نقلی دلائل
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہپہلی دلیل: قرآن میں ہے:
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
(سورۃ الکوثر: آیت 2)
ترجمہ: خدا کی نماز ہاتھ باندھ کر پڑھ
نحر کے معنیٰ کتب لغت میں ہاتھ باندھنے کی بھی ہیں چنانچہ علم لغت کی سب سے مستند اور متداول کتاب قاموس جلد اول صفحہ 332 میں باب الراء فصل نون میں ہے نخر الرجل فی الصلوٰۃ انتصب ونھد صدرہ ووضع یمینہ علی شمالہ۔
ترجمہ: نماز میں نحر کا معنیٰ یہ ہے کہ سینہ قبلہ رو سیدھا کر کے یا دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر باندھ کر کھڑا ہو۔
علم لغت سب کے لیے یکساں حجت ہے اس سے کسی کو انکار کی گنجائش نہیں ہے آیت فَصَلِّ میں چونکہ نماز پڑھنا صاف قرینہ موجود ہے اس لیے یہاں نحر (سورہ کوثر میں نحر سے مراد قربانی لینا اس لیے درست نہیں ہے کہ قربانی کا حکم مدینہ طیبہ میں ہوا جیسا کہ سورہ بقرہ مدنی میں لفظ والھدی اور سورہ حج مدنی میں منسکاً کے لفظ سے اس کا حکم ہوا کیونکہ قربانی کا حکم پہلے مکہ میں دوبارہ نازل ہوچکی ہے)
کا معنیٰ یہی ہے کہ داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر ہاتھ باندھے ہوئے نماز پڑھو امام فخر رازی نے تفسیر کبیر جلد 8 صفحہ 712 میں آیت مذکورہ کی تفسیر میں جناب مدینۃ العلم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا یہ قول یوں نقل کیا ہے والاشھر وضعھا علی النحر علی عادۃ الخاشع نہر کا اشہر اور اظہر معنیٰ یہی ہے کہ سینہ پر ہاتھ باندھ کر نماز پڑھے جیسے خشوع خضوع کا طریقہ ہے ایسی تفسیر در منشور معالم التنزیل تنویر المقیاس حسینی وغیرہ اور کتبِ حدیث بخاری ترمذی دارقطنی وغیرہ میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور ابنِ عباسؓ اور دیگر جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی روایت سے یہی معنیٰ لکھا گیا ہے پھر ایسے صریح اور صاف آیت کے ہوتے ہوئے کسی دوسری دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
دوسری دلیل: حضرت موسیٰ علیہ السلام جب کوہِ طور پر خدا کے حضور میں پیش ہوئے تو جوتیاں اتار کر نماز پڑھنے کا حکم ہوا اور طریقِ ادب بھی بتایا گیا اور ارشاد ہوا: وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ الخ
(سورۃ القصص: آیت 32)
اس واقعہ کا قرآنِ کریم میں دو جگہ ذکر ہے سورہ قصص اور سورہ طہٰ میں نماز پڑھنے کا یوں ارشاد ہے:
فَلَمَّاۤ اَتٰٮهَا نُوۡدِىَ يٰمُوۡسٰى
(سورۃ طہٰ: آیت 11)
اِنِّىۡۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخۡلَعۡ نَـعۡلَيۡكَاِنَّكَ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى
(سورۃ طہٰ: آیت 12)
وَاَنَا اخۡتَرۡتُكَ فَاسۡتَمِعۡ لِمَا يُوۡحٰى
(سورۃ طہٰ: آیت 13)
اِنَّنِىۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِىۡ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكۡرِىۡ
(سورۃ طہٰ: آیت 14)
ترجمہ: پھر جب موسیٰ علیہ السلام اس آگ کے پاس آئے تو آواز آئی اے موسیٰ علیہ السلام میں تیرا رب ہوں جوتیاں اتار دے تو ایک پاک وادی میں ہے میں نے تجھے چن لیا تو سن جو وحی کی جاتی ہے میں ہی خدا ہوں میرے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں ہے میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز پڑھ۔
دوسرے موقع پر سورۃ قصص میں اسی واقعہ کا بیان ہوا ہے جہاں عصاء ڈالنے گریبان میں ہاتھ ڈالنے اور اس کے منور ہو کر نکلنے کا بھی ذکر ہے اس جگہ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ بھی مذکور ہے چونکہ بعض آیات بعض کی تفسیر ہوتی ہے اس لیے اگرچہ اس جگہ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ مذکور نہیں ہے لیکن حکماً گویا وہی حکم جہاں بھی موجود ہے اور یہاں نماز میں ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا ہے ضم ایک چیز کو دوسرے ساتھ جمع کرنے کو کہتے ہیں جناح کا معنیٰ ہاتھ ہے جو اسم جنس ہونے کی وجہ سے واحد اور جمع پر اطلاق ہوتا ہے راہب کا معنیٰ عاجزی کا ہے معنیٰ آیت وَّاضۡمُمۡ کا یہ ہے اپنے جسم سے اپنا ہاتھ ضم کرے عاجزانہ شکل بنا کر اس سے ہاتھ کے ضم کرنے کا اور عاجزانہ صورت دکھانے کا تو صریح حکم ثابت ہوتا ہے یہ امر کے داہنے ہاتھ کو بائیں کے اوپر باندھنا چاہیے سوچو کہ داہنا ہاتھ بائیں سے افضل ہے اس لیے بحکم الید العلیا خیر من الید السفلیٰ اوپر کا ہاتھ نچلے سے بہتر ہوتا ہے داہنے کو اوپر اور بائیں کو نیچے رکھنا بھی ثابت ہو گیا ہے۔
ھو المقصود
چونکہ قرآنِ کریم میں دو جگہ صریح حکم موجود ہے کہ نماز ہاتھ باندھ کر پڑھی جائے اور عقل کا تقاضہ بھی یہی ہے اس لیے مزید دلائل کی چندہ ضرورت نہیں ہے لیکن ضدی خصم شیعہ کے لیے ان کی اپنی کتابوں سے بھی استدلال کی ضرورت ہے۔
تیسری دلیل: اس لیے کہ معتبر کتاب فروعِ کافی جلد 1 صفحہ 198 میں ہے:
عن زرارہ قال اذ قامت المراۃ فی الصلوٰۃ جمعت بین قدمیھا ولا تفرج بینھما وتضم یدیھا الی صدرھا لمکان ثدیھا۔
ترجمہ: زرارہ سے روایت ہے کہا جب عورت نماز میں کھڑی ہو اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر رکھے اور ان میں فاصلہ نہ ہو اور دونوں ہاتھ پستانوں کی جگہ پر باندھ لے۔
بعینہٖ یہی روایت علل الشرائع صفحہ 135 اور تہذیب الاحکام جلد 4 صفحہ 161 میں موجود ہے:
پھر جب عورت کو ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے کا صریح حکم کتب شیعہ میں موجود ہے تو مرد کیوں ہاتھ کھول کر نماز پڑھیں کیا صرف عورتوں کے لیے نماز میں تذلل و انکسار کا حکم ہے اور مردوں کے لیے اکڑ کرنے نماز میں فرعونیت دکھانا مطلوب ہے؟ کیا شیعہ اس کا جواب دے سکتے ہیں احکامِ قرآن مردوں اور عورتوں کے لیے عبادت میں یکساں ہیں پھر کس قرآنی دلیل سے عورت کو ہاتھ باندھ کر اور مردوں کو کھول کر نماز پڑھنا ثابت ہے
هَاتُوۡا بُرۡهَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ
(سورۃ البقرہ: آیت 111)
چوتھی دلیل: شیعہ کی کتابوں سے ثابت ہے کہ جناب امیرؓ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے جیسا کہ شیعہ کے معتبر کتاب لمعۃ البیضاء صفحہ 405 میں تصریح ہے تو اس وقت مشکل ہے کہ جناب امیر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ کھول کر نماز پڑھی ہو جبکہ دیگر امور میں بقول شیعہ تقیہ سے اوقات بسر کرتے تھے تو اقتداء ابوبکر رضی اللہ عنہ میں بھی ایسے ہی کرتے ہوں گے پھر شیعہ کو بھی ایسے ہی کرنا چاہیے کہ یہ لوگ قیامت تک تو یہ پر مامور ہیں شیعہ کی معتبر کتاب من لا یحضرہ الفقیہ کتاب الصلوٰۃ میں لکھا ہے کہ شیعہ کو چاہیے کہ اہلِ سنت و الجماعت کے پیچھے تقیہ کر کے نماز پڑھا کریں اس سے ان کو 25 گنا زیادہ ثواب ملتا ہے تو بلاضرورت جو لوگ ہاتھ کھول کر نماز پڑھتے ہیں وہ بھی ثوابِ تقیہ سے محروم رہتے ہیں۔