے بعد نبوت نہیں ہے۔
شیعہ اس سے استدلال کرتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول پاکﷺ حضرت علیؓ کو اپنے بعد خلیفہ سمجھتے تھے۔ سو حدیث میں ایسا لفظ نہیں ہے کہ جس سے آپؓ کی خلافت بلا فصل کا استدلال ہو کیونکہ
1: ہارونؑ کو موسیٰؑ نے عارضی طور پر اپنی عدم حاضری کے خلیفہ مقرر کیا تھا۔ جب کوہ طور سے واپس ہوئے تو حضرت ہارونؑ خلیفہ نہ رہے گو وہ نبی مستقل تھے ایسا ہی یہاں بھی سمجھنا چاہیے۔
2: اس قسم کی خدمت بہ سبب قرابت اپنے پسر یا داماد کے ہی سپرد کی جاسکتی ہے کہ مستورات اور بال بچوں کی نگرانی رکھے ایسی خدمت کو خلافت سے کیا تعلق؟
3: یہ مسلم ہے کہ حضرت ہارونؑ حضرت موسیٰؑ کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے پھر خلیفہ کیسے؟ جب مشبہ بہ ہی خلیفہ نہ ہوئے تو مشبہ کی خلافت کیسی؟
4: حضرت ہارونؑ سے تشبیہ صرف قرابت داری کی وجہ سے دی تھی ورنہ وہ نبی تھے عمر میں موسیٰؑ سے بڑے تھے۔ حقیقی بھائی تھے۔ سیدنا امیرؓ میں ان اوصاف سے ایک بھی نہ تھی۔ پھر اس حدیث سے استدلال خلافت بلا فصل چہ معنیٰ وارد؟
5: اس تشبیہ سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ زندگی میں جیسے ہارونؑ بوجہ قرابت داری موسیٰؑ کی نیابت کرتے تھے۔ ویسے جناب امیرؓ بھی خدمات خانگی پر حضورﷺ کی عدم موجودگی میں مامور رہے۔ بعد وفات موسیٰؑ حضرت ہارونؑ نہیں بلکہ یوشع بن نون اور قالب بن یوقنا خلیفہ ہوئے۔ اسی طرح بعد وفات نبی ابوبکرؓ اور عمرؓ خلیفہ ہوئے۔ گویا یہ حدیث شیعہ کی تردید کر رہی ہے نہ کہ ان کے مدعا کی اس سے تائید ہوتی ہے۔