فصل:....[احوال ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق جھوٹا دعوی] -…

فصل:....[احوال ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق جھوٹا دعوی]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

فصل:....[احوال ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق جھوٹا دعوی]

[اعتراض]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:یہ جھوٹ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر خرچ کیا کرتے تھے، اس لیے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ مال دار نہ تھے۔ آپ کا باپ انتہائی درجہ کا فقیر انسان تھا جو کہ ہر دن چند ٹکڑوں کے عوض عبداللہ بن جدعان کے دستر خوان پر منادی کیا کرتا تھا۔ اگر ابوبکر واقعی مال دار ہوتا تووہ اپنے باپ کی ضرورت پوری کرتا۔

٭ اوریہ کہ ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ عہد جاہلیت میں بچوں کو تعلیم دینے کے لیے ایک پیشہ ور معلم تھے۔ اور اسلام لانے کے بعد درزی کا کام کیا کرتے تھے۔جب آپ مسلمانوں کے ولی الامر بن گئے تو لوگوں نے آپ کو درزی کا کام کرنے سے روک دیا۔ تو آپ کہنے لگے: مجھے تو اپنی روزی کے لیے ضرورت ہے ۔تو اس پر آپ کے لیے بیت المال سے یومیہ تین دراہم وظیفہ مقرر کردیا۔[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]:ہم کہتے ہیں کہ:کسی انسان کا قطعی و متواتر روایات جو کہ خاص و عام کے درمیان مشہور ہوں ؛ اور ان سے کتابیں ‘جیسے : کتب صحاح ‘مسانید؛ تفاسیر؛ فقہ اور فضائل و سیرت کی کتب بھری پڑی ہوں ؛کا انکارکرنا ایک عظیم مصیبت ہے۔اور پھر ایسی روایات کا دعوی کیا جائے جن کا علم محض رافضی دعوی کی بنیاد پر حاصل نہیں ہو سکتا۔اورنہ ہی اسے کسی معروف سند سے نقل کیا گیا ہے ۔ اورنہ ہی اسے کسی معروف اور ثقہ کتاب کی طرف منسوب کیا گیا ہے ۔ اورنہ ہی اسے یہ سمجھ آرہی ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ یہ انسان مخلوق میں سے کسی جاہل ترین انسان سے بھی مناظرہ کرے تو اس کے لیے یہ کہنا بہت آسانی سے ممکن ہوگا کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ [ہم شیعہ مصنف سے پوچھتے ہیں کہ] آخر کس ثقہ یا ضعیف راوی نے کہا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مفلس آدمی تھے؟

پھر اس سے یہ بھی کہا جائے گا کہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اپنا مال خرچ کرنے کے قصے تواتر کے صحیح احادیث میں کئی کئی اسناد سے منقول ہیں ۔حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ مجھے کسی شخص کے مال سے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنافائدہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال سے۔‘‘[سبق تخریجہ]

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:

’’ ہم پر اپنی جان ومال سے لوگوں میں سب سے زیادہ احسان کرنے والے حضرت ابوبکر ہیں ۔‘‘[سبق تخریجہ]

صحیح احادیث میں ثابت ہے کہ اسی مال سے آپ نے حضرت بلال؛ عامر بن فہیرہ اور دیگر سات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خرید کر آزاد کیا ۔

رافضی کا یہ قول کہ : آپ کا باپ ہر دن چند ٹکڑوں کے عوض عبداللہ بن جدعان کے دستر خوان پر منادی کیا کرتا تھا‘‘

[جواب ]:رافضی نے اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی جس سے اس کی صحت کی معرفت حاصل ہوسکے۔اور اگر ایسا ثابت بھی ہوجائے تو اس میں کوئی ضرر والی بات نہیں ۔اس لیے کہ ایسا کیا جانا جاہلیت میں تھا اسلام میں نہیں ۔ اس لیے کہ ابن جدعان کا انتقال اسلام سے پہلے ہوا ہے۔جب کہ عہد اسلام میں ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کے پاس اتنا مال تھا جو ان کی ضرورت پوری کرتا تھا۔ یہ بات ہر گز معلوم نہیں ہوسکی کہ حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے دست نگر رہتے ہوں ۔ اور حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے لمبی زندگی پائی ؛ یہاں تک کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا تو آپ کو ان کی میراث میں سے چھٹا حصہ ملا۔جو کہ آپ نے اولاد ابوبکر رضی اللہ عنہ کوواپس کردیا ‘ اس لیے کہ آپ کے پاس بقدر کفایت مال ہونے کی وجہ سے اس کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ بات معلوم شدہ ہے کہ اگر انہیں کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ضرورآپ کی مدد کرتے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دور کی قرابت کی وجہ سے حضرت مِسْطَح رضی اللہ عنہ کی مالی امداد کیا کرتے تھے۔مسطح بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے واقعہ افک میں کلام کیا تھا۔ توحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھالی کہ وہ آئندہ ان کی مالی امداد نہ کریں گے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی:

﴿وَلَا یَاْتَلِ اُوْلُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوا اُوْلِی الْقُرْبَی وَالْمَسَاکِیْنَ[وَالْمُہَاجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّونَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ] وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ ﴾

(النور:۲۲)   

’’ تم میں سے فارغ البال اشخاص اس بات کی قسم نہ کھالیں کہ وہ اپنے اقارب اور مساکین [ومہاجرین پر خرچ نہیں کریں گے۔ چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر سے کام لیں ، کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں بخش دے]اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘

یہ سن کرحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا:’’ اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت فرمائے، چنانچہ پھر مسطح کی مالی امداد شروع کردی۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث الافک(ح:۴۱۴۱) صحیح مسلم، کتاب التوبۃ ، باب فی حدیث الافک(ح:۲۷۷۰)۔]

سات اشخاص جو غلام تھے، ا سلام کے جرم میں ان کو پیٹا جاتا تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو خرید کر آزاد کردیا۔[مستدرک حاکم(۳؍۲۸۴)، سیرۃ ابن ہشام(ص:۱۴۷)]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہجرت کی تو[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس] جتنا مال تھا سب ساتھ لے لیا۔[سیرۃ ابن ہشام(ص:۲۲۵)ایک قول کے مطابق آپ کے پاس اس وقت چھ ہزار درہم تھے۔ آپ اس مال سے تجارت کیا کرتے تھے۔]

حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ آئے اور پوچھنے لگے : ابوبکرخود تو چلا گیا‘ کیا اس نے اپنا مال تمہارے لیے چھوڑا ہے یا اسے بھی ساتھ لے گیا؟حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کہا: نہیں آپ مال چھوڑ گئے ہیں ۔اور میں نے ایک کونے میں کوئی چیز رکھ کر ان سے کہا: ان کا مال یہ پڑا ہوا ہے۔‘‘تاکہ آپ کا دل مطمئن ہوجائے کہ آپ اپنے عیال کے لیے کچھ چھوڑ کر گئے ہیں ۔ ابو قحافہ رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کسی بھی چیز کا مطالبہ نہیں کیا۔یہ تمام باتیں دلالت کرتی ہیں کہ آپ مالدار انسان تھے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اورپیشہء معلمی ؟:

صفحہ 1 از 5