دوسرا مرحلہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

دوسرا مرحلہ

  علی محمد الصلابی

اہل عراق کی بیعت کو قبول کرنے کے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بنیادی شرط یہ تھی کہ وہ لوگ ان لوگوں سے صلح کریں گے جن سے وہ صلح کریں گے، اور جن سے وہ جنگ کریں گے ان سے وہ لوگ بھی جنگ کریں گے،

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 156)

چنانچہ میمون بن مہرانؒ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد اہلِ عراق سے دو باتوں کی بیعت لی، خلافت کی اور اس بات کی کہ وہ وہی کریں گے جو وہ کریں گے اور جس پر وہ راضی ہو جائیں گے اس پر وہ لوگ بھی راضی ہو جائیں گے۔

(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 316، 317، اس کی سند حسن ہے۔)

خالد بن مضرب کے طریق سے مروی ایک دوسری روایت ہے کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا اللہ کی قسم! میں تم سے اپنی اس بات پر بیعت لوں گا، لوگوں نے پوچھا: وہ کون سی بات ہے؟ سیدنا حسنؓ نے فرمایا: میں جن سے صلح کروں گا ان سے تم صلح کرو گے اور جن سے میں جنگ کروں گا ان سے تم جنگ کرو گے۔

(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 386، 387، اس کی سند صحیح ہے۔)

دونوں روایتو ں سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کو پورا کرنے کے لیے خلیفہ بنائے جانے سے پہلے ہی مصالحت کی پختہ نیت کر چکے تھے۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 111)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی شرط سے عراقیوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ مصالحت کا معاملہ قابلِ بحث و مناقشہ ہے، اس شرط میں جنگ کے مقابل صلح ہی کا متعین ارادہ نہیں ہے، بلکہ اس میں دونوں چیزیں شامل ہیں اگرچہ صلح کی جانب خاص اشارہ ہے، اس سے آپ کی عبقریت، حسنِ قیادت اور معاملات میں مہارت کا پتہ چلتا ہے، نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کی خاطر آپ نے خلافت کو قبول کر لیا تھا۔