حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہونے والی قرآنی آیات
علی محمد محمد الصلابیاگر نبوی معاشرہ میں کوئی نیا واقعہ پیش آجاتا تو رسول اللہﷺ پر قرآن کا نزول ہوتا اور آپ اس کا حل پیش کرتے، کسی کام کی تعریف کرتے، کسی قوم و جماعت کو سراہتے اور کسی کو ڈراتے، اگر خامیاں و غلطیاں ہو جاتیں تو ان سے خبردار کرتے، چنانچہ اس بارے میں چند ایسی آیات نازل ہوئیں جن کے اثرات سے امیرالمؤمنین علیؓ اور بعض دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی زندگیوں میں عمدہ نقوش دیکھنے کو ملے، انھیں آیات میں سے چند ایک کا ذکر کیا جارہا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
هٰذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِىۡ رَبِّهِمۡ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍيُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُ۞ يُصۡهَرُ بِهٖ مَا فِىۡ بُطُوۡنِهِمۡ وَالۡجُلُوۡدُ۞ وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ ۞ كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ۞ اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ وَّلُـؤۡلُـؤًا ؕ وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ۞(سورۃ الحج آیت 19 تا 23)
ترجمہ: یہ (مومن اور کافر) دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں ایک دوسرے سے جھگڑا کیا ہے۔ اب (اس کا فیصلہ اس طرح ہوگا کہ) جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے، ان کے لیے آگ کے کپڑے تراشے جائیں گے، ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی چھوڑا جائے گا۔ جس سے ان کے پیٹ کے اندر کی چیزیں اور کھالیں گل جائیں گی۔ اور ان کے لیے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے۔ جب کبھی تکلیف سے تنگ آ کر وہ اس سے نکلنا چاہیں گے تو انہیں پھر اسی میں لوٹا دیا جائے گا، کہ چکھو جلتی آگ کا مزہ۔ (دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک کام کیے ہیں، اللہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے سجایا جائے گا، اور جہاں ان کا لباس ریشم ہوگا۔
اس آیت کے بارے میں حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں سب سے پہلے (یعنی مجاہدین میں سے) اپنے رب کے سامنے دوزانوں فیصلہ کے لیے بیٹھوں گا۔ قیس بن عبادہ نے بیان کیا کہ هَـٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ انھیں حضرات حمزہ، علی، عبیدہ، یا ابوعبیدہ بن الحارث رضی اللہ عنہم کے بارے میں نازل ہوئی؟ بیان کیا کہ یہ وہی ہیں جو بدر کی لڑائی میں مبارزت کے لیے تنہا تنہا نکلے تھے۔ حمزہ، علی، عبیدہ یا ابوعبیدہ بن الحارث رضی اللہ عنہم (مسلمانوں کی طرف سے) اور شیبہ بن ربیعہ، عتبہ اور ولید بن عتبہ (کفار قریش کی طرف سے)۔
(بخاری: رقم الحدیث: 3965۔)
منجملہ دیگر لوگوں کے آپ کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:
فَمَنۡ حَآجَّكَ فِيۡهِ مِنۡ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَاَبۡنَآءَكُمۡ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمۡ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَكُمۡ ثُمَّ نَبۡتَهِلۡ فَنَجۡعَل لَّعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَى الۡكٰذِبِيۡنَ۞(سورۃ آل عمران آیت 61)
ترجمہ: تمہارے پاس (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعے کا) جو صحیح علم آگیا ہے اس کے بعد بھی جو لوگ اس معاملے میں تم سے بحث کریں تو ان سے کہہ دو کہ: “آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو، اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو، اور ہم اپنے لوگوں کو اور تم اپنے لوگوں کو، پھر ہم سب ملکر اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں، اور جو جھوٹے ہوں ان پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔
یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے نصاریٰ نجران کے وفد سے عیسیٰ بن مریم کے بارے میں مناظرہ کرتے ہوئے انھیں چیلنج کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اس کے رسول اور اس کے کلمہ ’’کُنْ‘‘ کی پیدوار ہیں، جسے اللہ نے ان کی پاک دامن ماں کے رحم میں ڈالا تھا؟ آپﷺ نے نصاریٰ کے اس عقیدہ کی تکذیب و تردید کی کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ ہیں، یا اللہ کے بیٹے ہیں، یا تیسرے معبود ہیں، آپﷺ نے انھیں اسلام کی دعوت دی، لیکن انھوں نے ماننے سے انکار کر دیا، پھر آپﷺ نے انھیں مناظرہ کے لیے چیلنج کیا۔
عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت کریم فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبۡنَآءَنَا وَاَبۡنَآءَكُمۡ نازل ہوئی تو آپﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور کہا:
اَللّٰہُمَّ ہٰؤُلَائِ أَہْلِیْ
(صحیح مسلم: الامارۃ: فضل الشہادۃ فی سبیل اللہ: حدیث 4871)۔
’’اے اللہ یہ سب میرے اہل ہیں۔‘‘