Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عہدِ نبوتﷺ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سالارانہ خدمات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

سوال نمبر 429: عہدِ نبویﷺ میں حضرت عمرؓ کو کس کس جنگ میں امیرِ لشکر مقرر کیا گیا؟

جواب: 1: تاریخِ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی جلد 1 صفحہ 174 میں ہے۔

خیبر سے مدینہ واپس پہنچ کر آپﷺ‏ نے ان تمام قبائل کی طرف جو مسلمانوں کی بیخ کنی کی کوششوں میں اور سازشوں میں لگے ہوئے تھے۔ ایک ایک دستہ فوج ادب آموزی اور رعب قائم کرنے کے لیے روانہ کیا تاکہ کوئی بڑی بغاوت اور خطرناک سازش سرزد نہ ہونے پائے چنانچہ نجد کے قبیلہ فزارہ کی طرف حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت سلمہ بن الاکوعؓ کو اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ روانہ کیے گئے۔ قوم ہوازن کی طرف حضرت عمر فاروقؓ کو تیس سواروں کے ساتھ روانہ کیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کو 30 شتر سواروں کے ہمراہ بشیر بن دارام یہودی کی گرفتاری کے لیے بھیجا گیا۔ یہ تمام فوجی دستے کامیاب و فتح مند واپس ہوئے اور ہر جگہ مسلمانوں کو فتح و کامیابی نصیب ہوئی۔

2: تاریخِ اسلام ندوی جلد 1 صفحہ 65 میں ہے: اس کے علاوہ سنہ 6 ہجری میں سریۂ عکاشہ بن محصنؓ، و سریہ سیدنا علیؓ بن ابی طالب سنہ 7ھ میں، سریۂ سیدنا عمرؓ بن خطاب سنہ 8ھ میں، سریہ کعب بن عمروؓ چھوٹے چھوٹے سرایا مختلف سمتوں میں دشمنوں کی خبر سن کر بھیجے گئے۔ (جو کامیاب واپس آئے)

3: تاریخِ اسلام نجیب آبادی فتح مکہ کے حال میں صفحہ 183 میں ہے۔ ادھر آنحضرتﷺ‏ نے حضرت عمر فاروقؓ کو ایک دستہ فوج دے کر طلایہ گردی پر مامور فرمایا تھا کہ دشمن شب خون نہ مار سکے۔

4: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قبیلہ میں صدقہ اور زکوٰۃ کے مُحصِّل مقرر فرمائے۔ عموماً ہر قبیلہ کے سردار کو یہ منصب سپرد ہوتا تھا۔ پھر 24 افسروں کی فہرست میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا نام ہے جو مرکزِ اسلام مدینہ والوں کے ڈپٹی کلکٹر اور محصِّل زکوٰۃ تھے۔ (تاریخِ اسلام ندوی: جلد، 1 صفحہ، 81)

5: غزوۂ بنو المصطلق کا واقعہ گزر چکا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سپہ سالار تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ مقدمتہ الجیش تھے خوب فتح ہوئی۔

6: خیبر کی جنگ میں امیرِ لشکر بنائے جانے کا سائل نے خود ذکر کیا ہے۔ طبری جلد 3 صفحہ 12 میں ہے: کہ رسول اللہﷺ جب خیبر میں اترے تو آدھے سر کے درد میں بیمار ہوئے لوگوں کے پاس نہ آئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، رسول اللہﷺ کا جھنڈا لے کر اٹھے فقاتل قتالا شدیدا خوب جنگ کی پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لیا تو انہوں نے بھی پہلی جنگ سے زیادہ سخت جنگ لڑی پھر واپس آئے۔

فتح و نصرت تو مقدر سے ہے غالب 

مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا

7: شیعہ کی حیات القلوب جلد 2 صفحہ 447 میں ہے کہ غزوۂ ذات السلاسل میں چار ہزار مہاجرین و انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین پر حضرت ابوبکر صدیقؓ پھر حضرت عمر فاروقؓ کو امیر بنایا۔ طبری جلد 3 صفحہ 31، 32 پر اس کا ذکر ہے۔

سوال نمبر 430: کیا کبھی حضرت علیؓ کو حضرت عمرؓ کے ماتحت حضورﷺ نے کیا؟

جواب: اس سوال سے تکبر اور نفاق کی بو آتی ہے جیسے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری اور پھر آخر حیاتِ نبویﷺ میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی سپہ سالاری پر کچھ لوگوں کو اعتراض تھا۔ آپﷺ نے ان کو سرزنش فرمائی اسی طرح اگر حضرت علی المرتضیٰؓ پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سردار مانا جائے تو شیعہ طعن کریں گے۔ حالانکہ اصحابِؓ رسولﷺ‏ ایک دوسرے پر مہربان اور بھائی بھائی تھے۔ حکمِ رسولﷺ سے کوئی کسی کے ماتحتی میں آنے کو عار اور ذلت نہ جانتا تھا۔ حضرت عمرو بن العاصؓ اور حضرت ابو عبیدۃ بن الجراحؓ کی ماتحتی میں شیخینؓ بھی روانہ کیے گئے ہمیں تو کبھی طعن نہ سوجھا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امارت میں سب مسلمانوں کے ساتھ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حج کیا۔ مرضِ وفاتِ پیغمبرﷺ میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے پیچھے نمازیں پڑھیں۔ پھر حضرت عمرؓ کے ماتحت شورٰی کے ممبر، عدلیہ کے قاضی اور کبھی نائب خلیفہ رہے۔ اب اگر کسی جنگ میں صریح ماتحتی کا ذکر نہ ملے تو شیخینؓ سے افضلیت کی یا ان کے نا اہل ہونے کی کیا دلیل بن جائے گی؟

*سوال نمبر 431 تا 434:* صحیح مسلم میں حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ حضرت علیؓ نے (معاذ اللہ) حضرت ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو آثم، خائن، غادر اور کاذب جانا۔ کیا سیدنا حیدرِ کرارؓ پر آپ کو اعتبار ہے؟

*جواب:* یقیناً اعتبار ہے۔ لیکن کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ باپ کی طرح حضور اکرمﷺ‏ کے محترم خسر اور قدیم ساتھیوں کو گالیاں دیتے تھے؟ حدیث کا مطلب بالکل غلط سمجھا گیا ہے اور جملہ استفہامیہ کو خبر بنا کر شیعوں نے حضرت علی المرتضیٰؓ پر بہتان باندھا اور دل کی بھڑاس نکالی ہے۔ پہلے اصل حدیث ملاحظہ فرما لیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کو حضرت عمرؓ نے صدقاتِ مدینہ، فدک و مالِ فَے کا متولی بنا دیا تھا کہ غرباء اور بنو ہاشم وغیرہ مدّات میں تقسیم کریں۔ اختلافِ مزاج کی وجہ سے ان کا اختلاف ہوا اور حضرت عمر فاروقؓ سے تقسیم چاہی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا کہ تم نے ان سے مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے تقسیم نہ کی۔ پھر میں والی ہوا میں بھی تقسیم نہیں کرتا۔ مگر تم اصرار کرتے ہو۔ کیا تم نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو کاذب، آثم، غادر اور خائن جانا؟ حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ وہ یقیناً سچے، نیک، خیر خواہ اور حق کے تابعدار تھے۔ سیدنا ابوبکرؓ کی وفات کے بعد میں رسول اللہﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جانشین بنا۔ کیا تم نے مجھے کاذب، آثم، غادر، خائن خیال کیا حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ میں یقیناً سچا، نیک، خیر خواہ اور حق کا تابعدار ہوں۔ میں نے تم کو متولی بنایا۔ پھر تم دونوں ایک پروگرام بنا کر آ گئے اور کہتے تھے کہ ہمارے حوالے کر دو۔ میں نے کہا اگر تم چاہو تو میں اس شرط پر حوالے کرتا ہوں کہ تم خدا کا وعدہ دے کر کہو کہ تم ان میں وہی عمل کرو گے جو رسول اللہﷺ کرتے تھے تم نے وعدہ کیا۔ کیا ایسا ہی ہے؟ تو دونوں نے کہا: جی ہاں۔ الخ۔ (مسلم: جلد، 2 صفحہ، 91)

اس کا جواب یہ ہے: 1: کہ حرفِ استفہام محذوف ہے افرءیتما (کیا تم نے خیال کیا) یعنی ایسا خیال تو تم حضرت ابوبکر صدیقؓ اور میرے بارے میں نہیں سوچ سکتے تو پھر ہمارے فیصلے اور تولیت پر راضی کیوں نہیں؟ یہ حذف عربوں کا محاورہ ہے۔ جیسے سورۃ انعام میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے میں تین دفعہ آیا ہے اور استفہام محذوف ہے۔ ھٰذا ربی۔ یہ میرا رب ہے؟ یعنی تمہارے خیال میں یہ سورج، چاند، ستارہ میرا رب ہے۔

شیعہ ترجمہ مقبول یہ ہے: کیا میرا پروردگار یہی ہے؟ آیا یہ میرا رب ہے؟ آیا یہ میرا پروردگار ہے؟

جیسے یہاں حذف ماننے سے کلام صحیح ہو گا اسی طرح حدیث میں ہمزہ سوالیہ حذف ماننے سے کلام سچا ثابت ہو گا۔ تمہارے عقیدہ میں میَں اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کاذب، آثم، غادر اور خائن تو نہیں ہیں؟

2: استفہام کبھی ادات استعمال کرنے سے ہوتا ہے کبھی اندازِ کلام اور لب و لہجہ کے اونچ نیچ سے ہوتا ہے۔ مخاطب سمجھ جاتا ہے مگر دوسرے کو محسوس نہیں ہوتا اور کتابت میں تو بالکل نہیں آتا اور اردو میں اس کی کئی مثالیں مل سکتی ہیں۔ جیسے کوئی شخص باپ سے جھگڑے تو دیکھنے والا کہتا ہے باپ کا یہ ادب ہے؟ یعنی کیا باپ کا یہی احترام ہوتا ہے؟ تو اسی طرح مثالِ بالا میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا تم مجھے اور سیدنا ابوبکرؓ کو ایسا ویسا سمجھتے ہو؟ جو مطمئن نہیں ہوتے۔ اس کی مثال یوں بھی سمجھو کہ اپنے روز مرہ کے دکان دار سے دو تین بار کہو کہ اچھی چیز دو تو وہ جھلا کر کہے تم مجھے دھوکہ باز اور خائن جانتے ہو یعنی ایسا ہرگز نہ جانو مجھ پر اعتماد کرو۔

3: بعض دفعہ مبالغۃً بظاہر ایسے لفظ فقط بول دیتے ہیں حقیقۃً اعتقاد ایسا نہیں ہوتا جیسے اقارب و احباب سے جب کوئی بے اعتنائی ظہور میں آتی ہے تو وہ مبالغۃً یہ کہہ دیا کرتے ہیں کیا تم مجھ کو اپنا بھائی یا دوست نہیں سمجھتے حالانکہ دل میں ان کی محبت مرکوز ہوتی ہے اسی طرح حضرت عمر فاروقؓ نے جب یہ دیکھا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے کلام سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ سے رنج اور آزردگی کی بو آتی ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بطورِ شکوہ محبانہ اور مخلصانہ عتاب آمیز لہجہ میں مبالغۃً یہ فرمایا کہ کیا تم دونوں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو (اور مجھے) کاذب و خائن وغیرہ سمجھتے ہو۔ واللہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ تو بار راشد اور تابع حق تھے حالانکہ سیدنا عمر فاروقؓ کو یقین تھا کہ حضرت علی المرتضیٰؓ اور سیدنا عباسؓ کے دل میں حضرت صدیقِ اکبرؓ کی محبت ایسی پختہ اور راسخ ہے کہ کسی طرح بھی نکالے نہیں نکل سکتی۔ اسی لیے زبان سے ایسے کلمات کا نکالنا جن سے رنج اور آزردگی مرشح ہوتی ہے محبِّ صادق کی شان کے مناسب نہیں۔ (از افادات مولانا ادریس کاندھلویؒ)

حاصل جواب یہ نکلا کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا عتاب کے رنگ میں سوالیہ کلام ہے ۔اس بات کی خبر نہیں ہے کہ واقعی حضرت عباس و حضرت علی رضی اللہ عنہما نے شیخینؓ کو ایسا جانا۔ جب سیدنا علی المرتضیٰؓ و سیدنا عباسؓ نے ایک دفعہ بھی ایسا کبھی نہ کہا تو اب ان الفاظ کو بہانہ بنا کر حضرت علی المرتضیٰؓ کا مقولہ بنا لینا اور شیخینؓ کو گالیاں دینا کسی مسلمان کی شان نہیں ہے۔

*سوال نمبر 435:* حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بنو ہاشم کے کس فرد کو کلیدی عہدہ دیا؟

*جواب:* حضرت علی المرتضیٰؓ کو مرکز میں وزیرِ اوقاف و مالیات بنایا۔ (بخاری، مسلم) مشیرِ خاص بنایا۔ (کنز العمال: جلد، 3 صفحہ، 134) قاضی اور مفتی بھی بنایا۔ (الفاروقؓ: صفحہ، 343) غیر موجودگی میں نائب خلیفہ بنایا۔ (فتوح البلدان: صفحہ، 14)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنا خاص مشیر بنایا۔ دلیل وہ مشہور روایت ہے کہ جب حضرت عمر فاروقؓ سیدنا ابنِ عباسؓ کو مجلسِ شورٰی میں اپنے قریب ترین بٹھاتے تھے تو بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے وجہ پوچھنے پر حضرت ابنِ عباسؓ سے سورت النصر کی تفسیر پوچھی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مطمئن ہو گئے۔ (کتبِ صحاح)

*سوال نمبر 436:* انصار میں سے کن کن اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم کو گورنر بنایا؟

*جواب:* اس سوال کا آپ کو حق نہیں۔ کیونکہ آپ انصار کو مانتے ہی نہیں۔ کیونکہ ان کو پہلے اجتماع ہی سے شیعہ کی فرضی امامت دفن ہو گئی تھی۔ تو پھر ان کے عہدہ پانے سے آپ کیسے خوش ہوں گے بجز اس کے کہ عہدہ دینے نہ دینے دونوں صورتوں میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر طعن اور تشنیع کر کے نامہ اعمال سیاہ کریں۔ چند حضرات کے نام یہ ہیں: 

1: حضرت معاذ بن جبلؓ (علم الامتہ بالحلال والحرام) حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کے بعد شام کے گورنر تھے۔ 18ھ میں طاعون عمواس میں شہادت پائی۔ حضرت عمر فاروقؓ فرماتے تھے۔ اگر میں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو زندہ پاتا تو اپنے بعد خلیفہ بناتا۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 4 صفحہ، 234)

2: سیدنا سعدؓ بن عبید النعمان (جو سیدنا سعدؓ قاری کے نام سے مشہور انصاری ہیں) کہ بیٹے سیدنا عمیر بن سعدؓ کو شام کے ایک حصے کا والی بنایا تھا۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 4 صفحہ، 42)

3: سیدنا ابو عبس بن حبیر بن عمرو بن زیدؓ ان کو حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر رضی اللہ عنہما عاملِ صدقات بناتے تھے۔ (ابنِ سعد: جلد، 4 صفحہ، 37)

4: حضرت ابی بن کعبؓ نے ایک دفعہ گورنری کا عہدہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہارے دین کو آلودہ کرنا پسند نہیں کرتا۔ یہیں نبویﷺ‏ پالیسی تھی کہ حنین وغیرہ کے کثیر غنائم مؤلفۃ القلوب کو دیئے مگر انصار رضی اللہ عنہم کو نہ دیئے۔ یہی مزاج انصار کا بن گیا تھا چنانچہ ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروقؓ سے حاجت طلب کی تو سفید معزز لباس میں پاس بیٹھے ہوئے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: دنیا میں ہماری کفایت اور آخرت تک ہمارا توشہ وہ اعمال ہیں جن کی ہمیں آخرت میں جزاء دی جائے گی۔ اس نے پوچھا یہ کون ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ سید المسلمین حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں انصار کا یہی وہ ذہن ہے اور ان کے بزرگوں کی پالیسی ہے جس کی وجہ سے انصار رضی اللہ عنہم نے عہدے کم پائے۔ (ابنِ سعد: جلد، 4 صفحہ، 70) 

4: سیدنا خلاد بن سوید بن ثعلبہ بن عمرو انصاری کو سیدنا عمر فاروقؓ نے یمن کا عامل بنایا تھا۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 4 صفحہ، 91)

6: حضرت سہل رضی اللہ عنہ بن حنیف جن کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عقد مواخات ہوا تھا اور دورِ مرتضویؓ کے گورنر تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مشیر تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے میرے لیے سیدنا سہل بے غم (رضی اللہ عنہ) کو بلاؤ۔ (طبقات ابنِ سعد)

*سوال نمبر 437:* سوال 395 میں ہم نے سورۃ محمد کی دو آیات نقل کی ہیں ان کو پھر دیکھ کر اس حدیث کا مطلب سمجھائیں کہ حضور اکرمﷺ‏ نے سیدنا ابوبکر سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھ کر فرمایا: ان ھذان السمع و البصر (ترمذی) 

کہ یہ دونوں (میری) شنوائی اور بینائی ہیں۔ 

کیا یہ حدیث قرآن کے مطابق ہے یا مخالف؟

*جواب:* سورۃ محمد کی محولہ آیات کا تو سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے دَور سے کچھ تعلق نہیں ہاں دیگر آیات میں شیخینؓ کی فضیلت اور خلافت کا ثبوت موجود ہے تو یہ حدیث مطابقِ قرآن ہے اس میں حضور اقدسﷺ یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ میں ان کے مشوروں سے کسی صورت مستغنی نہیں جیسے کوئی شخص اپنے کانوں اور آنکھوں سے مستغنی ہو سکتا۔ آپﷺ‏ کی سب زندگی ان کو مقرب مشیر اور وزیر بنانے اور ان کے مشوروں کو اور تجاویز پر عمل پیرا ہونے کے واقعات سے پُر ہے۔ جنگِ احد میں شہر میں مورچہ بند ہو کر لڑنے کا مشورہ انہوں نے دیا تھا آپﷺ‏ کو بھی پسند آیا مگر بدر میں غیر حاضر بعض نوجوانوں کے اصرار سے کھلے میدان میں جنگ لڑی گئی جنگِ بدر میں قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑنے کا مشورہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔ عمل اس پر ہوا۔ مگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ قتل و تشدد کا جو مشورہ دیا تھا۔ انفال کی آیاتِ کریمہ اس کے حق میں نازل ہوئیں۔

*سوال نمبر 438:* تاریخ الخلفاء صفحہ 92 میں ہے: اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب موجود نہ ہوتے اور پیچیدہ معاملات در پیش آتے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہمیشہ گھبرایا کرتے تھے کیسے سیدنا فاروقؓ تھے؟

*جواب:* حوالہ اور مضمون دونوں غلط ہیں تاریخ الخلفاء صفحہ 131 حضرت علی المرتضیٰؓ کے فضائل والی احادیث میں حضرت عمر فاروقؓ کے متعلق لکھا ہے: کہ وہ ایسے مشکل مسئلہ سے پناہ مانگتے تھے جس کے لیے سیدنا ابو الحسنؓ نہ ہوں اور دوسری روایت یہ ہے: کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سیدنا علی المرتضیٰؓ ہمارے سب سے اچھے قاضی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ حضرت علی المرتضیٰؓ کی فہم و فراست نیک نیتی سے حکومتی کاموں میں تعاون اور بہترین خدمات کا اعتراف کرتے ہیں اور آپؓ کی اہمیت اور فضیلت نمایاں کر رہے ہیں جیسے خود حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل اور خدمات کا اقرار کرتے تھے کئی احادیث گزر چکی ہیں اور کچھ بعد میں آئیں گی۔ دراصل یہ بھائی بھائی تھے۔ ہر بھائی دوسرے کو اپنے سے اچھا جتلاتا تھا۔ یہ شاگردانِؓ محمدﷺ‏ آپس میں کوئی حسد و بغض نہ رکھتے تھے بلکہ بنصِ قرآنی خلیق، مہربان اور ایک دوسرے کو اپنے اوپر ترجیح دیتے تھے اور یہی کمالِ تقویٰ ہے اب ایک رافضی کا گھٹیا ذہن سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اس عقیدت مندی کو تنقیصِ سیدنا عمر فاروقؓ اور افضلیتِ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے لیے استعمال کرنا۔ یا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عقیدت مندی منسوب کرنے کے بجائے گالیوں اور بہتانات کی نسبت کرنا اپنے ایمان سے ہاتھ دھونا ہے اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو انسانیت اور شرافت سے عاری جتلانا ہے۔ (معاذ اللہ)

*سوال نمبر 439:* حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ معاملہ فہم ہیں۔ کیا ہم سب میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ شامل نہیں؟

*جواب:* اس کا جواب بھی سابقہ کا تحریر سے ہو گیا کہ حضرت علی المرتضیٰؓ حضرت عمر فاروقؓ تو ایک دوسرے کے رفیقِ کار معاملہ فہم ہمارے اور پاسبانِ شریعت ہیں۔ مگر ان میں دشمنی جتلانے والا رافضی اپنی حسد کی لگائی ہوئی آگ میں جل رہا ہے۔