چوتھی بات: ڈاکٹر عبدالعزیز الہلابی کے شبہات - ردِ رافضیت |…

چوتھی بات: ڈاکٹر عبدالعزیز الہلابی کے شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 4

کنگ سعود یونیورسٹی میں اسلامی تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر عبد العزیز الہلابی نے عبداللہ بن سبا کے بارے میں ایک تحقیقی مطالعہ لکھا جو کویت کی حوليات الآداب (علمی مجلے)میں شائع ہوا۔

(حوليۃ تصدر عن كليۃ آداب جامعۃالكويت)

اس میں مؤلف نے اپنے زعم کے مطابق فتنۂ سیدنا عثمانؓ و سیدنا علیؓ کے واقعات میں ابنِ سبا کے کردار کےمتعلق اخباری سیف بن عمر التمیمی کی روایات کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی اس تحقیق کا اختتام اس نتیجے پر کیا ہے کہ یہ روایات متضاد ہیں اور ان کی صحت کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور انہوں نے اپنی اس تحقیق میں اس ابنِ سبا کی شخصیت کے وجود ہی کی نفی کر دی ہے، اور ان کی رائے میں ابنِ سبا محض ایک افسانے سے زیادہ کچھ نہیں ہے جسے تاریخ اور فرقوں کی کتابوں نے لکھ دیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالعزیز الہلابی کہتے ہیں: قدیم اخباریوں اور مؤرخین کے درمیان سے صرف اخباری سیف بن عمر التمیمی ہی اپنی روایات میں اس عبداللہ بن سبا کی شخصیت کو ذکر کرنے میں منفرد ہیں اور وہ فتنے پر اکسانے، خلیفہ سیدنا عثمانؓ کو شہید کرنے، اور بصرہ میں معرکۂ جمل کی جنگ چھیڑنے میں اسے ایک بنیادی کردار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

(الهلابي، عبد العزيز صالح، 1987م، عبداللہ بن سبأ، حوليات كليۃ آداب جامعۃ الكويت، الحوليۃ الثامنۃ صفحہ13)

ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں: سیف بن عمر وہ واحد مأخذ نہیں ہیں جن کے ہاں عبداللہ بن سبا کی خبریں منحصر ہوں، بلکہ ابنِ سبا کی خبروں کا تذکرہ ان روایات میں بھی آیا ہے جو متقدمین (قدیم) علماء اور سیف بن عمر کے علاوہ دوسرے راویوں سے منقول ہیں، جن کا ایک اچھا خاصا حصہ ہم گزشتہ صفحات میں ذکر کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالعزیز الہلابی کہتے ہیں: قدیم مآخذ میں سے جتنے بھی میری نظر سے گزرے ہیں، ان میں بلاذری کی روایت کے سوا، میں سیف بن عمر کے علاوہ عبداللہ بن سبا کا کوئی تذکرہ نہیں جانتا۔(المرجع السابق نفسہ: صفحہ 16)

ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں: وہ قدیم مآخذ جن کا ڈاکٹر الہلابی نے مطالعہ کیا ہے، اگر وہ ابنِ سبا اور سبئیت کا تذکرہ کرنے سے خاموش رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ کوئی خیالی یا افسانوی شخصیت ہے کیونکہ ان مآخذ کا اسے ذکر نہ کرنا، اس کے انکار یا اس میں شک پیدا کرنے کی کوئی دلیل نہیں بن سکتا۔ کیا ان مآخذ نے اسلامی تاریخ کے تمام تر واقعات کا احاطہ کر لیا ہے کہ ہم محض اس وجہ سے انکار یا شک کا مؤقف اختیار کر لیں کہ انہوں نے ابنِ سبا کے بارے میں کچھ ذکر نہیں کیا؟ اور کیا کسی تاریخی روایت کی صحت کے لیے یہ شرط ہے کہ تاریخ کی تمام کتابیں اس کے ذکر پر متفق ہوں؟پھر کیا ڈاکٹر الہلابی یہ بات بھول گئے کہ قدیم مآخذ کا ایک بہت بڑا حصہ ضائع ہو چکا ہے، اور وہ مفقود(ناپید) یا مفقود کے حکم میں ہو چکے ہیں؟ اور اسی وجہ سے، شبہات اور وہم و گمان سے باہر نکلنے کے لیے اصل معلوم اور محقق (ثابت شدہ) معاملے کی طرف رجوع کرنا چاہیے کیونکہ وہمی چیز معلوم چیز کو ختم نہیں کر سکتی، اور نامعلوم چیز محقق شدہ چیز کے معارض نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ ابنِ سبا اور اس کے گروہ کی شخصیت ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس پر بلاذری کے علاوہ بھی بہت سے قدیم مآخذ متفق ہیں۔

الف:  ابنِ سبا اور سبئیت کا تذکرہ اعشیٰ ہمدان کی زبان سے اشعار میں آیا ہے، جن کی وفات سن 8 ہجری(702ء)میں ہوئی تھی۔ انہوں نے اہل کوفہ میں سے مختار ثقفی اور اس کے مددگاروں کی ہجو کرتے ہوئے یہ کہا تھا:

میں تمہارے خلاف اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم سب کے سب سبئ ابنِ سبا کے پیروکار ہو۔

اور اے کفر کے سپاہیو! میں تمہاری حقیقت سے اچھی طرح واقف ہوں۔

(أعشى همدان، ديوانہ، تحقیق حسن عيسى أبو ياسين، الرياض، صفحہ148، وأنظر أبو الشعر، هند، مرجع سابق، صفحہ341 – 342)

سیدنا حسین بن علیؓ سے عرض کیا گیا: ابوالحسن سیدنا علیؓ کےشیعوں (پیروکاروں) میں سے کچھ لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ دآبۃ الارض (قربِ قیامت زمین سے نکلنے والی نشانی) ہیں، اور وہ قیامت کے دن سے پہلے دوبارہ دنیا میں بھیجے جائیں گے۔ اس پر سیدنا حسینؓ نے فرمایا: انہوں نے جھوٹ بولا ہے وہ لوگ ان کے شیعہ(حقیقی متبعین) نہیں ہیں، بلکہ وہ تو ان کے دشمن ہیں۔ اگر ہمیں اس بات کا علم ہوتا کہ وہ دنیا میں واپس آئیں گے تو ہم نہ تو ان کی میراث تقسیم کرتے اور نہ ہی ان کی ازواج کے دوسرے نکاح کرتے۔(ابنِ سعد: مرجع سابق:  جلد 4 صفحہ 39)

ج:  ابو عاصم خشیش بن اصرم (المتوفى سن 253 ہجری/859ء)نے اپنی کتاب الاستقامہ میں سیدنا علیؓ کے ہاتھوں ابنِ سبا کے ساتھیوں کے ایک گروہ کو آگ میں جلائے جانے کی خبر روایت کی ہے۔

(ابن تیمیہ ، ابو العباس تقي الدين أحمد بن عبدالحليم، منہاج السنہ النبويہ في نقض كلام الشيعہ القدريہ، تحقیق محمد رشاد سالم، مكتبہ دارالعروبہ، مصر جلد1، صفحہ17 وما بعدها)

د:  ابنِ قتیبہ(المتوفى سن 276 ہجری/889ء)کہتے ہیں: بے شک سبئیت، رافضہ کے غالی فرقوں میں سے ہے، اور یہ لوگ عبداللہ بن سبا کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔(ابن قتيبہ المعارف مرجع سابق صفحہ267)

ھ:  ناشی اکبر(المتوفى سن 293 ہجری/905ء)نے ابنِ سبا اور اس کے گروہ کے بارے میں درج ذیل تفصیل بیان کی ہے اور ان میں سے ایک فرقے کا یہ دعویٰ ہے کہ سیدنا علیؓ زندہ ہیں، وہ فوت نہیں ہوئے اور وہ اس وقت تک نہیں مریں گے جب تک کہ وہ اپنی لاٹھی سے عربوں کو ہانک نہ لیں یہ لوگ سبئیہ ہیں جو عبداللہ بن سبا کے ساتھی ہیں اور عبداللہ بن سبا صنعا یمن کا ایک یہودی تھا جو مدائن میں آکر رہ گیا تھا۔

(الناشی الأكبر مرجع سابق:   صفحہ22)

پس یہ وہ قدیم اور مستند نصوص ہیں جو اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ ابنِ سبا کی شخصیت ایک حقیقی شخصیت ہے، اور اسی طرح اس کا گروہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے۔

صفحہ 1 از 4