Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت

  علی محمد محمد الصلابی

 سیدنا علی رضی اللہ عنہ مکہ کے ان باشندوں میں سے ایک تھے، جنھوں نے اپنے ناخواندہ معاشرہ میں پڑھنا اور لکھنا سیکھا تھا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت علیؓ کو بچپن ہی سے علم سے محبت اور والہانہ لگاؤ تھا۔ اللہ نے آپؓ کو عہدِ طفولت ہی سے اس بات کی توفیق بھی دی کہ خانۂ رسولﷺ میں پرورش پائیں۔ چنانچہ رسول اللہﷺ کے ہاتھوں آپ کی تربیت ہوئی، اور آپﷺ نے حضرت علیؓ کے مسلمان ہوجانے کے بعد ان پر خصوصی توجہ بھی فرمائی، اس طرح رسول اللہﷺ کی اعلیٰ ترین راہنما شخصیت نے حضرت علیؓ کی شخصیت کو سنوارا، ان کی صلاحیتوں کو نکھارا اور طاقتوں کو بروئے کار لائے، نفس کو مہذب بنایا، دل کو پاک اور عقل کو روشن کیا اور ان کی روح کو تازگی بخشی۔

حضرت علیؓ مکہ اور مدینہ میں رسول اللہﷺ کی صحبت میں رہے، اور اس بات کے لیے کوشاں رہے کہ قرآنی تعلیمات پر حضرت علیؓ صحابہ کرامؓ کی تربیت کرنے والے نبی مکرمﷺ کے ہاتھوں تربیت پائیں، اس لیے کہ حضرت علیؓ کی شخصیت مذہبی تربیت کا سرچشمہ تھی، جس سے حضرت علیؓ نے اپنے علم، تربیت اور ثقافت کو سیراب کیا تھا اور ادھر ہر نئے پیش آنے والے واقعات و حوادث سے متعلق نبی کریمﷺ پر قرآنی آیات تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہو رہی تھیں۔ آپﷺ انھیں اپنے صحابہ کو پڑھ کر سناتے تھے، جو اس کے معانی کو سمجھ سکیں، ان کی گہرائی تک پہنچ سکیں اور ان پر عمل پیرا ہو سکیں۔ آپﷺ کے اس طریقۂ تربیت کا صحابہ کے دل و دماغ پر گہرا اثر پڑتا تھا۔ چنانچہ حضرت علیؓ بھی ان صحابہ میں سے ایک تھے جو رسول اللہﷺ کے ذریعہ سے قرآنی تربیت سے بھرپور متاثر ہوئے، اور تعلیمات و توجیہاتِ نبوی کا جام نوش کیا، سیدنا علیؓ نے اسلام لانے کے بعد سے قرآن حفظ کرنے، اسے سمجھنے اور اس میں غور کرنے کا اہتمام کیا اور رسولﷺ کی صحبت میں رہے، جو آیات آپﷺ پر نازل ہوتیں، حضرت علیؓ انھیں یاد کر لیتے، اس طرح آپؓ پورے قرآن کے حافظ ہو۔گئے۔ رسول اللہﷺ کی صحبت و تربیت کی برکت سے سیدنا علیؓ خیر کثیر کے مالک بن گئے اور بعد میں خلفائے راشدینؓ میں سے ہوئے۔ حضرت علیؓ ہمیشہ اس بات پر حریص رہے کہ جنگ و صلح دونوں حالتوں میں نبی کریمﷺ کی سنت کو مدّنِظر رکھا جائے۔

چنانچہ اسی تڑپ کے باعث بعد میں سیدنا علیؓ وسیع علم اور سنت نبویﷺ کی عمیق معرفت کے مالک بن گئے، دینِ اسلام کی روح اور اس کے مقاصد و اسرار کو نبی کریمﷺ سے سیکھا اور عملی زندگی میں اپنایا۔ درحقیقت دونوں کا تعلق قلبی لگاؤ اور حقیقی محبت پر قائم تھا اور جب معلم و شاگرد کا رشتہ قلبی تعلق پر قائم ہو تو اس سے ایک ممتاز و خوشگوار فضا قائم ہوتی ہے اور تبھی اس کے بہترین علمی و ثقافتی نتائج سامنے آتے ہیں۔

سیدنا علیؓ بحیثیت شاگرد رسول اللہﷺ سے بہت محبت کرنے والے تھے، ہمیشہ رسول اللہﷺ کے لیے فکر مند رہے، آپﷺ کی حفاظت کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا اور آپﷺ کی دعوت کو عام کرنے کے لیے ہمہ وقت خود کو قربان کرنے کے لیے تیار رہے۔