کنگ سعود یونیورسٹی میں اسلامی تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر عبد العزیز الہلابی نے عبداللہ بن سبا کے بارے میں ایک تحقیقی مطالعہ لکھا جو کویت کی حوليات الآداب (علمی مجلے)میں شائع ہوا۔
(حوليۃ تصدر عن كليۃ آداب جامعۃالكويت)
اس میں مؤلف نے اپنے زعم کے مطابق فتنۂ سیدنا عثمانؓ و سیدنا علیؓ کے واقعات میں ابنِ سبا کے کردار کےمتعلق اخباری سیف بن عمر التمیمی کی روایات کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی اس تحقیق کا اختتام اس نتیجے پر کیا ہے کہ یہ روایات متضاد ہیں اور ان کی صحت کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور انہوں نے اپنی اس تحقیق میں اس ابنِ سبا کی شخصیت کے وجود ہی کی نفی کر دی ہے، اور ان کی رائے میں ابنِ سبا محض ایک افسانے سے زیادہ کچھ نہیں ہے جسے تاریخ اور فرقوں کی کتابوں نے لکھ دیا ہے۔
ڈاکٹر عبدالعزیز الہلابی کہتے ہیں: قدیم اخباریوں اور مؤرخین کے درمیان سے صرف اخباری سیف بن عمر التمیمی ہی اپنی روایات میں اس عبداللہ بن سبا کی شخصیت کو ذکر کرنے میں منفرد ہیں اور وہ فتنے پر اکسانے، خلیفہ سیدنا عثمانؓ کو شہید کرنے، اور بصرہ میں معرکۂ جمل کی جنگ چھیڑنے میں اسے ایک بنیادی کردار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
(الهلابي، عبد العزيز صالح، 1987م، عبداللہ بن سبأ، حوليات كليۃ آداب جامعۃ الكويت، الحوليۃ الثامنۃ صفحہ13)
ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں: سیف بن عمر وہ واحد مأخذ نہیں ہیں جن کے ہاں عبداللہ بن سبا کی خبریں منحصر ہوں، بلکہ ابنِ سبا کی خبروں کا تذکرہ ان روایات میں بھی آیا ہے جو متقدمین (قدیم) علماء اور سیف بن عمر کے علاوہ دوسرے راویوں سے منقول ہیں، جن کا ایک اچھا خاصا حصہ ہم گزشتہ صفحات میں ذکر کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالعزیز الہلابی کہتے ہیں: قدیم مآخذ میں سے جتنے بھی میری نظر سے گزرے ہیں، ان میں بلاذری کی روایت کے سوا، میں سیف بن عمر کے علاوہ عبداللہ بن سبا کا کوئی تذکرہ نہیں جانتا۔(المرجع السابق نفسہ: صفحہ 16)
ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں: وہ قدیم مآخذ جن کا ڈاکٹر الہلابی نے مطالعہ کیا ہے، اگر وہ ابنِ سبا اور سبئیت کا تذکرہ کرنے سے خاموش رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ کوئی خیالی یا افسانوی شخصیت ہے کیونکہ ان مآخذ کا اسے ذکر نہ کرنا، اس کے انکار یا اس میں شک پیدا کرنے کی کوئی دلیل نہیں بن سکتا۔ کیا ان مآخذ نے اسلامی تاریخ کے تمام تر واقعات کا احاطہ کر لیا ہے کہ ہم محض اس وجہ سے انکار یا شک کا مؤقف اختیار کر لیں کہ انہوں نے ابنِ سبا کے بارے میں کچھ ذکر نہیں کیا؟ اور کیا کسی تاریخی روایت کی صحت کے لیے یہ شرط ہے کہ تاریخ کی تمام کتابیں اس کے ذکر پر متفق ہوں؟پھر کیا ڈاکٹر الہلابی یہ بات بھول گئے کہ قدیم مآخذ کا ایک بہت بڑا حصہ ضائع ہو چکا ہے، اور وہ مفقود(ناپید) یا مفقود کے حکم میں ہو چکے ہیں؟ اور اسی وجہ سے، شبہات اور وہم و گمان سے باہر نکلنے کے لیے اصل معلوم اور محقق (ثابت شدہ) معاملے کی طرف رجوع کرنا چاہیے کیونکہ وہمی چیز معلوم چیز کو ختم نہیں کر سکتی، اور نامعلوم چیز محقق شدہ چیز کے معارض نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ ابنِ سبا اور اس کے گروہ کی شخصیت ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس پر بلاذری کے علاوہ بھی بہت سے قدیم مآخذ متفق ہیں۔
الف: ابنِ سبا اور سبئیت کا تذکرہ اعشیٰ ہمدان کی زبان سے اشعار میں آیا ہے، جن کی وفات سن 8 ہجری(702ء)میں ہوئی تھی۔ انہوں نے اہل کوفہ میں سے مختار ثقفی اور اس کے مددگاروں کی ہجو کرتے ہوئے یہ کہا تھا:
میں تمہارے خلاف اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم سب کے سب سبئ ابنِ سبا کے پیروکار ہو۔
اور اے کفر کے سپاہیو! میں تمہاری حقیقت سے اچھی طرح واقف ہوں۔
(أعشى همدان، ديوانہ، تحقیق حسن عيسى أبو ياسين، الرياض، صفحہ148، وأنظر أبو الشعر، هند، مرجع سابق، صفحہ341 – 342)
سیدنا حسین بن علیؓ سے عرض کیا گیا: ابوالحسن سیدنا علیؓ کےشیعوں (پیروکاروں) میں سے کچھ لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ دآبۃ الارض (قربِ قیامت زمین سے نکلنے والی نشانی) ہیں، اور وہ قیامت کے دن سے پہلے دوبارہ دنیا میں بھیجے جائیں گے۔ اس پر سیدنا حسینؓ نے فرمایا: انہوں نے جھوٹ بولا ہے وہ لوگ ان کے شیعہ(حقیقی متبعین) نہیں ہیں، بلکہ وہ تو ان کے دشمن ہیں۔ اگر ہمیں اس بات کا علم ہوتا کہ وہ دنیا میں واپس آئیں گے تو ہم نہ تو ان کی میراث تقسیم کرتے اور نہ ہی ان کی ازواج کے دوسرے نکاح کرتے۔(ابنِ سعد: مرجع سابق: جلد 4 صفحہ 39)
ج: ابو عاصم خشیش بن اصرم (المتوفى سن 253 ہجری/859ء)نے اپنی کتاب الاستقامہ میں سیدنا علیؓ کے ہاتھوں ابنِ سبا کے ساتھیوں کے ایک گروہ کو آگ میں جلائے جانے کی خبر روایت کی ہے۔
(ابن تیمیہ ، ابو العباس تقي الدين أحمد بن عبدالحليم، منہاج السنہ النبويہ في نقض كلام الشيعہ القدريہ، تحقیق محمد رشاد سالم، مكتبہ دارالعروبہ، مصر جلد1، صفحہ17 وما بعدها)
د: ابنِ قتیبہ(المتوفى سن 276 ہجری/889ء)کہتے ہیں: بے شک سبئیت، رافضہ کے غالی فرقوں میں سے ہے، اور یہ لوگ عبداللہ بن سبا کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔(ابن قتيبہ المعارف مرجع سابق صفحہ267)
ھ: ناشی اکبر(المتوفى سن 293 ہجری/905ء)نے ابنِ سبا اور اس کے گروہ کے بارے میں درج ذیل تفصیل بیان کی ہے اور ان میں سے ایک فرقے کا یہ دعویٰ ہے کہ سیدنا علیؓ زندہ ہیں، وہ فوت نہیں ہوئے اور وہ اس وقت تک نہیں مریں گے جب تک کہ وہ اپنی لاٹھی سے عربوں کو ہانک نہ لیں یہ لوگ سبئیہ ہیں جو عبداللہ بن سبا کے ساتھی ہیں اور عبداللہ بن سبا صنعا یمن کا ایک یہودی تھا جو مدائن میں آکر رہ گیا تھا۔
(الناشی الأكبر مرجع سابق: صفحہ22)
پس یہ وہ قدیم اور مستند نصوص ہیں جو اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ ابنِ سبا کی شخصیت ایک حقیقی شخصیت ہے، اور اسی طرح اس کا گروہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے۔
ڈاکٹر عبدالعزیز الہلابی نے ان نثری اور شعری نصوص کو ذکر کرنے کے بعد، جن میں سبئیت کا تذکرہ وارد ہوا ہے یہ کہا ہے اور اسی بنیاد پر، گزشتہ نصوص سے یہ نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں ہے کہ سبئیت سے مراد کوئی ایسا گروہ ہے جس کی کوئی خاص سیاسی شناخت ہو یا کوئی ایسا مذہب ہو جس کے عقائد متعین ہوں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ جب بھی اس کا اطلاق کسی قوم پر ہوتا ہے تو اس سے مقصود محض مذمت اور عیب جوئی(طعنہ زنی) ہوتا ہے۔
(الهلابی مرجع سابق : صفحہ48)
ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں: ہم اس سے پہلے ڈاکٹر مصطفیٰ شیبی کے شبہات کو باطل کرنے کے ذیل میں اس قضیے پر تفصیلی بحث کر چکے ہیں، اور ہم یہاں یہ اضافہ کرتے ہیں کہ محقق ڈاکٹر الہلابی کا یہ نتیجہ مغالطے اور حقیقت کو چھپانے سے خالی نہیں ہے۔ کیونکہ ایسی کثیر نصوص موجود ہیں جو واضح طور پر ابنِ سبا کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو اصل کے اعتبار سے یہودی اور پرورش کے لحاظ سے یمنی تھا اور ان نصوص کو تاریخ، حدیث، اسماء الرجال، انساب، ادب اور لغت کی کتب نے ذکر کیا ہے، اور فرقوں اور مذاہب و مقالات کے علماء نے اس بات پر حتمی جزم (یقین) ظاہر کیا ہے، جن میں سے چند مآخذ یہ ہیں:
الف: قمی(المتوفى سن 301 ہجری/913ء)نے نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن سبا وہ پہلا شخص تھا جس نے سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ ،سیدنا عثمانؓ اور دیگر صحابہؓ پر کھلم کھلا طعن و تشنیع کی اور ان سے بیزاری کا اظہار کیا، اور یہ دعویٰ کیا کہ سیدنا علیؓ نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔
(القمی مرجع سابق : صفحہ20)
ب: نوبختی(المتوفى سن 310 ہجری/922ء)نے ابنِ سبا کی خبروں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ جب مدائن میں سیدنا علیؓ کی شہادت کی خبر پہنچی، تو اس خبر کو نقل کرنے والے نے ابنِ سبا کا یہ قول بیان کیا: تو نے جھوٹ بولا ہے اگر تو ہمارے پاس ان کا دماغ ستر تھیلیوں میں بھی لے آئے، اور ان کے قتل پر ستر عادل گواہ بھی کھڑے کر دے، تب بھی ہم تیری تصدیق نہیں کریں گے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ نہ مرے ہیں اور نہ ہی قتل ہوئے ہیں، اور وہ اس وقت تک نہیں مریں گے جب تک کہ زمین کے مالک نہ بن جائیں۔
(النوبختی مرجع سابق' صفحہ27)
ج: ابنِ حبان (المتوفى سن 354 ہجری/965ء)کہتے ہیں اور (محمد بن السائب)کلبی جو کہ ایک اخباری (راوی) تھے عبداللہ بن سبا کے ساتھیوں میں سے ایک سبئی تھا یہ ان لوگوں میں سے تھا جو کہتے ہیں: بے شک حضرت علیؓ فوت نہیں ہوئے، اور وہ قیامت قائم ہونے سے پہلے دنیا میں دوبارہ واپس آئیں گے، اور جب بھی وہ کوئی بادل دیکھتے تو کہتے کہ امیر المؤمنین اس کے اندر تشریف فرما ہیں۔
(ابنِ حبان المجروحين، مرجع سابق :جلد 2 صفحہ253)
د: شیعہ کے بڑے محدث، ابنِ بابویہ القمی(المتوفى سن 381 ہجری/991ء) نے ابنِ سباء کا وہ موقف ذکر کیا ہے جس میں وہ سیدنا علیؓ پر دعا کے دوران آسمان کی طرف ہاتھ اٹھانے پر اعتراض کر رہا تھا۔
( ابن بابوی القامی، ابو جعفر محمد بن علی، من لايحضره الفقيہ، تحقیق السيد حسن الموسوی نشر دارالكتب الإسلاميۃ، ط 5 طہران جلد1 صفحہ213)
ھ: خوارزمی(المتوفى سن 387 ہجری/997ء)کی کتاب مفتاح العلوم میں وارد ہوا ہے کہ: سبئیت عبداللہ بن سبا کے ساتھی ہیں۔
(الخوارزمی، ابو عبداللہ محمد بن احمد بن يوسف 1342ھ، ادارة الطباعۃ المنيريۃ، مصر، صفحہ22)
و: ابنِ ابی الحدید(المتوفى سن 655 ہجری/1257ء)نے شرح نہج البلاغہ میں ذکر کیا ہے، جس کی عبارت کے الفاظ یہ ہیں: چنانچہ جب امیرالمؤمنین شہید کر دیے گئے، تو ابنِ سبا نے اپنے نظریات کا کھلم کھلا اظہار کیا، اور اس کا ایک ایسا گروہ اور فرقہ بن گیا جو اسے (اپنے مقتدا کے طور پر) پہچانتا تھا اور اس کی پیروی کرتا تھا۔
(ابن ابی الحديد، ابو حامد عبد الحميد بن هبۃ اللہ، تحقیق حسن تميم، 1963م، نشر مكتبة الحياة بيروت جلد2 صفحہ99)
ز' سکسکی(المتوفى سن 683 ہجری/1339ء)نے ذکر کیا ہے کہ: بے شک ابنِ سبا اور اس کا گروہ وہ پہلے لوگ ہیں جنہوں نے موت کے بعد دنیا میں دوبارہ واپس آنے(عقیدہ رجعت)کا قول اختیارکیا۔
(السكسكي، عباس بن منصور، البرهان فی معرفۃ عقائد اهل الاديان، تحقیق خليل احمد ابراهيم الحاج 1980م، ط1، دار التراث العربی صفحہ50)
اسی طرح ادب، مقالات اور فرق و مذاہب کی کتب نے باقاعدہ نام لے کر مخصوص اشخاص کا تذکرہ کیا ہے کہ وہ سبئیہ فرقے سے تعلق رکھتا تھا جس کا صاف اور واضح مطلب یہ ہے کہ یہ لفظ محض ذم (مذمت) اور عیب جوئی کے لیے نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسے گمراہ اور گمراہ کن فرقے کا نام ہےجس کے اپنے پیروکار اور مخصوص عقائد تھے۔ چنانچہ ابنِ قتیبہ نے ذکر کیا ہے کہ: مغیرہ بن سعد بجلی جو بنو بجیلہ کا آزاد کردہ غلام تھا وہ سبئی(ابنِ سبا کے عقائد پر)تھا۔
(ابنِ قتيبۃ عيون الاخبار، مرجع سابق: جلد2 صفحہ149)
اسی طرح جابر بن یزید جعفی ہے، جسے ابنِ حبان نے سبئیوں کے شمار میں ذکر کیا ہے، چنانچہ انہوں نے کہا:جابر جعفی عبداللہ بن سبا کے ساتھیوں میں سے ایک سبئ تھا اور وہ کہا کرتا تھا: بے شک حضرت علی دنیا میں دوبارہ واپس آئیں گے۔
(ابنِ حبان، المجروحين مرجع سابق: جلد1صفحہ 208)
اور سفیان بن عیینہ سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ یعنی جابر کہا کرتا تھا: حضرت علی دابۃ الارض ہیں۔
(الذہبی ميزان الاعتدال مرجع سابق : جلد1 صفحہ348)
ان سبئیوں میں سے ابوالنصر محمد بن السائب کلبی کوفی بھی ہے، جس کے بارے میں ابنِ حبان نے کہا: کلبی، عبداللہ بن سبا کے ساتھیوں میں سے ایک سبئی تھا۔
(ابنِ حبان المجروحين، مرجع سابق : جلد 4 صفحہ162)
اور حافظ ابنِ زریع بصری اس(کلبی)کے بارے میں کہتے ہیں: میں نے کلبی کو دیکھا کہ وہ اپنے سینے پر ہاتھ مارتا تھا اور فخر سے کہتا تھا: میں سبئ ہوں، میں سبئ ہوں۔
(ابنِ حجر العسقلانی، احمد بن علی تہذيب التہذيب 1362ھ ط1 مطبعۃ دائرة المعارف النظاميۃ الهند جلد 9 صفحہ179)
پس سبئیت کا لفظ محض مذمت اور عیب جوئی طعنہ زنی کے لیے نہیں ہے، جیسا کہ ڈاکٹر الہلابی نے دعویٰ کیا ہے، بلکہ یہ ایک ایسا گروہ ہے جس کا ایک متعین عقیدہ اور اپنے پیروکار تھے۔
ڈاکٹر عبد العزیز الہلابی کی یہ رائے ہے کہ سبئیوں کو آگ میں جلائے جانے کی خبر محض ایک من گھڑت اور خود ساختہ دعویٰ ہے۔(الہلابی مرجع سابق: صفحہ22)
کیونکہ یہ سزا نہ تو رسول اللہﷺ کے عہدِ مبارک میں مروج تھی اور نہ ہی ان سے پہلے کے خلفائے راشدین کے دور میں۔ جبکہ ان کے علاوہ دوسرے لوگوں نےـ جنہوں نے جلانے کی اس خبر کی نفی کی ہے یہ کہا ہے کہ یہ(واقعہ) تاریخ کی کسی مستند اور قابلِ اعتماد کتاب میں وارد ہی نہیں ہوا ہے۔
(الشبی، كامل مصطفىٰ:مرجع سابق: صفحہ91)
ڈاکٹر الہلابی کے اس اعتراض کارد اس روایت کے ذریعے ممکن ہے جسے امام بخاریؒ نے عکرمہ سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں:
سیدنا علیؓ کے پاس کچھ زندیق لائے گئے تو انہوں نے انہیں آگ میں جلوا دیا۔ جب یہ خبر حضرت ابنِ عباسؓ تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو انہیں نہ جلاتا، کیونکہ رسولﷺ نے آگ کے عذاب سے منع فرمایا ہے بلکہ میں رسول اللہﷺ کے اس فرمان کے مطابق انہیں قتل کر دیتا کہ جو شخص اپنا دین بدل لے (مرتد ہو جائے)، اسے قتل کر دو۔
(ابنِ حجر العسقلانی، احمد بن علی، فتح الباری بشرح صحيح البخاری تصحيح وتعليق الشیخ عبدالعزيز بن باز، نشر ادارة البحوث العلميۃ والدعوة والإرشاد، الرياض جلد 12 صفحہ226-227)
شارحینِ حدیث نے زندقہ کی مختلف تفاسیر کی ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جو کفر کو چھپائے اور اسلام کا اظہار کرے۔ اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کا دعویٰ کرنا۔ جبکہ مسعودی کی یہ رائے ہے کہ فارسی وہ پہلے لوگ ہیں جنہوں نے زندیق کی اصطلاح استعمال کی وہ لوگ ہر اس شخص پر(زندیق)کا اطلاق کرتے تھے جو تنزیل(وحی کے ظاہری الفاظ)کو چھوڑ کر تاویل کی طرف مائل ہو جائے، اور یہ نسبت(ان کی کتاب)زندیق کی طرف تھی جو کہ تاویل پر مبنی تھی، پھر عربوں نے اس لفظ کو معرب کر کے (عربی رنگ میں ڈھال کر) زندیق بنا دیا۔
(ابنِ كمال باشا، رسالۃ فی تحقیق لفظ زنديق، تحقیق حسين علی محفوظ، بغداد)
یہ تمام معانی ایسے ہیں جن کا قول سبئیت نے اختیار کیا تھا، اسی لیے امام ذہبیؒ نے فرمایا:
عبداللہ بن سبا غالی(انتہاء پسند)زندیقوں میں سے تھا، جو خود بھی گمراہ تھا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والا تھا۔(الذہبی ميزان الاعتدال مرجع سابق : جلد 2 صفحہ462)
حافظ ابنِ حجرؒ نے فرمایا:
عبداللہ بن سبا غالی زندیقوں میں سے تھا، اور اس کے کچھ پیروکار ہیں جنہیں سبئیہ کہا جاتا ہے، وہ علی بن ابی طالب کے بارے میں الوہیت (خدا ہونے) کا عقیدہ رکھتے ہیں، اور حضرت علیؓ نے اپنی خلافت کے دوران انہیں آگ میں جلوا دیا تھا۔
حوالہ: حجر العسقلاني، لسان الميزان، مرجع سابق، جلد 3 صفحہ289-290 وانظر كتاب الهدايۃ الكبرىٰ للخصيي من ائمۃ النصيريۃ صفحہ227، إذ قال بعد ذكر بعض معجزات علی (وفي ذكر اليوم كانت فتنۃ عبداللہ بن سبأ وأصحابه العشرة الذين كانوا معہ، وقالوا ما قالوا، وأحرقهم أمير المؤمنين بالنار، بعد أن استتابهم ثلاثة أيام، فأبوا ولم يرجعوا فأحرقهم في حفرة الأخدود، فكان هذا من دلائلہ والكتاب ملحق بكتاب : (العلويون بن الأسطورة والحقيقۃ) هاشم عثمان، ط مؤسسة الاعلمي، بيروت)
اس سلسلے میں نصيری فرقے کے ائمہ میں سے خصیی کی کتاب الہِدَایَۃُ الکُبرٰی(صفحہ227) دیکھیے، کیونکہ انہوں نے حضرت علیؓ کے کچھ معجزات کا تذکرہ کرنے کے بعد کہا ہے: اور اسی دن کے ذکر میں عبداللہ بن سبا اور اس کے ان دس ساتھیوں کا فتنہ رونما ہوا جو اس کے ساتھ تھے، انہوں نے جو غلو کا قول کہنا تھا وہ کہا، اور امیرالمؤمنین نے انہیں تین دن تک توبہ کی مہلت دینے کے بعد آگ میں جلوا دیا۔ انہوں نے توبہ کرنے سے انکار کیا اور اپنے عقیدے سے رجوع نہ کیا، تو آپ نے انہیں خندق کے گڑھے میں جلوا دیا چنانچہ یہ واقعہ بھی آپؓ کے دلائلِ امامت و معجزات میں سے ایک دلیل تھا۔ اور یہ کتاب ایک دوسرے مصنف کی کتاب: العلویون بین الاسطورۃ والحقیقۃ (مصنف: ہاشم عثمان، مطبوعہ:مؤسسۃ الاعلمی، بیروت)کے ساتھ ضمیمے کے طور پر منسلک ہے۔
امام ابنِ تیمیہؒ نے فرمایا:بے شک رفض کی بنیاد زندیق عبداللہ بن سبا ہی کی طرف سے رکھی گئی تھی۔(ابن تیمیہ مجموع الفتاویٰ ابو العباس احمد بن عبد الحليم، جمع وترتيب عبدالرحمٰن بن محمد بن قاسم الحنبلي، ط الرياض 1383ھ، جلد28 صفحہ483)
پھر یہ کہ سیدنا علیؓ کا سبئ زندیقوں کے ایک گروہ کو آگ میں جلانے کا واقعہ، صحاح، سنن اور معاجم کی کتب میں موجود صحیح روایات کے ذریعے بالکل آشکار (ثابت) ہوتا ہے۔ چنانچہ جلانے کے اس واقعے کو امام ابو داؤد نے اپنی سنن میں: کتاب الحدود ل، باب الحکم فی من ارتد (مرتد کے حکم کا بیان) کے تحت روایت کیا ہے۔(السجستانی ابو داؤد سليمان بن الاشعث، تحقیق احمد محمد شاكر وزميلہ، دارالمعرفۃ، بيروت، جلد 4 صفحہ126)
امام نسائیؒ نے اپنی سنن میں: کتاب الحدود کے تحت اور امام حاکم نے المستدرک میں کتاب معرفۃ الصحابہ کے تحت اسےنقل کیا ہے۔
(النسائي: ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعيب، السنن المجتبىٰ، المكتبۃ التجاريہ الكبرى، مصر، جلد7 صفحہ 104)
(الحاكم النيسابوري، محمد بن عبداللہ ، المستدرك على الصحيحين، 1389ھ، دارالكتب العلميۃ، بيروت: جلد 3 صفحہ583)
امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں سوید بن غفلہ کے طریق سے روایت کیا ہے کہ سیدنا علیؓ کو یہ خبر پہنچی کہ کچھ لوگ اسلام سے مرتد ہو گئے ہیں، تو انہوں نے ان کی طرف آدمی بھیجا اور انہیں کھانا کھلایا، پھر انہیں اسلام کی طرف دعوت دی مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ چنانچہ انہوں نے ایک گڑھا کھدوایا، پھر انہیں لایا گیا تو انہوں نے ان کی گردنیں اڑائیں اور انہیں اس گڑھے میں ڈال دیا، پھر ان پر لکڑیاں ڈال کر انہیں آگ لگا دی، اور پھر فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔
( ابن حجر العسقلانیؒ فتح الباري مرجع سابق: جلد 12 صفحہ 170)
عبد اللہ بن زید عامری کے طریق سے ان کے والد سے روایت کیا گیا ہے وہ کہتے ہیں سیدنا علیؓ سے کہا گیا کہ یہاں مسجد کے دروازے پر کچھ لوگ ہیں جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آپ ان کے رب ہیں۔ چنانچہ انہوں نے انہیں بلایا اور ان سے فرمایا تمہاری خرابی ہو! تم کیا کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا آپ ہی ہمارے رب، ہمارے خالق اور ہمیں رزق دینے والے ہیں۔(یہاں تک کہ روایت کے الفاظ یہ کہتے ہیں کہ)حضرت علیؓ نے فرمایا: گڑھا کھودو اور اسے زمین میں گہرا کرو، اور وہ لکڑیاں لے کر آئے اور انہیں اس خندق گڑھے میں آگ کے اندر ڈال دیا۔ اور فرمایا میں تمہیں اس میں پھینکنے والا ہوں یا پھر تم اپنے اس قول سے رجوع کر لو لیکن انہوں نے رجوع کرنے سے انکار کر دیا، تو انہوں نے انہیں اس میں ڈال دیا، یہاں تک کہ جب وہ جل گئے تو انہوں نے فرمایا:
جب میں نے اس معاملے کو انتہائی قبیح اور منکر دیکھا تو میں نے اپنی آگ کو خوب بھڑکایا اور قنبر کو پکارا!
حافظ ابنِ حجرؒ نے فرمایا ہے یہ سند حسن ہے۔
(ابنِ حجر العسقلانی فتح الباری مرجع سابق: جلد 12 صفحہ 170)
ابوحفص بن شاہین (المتوفى سن 358 ہجری/995ء)نے اپنی سند سے امام شعبی (المتوفى سن 104 ہجری/722ء)سے روایت کیا ہے اور شعبی وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں امام ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ وہ کوفی تھے اور شیعہ کے احوال سے سب سے زیادہ باخبر لوگوں میں سے تھے کہ بے شک سیدنا علیؓ نے غالی شیعوں کی ایک جماعت کو آگ میں جلوا دیا تھا اور ان میں سے بعض کو جلاوطن کر دیا تھا۔(ابنِ تیمیہ، منہاج السنۃ، مرجع سابق: جلد1 صفحہ17)
اسی طرح ابو عاصم خشیش بن اصرم (المتوفى سن 254 ہجری/868ء) نے اپنی کتاب الاستقامہ میں سیدنا علیؓ کے ہاتھوں ابنِ سبا کے ساتھیوں کی ایک جماعت کو جلائے جانے کی خبر روایت کی ہے۔
(ابن تیمیہ، منہاج السنہ: مرجع سابق: جلد 1 صفحہ 17)
خشیش بن اصرم، امام ابو داؤد(المتوفى سن 275 ہجری /888ء) کے شیوخ میں سے ہیں اور روایتِ حدیث میں ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں چنانچہ جلانے کا یہ واقعہ کثیر مراجع و مآخذ میں ثابت ہے، اور خاص طور پر صحیح بخاری میں اس کی اصل موجود ہے۔