امیر المؤمنین سیدنا علیؓ کی طرف منسوب ہے:
"میں وہ ہوں کہ میری ولایت کے بغیر اعمال قبول نہیں ہوتے، اور میری محبت کے بغیر نیکیاں فائدہ نہیں دیتیں۔"
اسلامی شریعت نے توحید کے اصول کو واضح طور پر قائم کیا ہے، اور توحید سے مراد یہ ہے کہ اللہ عزوجل کو ربوبیت، الوہیت اور ان مخصوص صفات میں، جو صرف اسی کے ساتھ خاص ہیں، یکتا مانا جائے۔ لہٰذا اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ مختص کسی چیز کو، خواہ نفع ہو، نقصان ہو یا اعمال کی قبولیت، کسی دوسرے کی طرف منسوب کرنا اس بنیادی اصولِ توحید کے منافی ہے۔
مذکورہ قول اور عقیدۂ توحید میں تعارض:
تصویر میں موجود منسوب قول کا اسلامی عقیدۂ توحید کے ساتھ تعارض کئی پہلوؤں سے واضح ہوتا ہے، اور یہ بات شرعی اصولوں کی روشنی میں سامنے آتی ہے:
1: اعمال کی قبولیت کے لیے اخلاص شرط ہے
اسلام میں اعمال کی قبولیت اللّٰہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کے ساتھ مشروط ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ۞ (سورۃ البينة: آیت 5)
ترجمہ:اور انہیں اس کے سوا کوئی اور حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت اس طرح کریں کہ بندگی کو بالکل یکسو ہو کر صرف اسی کے لیے خاص رکھیں،
لہٰذا کسی انسان کی ولایت یا اس کی رضامندی کو عمل کی قبولیت کا لازمی معیار قرار دینا، اس معاملے میں اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک قرار دینے کے مترادف ہے۔
2: ثواب اور عذاب کی تقسیم
ثواب و جزا کو کسی مخصوص شخص کی محبت یا ولایت تک محدود قرار دینا، خواہ اس شخص کا مقام کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو، قرآن کریم کی اس تعلیم سے متصادم ہے کہ قیامت کے دن حساب انسان کے ایمان، اس کے اعمال اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مطابق ہوگا۔
اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
كُلُّ نَفۡسٍ بِمَا كَسَبَتۡ رَهِيۡنَةٌ ۞ (سورۃ المدثر آیت 38)
ترجمہ: ہر شخص اپنے کرتوت کی وجہ سے گروی رکھا ہوا ہے۔
3: مذموم غلو
شریعت میں صالحین اور اہلِ بیتؓ سے محبت میں اس حد تک غلو کرنے سے منع کیا گیا ہے کہ انہیں معبود یا مخلوق کے معاملات کی تدبیر میں اللہ تعالیٰ کے شریک کے مرتبے تک پہنچا دیا جائے۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے کہ انہوں نے فرمایا:
"دو قسم کے لوگ میری وجہ سے ہلاک ہوں گے: ایک وہ جو مجھ سے محبت میں غلو کرے گا، اور دوسرا وہ جو مجھ سے بغض رکھنے والا ہوگا۔"
یہ قول نہج البلاغہ میں منقول ہے۔
4: اس قول کا ماخذ
مذکورہ قول کتاب "مشارق أنوار اليقين" سے لیا گیا ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جس پر اہلِ علم نے نقد کیا ہے، کیونکہ اس میں ایسی روایات بھی موجود ہیں جو نبی کریمﷺ اور اہلِ بیتؓ اطہار کے مقام و مرتبے کے شایانِ شان نہیں ہیں۔