ابو لؤلؤہ کی زیارت اور اس کی کھلی تعظیم:
شیعہ عقیدے کا ایک واضح اعتراف
✍️ د. حامد الخليفہ
جب ابو لؤلؤہ مجوسی نے عمرؓ کو شہید کیا تو اس کے بعد اس نے مدینہ منورہ ہی میں خودکشی کرلی۔ لہٰذا ایران میں اس کی طرف منسوب مزار ایک فرضی اور من گھڑت مقام ہے، جسے رافضیوں کی غداری کو زندہ رکھنے اور مسلمانوں کے خلیفہ کے قاتل کو اسلام کے خلاف ایک مقدس مذہبی علامت میں تبدیل کرنے کے لیے قائم کیا گیا۔
عمرؓ کروڑوں مسلمانوں کے دلوں میں عدل اور خلافتِ راشدہ کی علامت ہیں۔ اس لیے ان کے قاتل کی تعظیم محض تاریخ کا کوئی معمولی واقعہ نہیں، بلکہ یہ مسلمانوں کی ایک سوچے سمجھے طریقے سے ایسی تربیت ہے جس کے ذریعے اسلامی شخصیات سے نفرت پیدا کی جاتی ہے اور بغض، غداری اور دشمنی کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا جاتا ہے۔
اور ہر اس شخص سے جو عمرؓ سے محبت رکھتا ہے اور رافضیوں کی اس غداری سے دل آزردہ ہوتا ہے:
اللہ تعالیٰ فاروقؓ کی شہادت پر آپ کے اجر کو عظیم فرمائے۔ وہ شہادت پا کر رخصت ہوگئے، مگر ان کا نام عدل و نور، عزت و فخر کی علامت بن کر باقی رہا۔ جبکہ ان کا ملعون قاتل خودکشی کرکے مر گیا اور اس کا نام قیامت تک اس کے مذہب کے لیے ذلت اور رسوائی کا نشان بنا رہے گا۔
کوئی فرضی مزار کسی غدار کو ہیرو نہیں بنا سکتا، اور نہ صدیوں کا بغض عمرؓ رضی اللہ عنہ کے روشن آفتاب کو چھپا سکتا ہے۔
🎥یہ ویڈیو اس امر کی نہایت واضح مثال ہے کہ ابو لؤلؤہ کے بارے میں بعض شیعہ حلقوں میں محض تاریخی اختلاف نہیں، بلکہ باقاعدہ عقیدتی عقیدت پائی جاتی ہے۔ ویڈیو میں مقرر ابو لؤلؤہ کے مزار پر حاضری دے کر اسے ’’صالح بندہ، بہادر اور شجاع قرار دیتا ہے، اس کے وسیلے سے حاجت روائی کی دعا کرتا ہے اور خواہش ظاہر کرتا ہے کہ دنیا و آخرت میں اسی کے ساتھ محشور ہو۔
خاص طور پر قابلِ غور بات یہ ہے کہ ابو لؤلؤہ ہی وہ شخص ہے جس نے امیر المؤمنین عمر بن خطابؓ پر قاتلانہ حملہ کیا اور انہیں شہید کیا۔ چنانچہ اس ویڈیو کے الفاظ اس تصور کو تقویت دیتے ہیں کہ ابو لؤلؤہ کی تعظیم اور اس کے مزار کی زیارت بعض حلقوں میں محض تاریخی روایت نہیں بلکہ مذہبی تقدس کا رنگ اختیار کرچکی ہے۔
🎥 ویڈیو کا ٹیکسٹ ملاحظہ فرمائیں:
اللہ تعالیٰ محمد اور آلِ محمد پر درود نازل فرمائے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آج اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مجھے یہ شرف عطا فرمایا کہ میں اپنے سردار اور مولا، ابو لؤلؤہ کے مزار پر حاضری دوں، جو حضرت زہراء کے قاتل کے قاتل ہیں۔
میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں دنیا اور آخرت میں ان کے ساتھ محشور فرمائے اور ہماری اس زیارت کو قبول فرمائے۔
ان شاء اللہ میں نے آپ سب کی طرف سے بھی ان کی زیارت کی ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے اس صالح بندے کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری حاجتیں پوری فرمائے، ہمارے مریضوں کو شفا عطا فرمائے اور ہمیں ہمیشہ صحت و عافیت سے نوازے۔
میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اس بہادر اور شجاع شخص کے ساتھ محشور فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے جس زیارت کی ہمیں توفیق عطا فرمائی ہے، اس کے وسیلے سے آپ سب کی تمام حاجتیں پوری فرمائے، ان شاء اللہ۔
اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دنیا اور آخرت میں اس کے ساتھ محشور فرمائے، ان شاء اللہ۔
آپ سب سے دعا کی درخواست ہے۔