عہدِ نبوتﷺ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سالارانہ خدمات -…

عہدِ نبوتﷺ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سالارانہ خدمات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 3

سوال نمبر 429: عہدِ نبویﷺ میں حضرت عمرؓ کو کس کس جنگ میں امیرِ لشکر مقرر کیا گیا؟

جواب: 1: تاریخِ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی جلد 1 صفحہ 174 میں ہے۔

خیبر سے مدینہ واپس پہنچ کر آپﷺ‏ نے ان تمام قبائل کی طرف جو مسلمانوں کی بیخ کنی کی کوششوں میں اور سازشوں میں لگے ہوئے تھے۔ ایک ایک دستہ فوج ادب آموزی اور رعب قائم کرنے کے لیے روانہ کیا تاکہ کوئی بڑی بغاوت اور خطرناک سازش سرزد نہ ہونے پائے چنانچہ نجد کے قبیلہ فزارہ کی طرف حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت سلمہ بن الاکوعؓ کو اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ روانہ کیے گئے۔ قوم ہوازن کی طرف حضرت عمر فاروقؓ کو تیس سواروں کے ساتھ روانہ کیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کو 30 شتر سواروں کے ہمراہ بشیر بن دارام یہودی کی گرفتاری کے لیے بھیجا گیا۔ یہ تمام فوجی دستے کامیاب و فتح مند واپس ہوئے اور ہر جگہ مسلمانوں کو فتح و کامیابی نصیب ہوئی۔

2: تاریخِ اسلام ندوی جلد 1 صفحہ 65 میں ہے: اس کے علاوہ سنہ 6 ہجری میں سریۂ عکاشہ بن محصنؓ، و سریہ سیدنا علیؓ بن ابی طالب سنہ 7ھ میں، سریۂ سیدنا عمرؓ بن خطاب سنہ 8ھ میں، سریہ کعب بن عمروؓ چھوٹے چھوٹے سرایا مختلف سمتوں میں دشمنوں کی خبر سن کر بھیجے گئے۔ (جو کامیاب واپس آئے)

3: تاریخِ اسلام نجیب آبادی فتح مکہ کے حال میں صفحہ 183 میں ہے۔ ادھر آنحضرتﷺ‏ نے حضرت عمر فاروقؓ کو ایک دستہ فوج دے کر طلایہ گردی پر مامور فرمایا تھا کہ دشمن شب خون نہ مار سکے۔

4: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قبیلہ میں صدقہ اور زکوٰۃ کے مُحصِّل مقرر فرمائے۔ عموماً ہر قبیلہ کے سردار کو یہ منصب سپرد ہوتا تھا۔ پھر 24 افسروں کی فہرست میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا نام ہے جو مرکزِ اسلام مدینہ والوں کے ڈپٹی کلکٹر اور محصِّل زکوٰۃ تھے۔ (تاریخِ اسلام ندوی: جلد، 1 صفحہ، 81)

5: غزوۂ بنو المصطلق کا واقعہ گزر چکا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سپہ سالار تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ مقدمتہ الجیش تھے خوب فتح ہوئی۔

6: خیبر کی جنگ میں امیرِ لشکر بنائے جانے کا سائل نے خود ذکر کیا ہے۔ طبری جلد 3 صفحہ 12 میں ہے: کہ رسول اللہﷺ جب خیبر میں اترے تو آدھے سر کے درد میں بیمار ہوئے لوگوں کے پاس نہ آئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، رسول اللہﷺ کا جھنڈا لے کر اٹھے فقاتل قتالا شدیدا خوب جنگ کی پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لیا تو انہوں نے بھی پہلی جنگ سے زیادہ سخت جنگ لڑی پھر واپس آئے۔

فتح و نصرت تو مقدر سے ہے غالب 

مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا

7: شیعہ کی حیات القلوب جلد 2 صفحہ 447 میں ہے کہ غزوۂ ذات السلاسل میں چار ہزار مہاجرین و انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین پر حضرت ابوبکر صدیقؓ پھر حضرت عمر فاروقؓ کو امیر بنایا۔ طبری جلد 3 صفحہ 31، 32 پر اس کا ذکر ہے۔

سوال نمبر 430: کیا کبھی حضرت علیؓ کو حضرت عمرؓ کے ماتحت حضورﷺ نے کیا؟

جواب: اس سوال سے تکبر اور نفاق کی بو آتی ہے جیسے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری اور پھر آخر حیاتِ نبویﷺ میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی سپہ سالاری پر کچھ لوگوں کو اعتراض تھا۔ آپﷺ نے ان کو سرزنش فرمائی اسی طرح اگر حضرت علی المرتضیٰؓ پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سردار مانا جائے تو شیعہ طعن کریں گے۔ حالانکہ اصحابِؓ رسولﷺ‏ ایک دوسرے پر مہربان اور بھائی بھائی تھے۔ حکمِ رسولﷺ سے کوئی کسی کے ماتحتی میں آنے کو عار اور ذلت نہ جانتا تھا۔ حضرت عمرو بن العاصؓ اور حضرت ابو عبیدۃ بن الجراحؓ کی ماتحتی میں شیخینؓ بھی روانہ کیے گئے ہمیں تو کبھی طعن نہ سوجھا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امارت میں سب مسلمانوں کے ساتھ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حج کیا۔ مرضِ وفاتِ پیغمبرﷺ میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے پیچھے نمازیں پڑھیں۔ پھر حضرت عمرؓ کے ماتحت شورٰی کے ممبر، عدلیہ کے قاضی اور کبھی نائب خلیفہ رہے۔ اب اگر کسی جنگ میں صریح ماتحتی کا ذکر نہ ملے تو شیخینؓ سے افضلیت کی یا ان کے نا اہل ہونے کی کیا دلیل بن جائے گی؟

*سوال نمبر 431 تا 434:* صحیح مسلم میں حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ حضرت علیؓ نے (معاذ اللہ) حضرت ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو آثم، خائن، غادر اور کاذب جانا۔ کیا سیدنا حیدرِ کرارؓ پر آپ کو اعتبار ہے؟

*جواب:* یقیناً اعتبار ہے۔ لیکن کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ باپ کی طرح حضور اکرمﷺ‏ کے محترم خسر اور قدیم ساتھیوں کو گالیاں دیتے تھے؟ حدیث کا مطلب بالکل غلط سمجھا گیا ہے اور جملہ استفہامیہ کو خبر بنا کر شیعوں نے حضرت علی المرتضیٰؓ پر بہتان باندھا اور دل کی بھڑاس نکالی ہے۔ پہلے اصل حدیث ملاحظہ فرما لیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کو حضرت عمرؓ نے صدقاتِ مدینہ، فدک و مالِ فَے کا متولی بنا دیا تھا کہ غرباء اور بنو ہاشم وغیرہ مدّات میں تقسیم کریں۔ اختلافِ مزاج کی وجہ سے ان کا اختلاف ہوا اور حضرت عمر فاروقؓ سے تقسیم چاہی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا کہ تم نے ان سے مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے تقسیم نہ کی۔ پھر میں والی ہوا میں بھی تقسیم نہیں کرتا۔ مگر تم اصرار کرتے ہو۔ کیا تم نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو کاذب، آثم، غادر اور خائن جانا؟ حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ وہ یقیناً سچے، نیک، خیر خواہ اور حق کے تابعدار تھے۔ سیدنا ابوبکرؓ کی وفات کے بعد میں رسول اللہﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جانشین بنا۔ کیا تم نے مجھے کاذب، آثم، غادر، خائن خیال کیا حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ میں یقیناً سچا، نیک، خیر خواہ اور حق کا تابعدار ہوں۔ میں نے تم کو متولی بنایا۔ پھر تم دونوں ایک پروگرام بنا کر آ گئے اور کہتے تھے کہ ہمارے حوالے کر دو۔ میں نے کہا اگر تم چاہو تو میں اس شرط پر حوالے کرتا ہوں کہ تم خدا کا وعدہ دے کر کہو کہ تم ان میں وہی عمل کرو گے جو رسول اللہﷺ کرتے تھے تم نے وعدہ کیا۔ کیا ایسا ہی ہے؟ تو دونوں نے کہا: جی ہاں۔ الخ۔ (مسلم: جلد، 2 صفحہ، 91)

صفحہ 1 از 3