تحقیق کا خاتمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تحقیق کا خاتمہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

ان تمام اقوال اور روایات کے نتیجے میں، جنہیں میں نے اس بحث میں پیش کیا ہے، میں یہ طے کرتا ہوں کہ ابنِ سباء کی شخصیت ایک ایسی تاریخی شخصیت ہے جس کا حقیقی وجود تھا، اور اس نے صدرِ اسلام میں رونما ہونے والے فتنوں کے واقعات میں ایک بنیادی کردار ادا کیا تھا، جس پر میں ایک مستقل تحقیق میں تفصیلی روشنی ڈالی جائے گی اور بے شک جن لوگوں نے جیسے ڈاکٹر الہلابی اور ان سے پہلے کے لوگ ابنِ سباء کے وجود کی نفی کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے اپنے ان نظریات کی تائید میں کوئی ایک بھی قدیم اور بنیادی دلیل پیش نہیں کی جو اس کے وجود کی نفی کرتی ہو، اور تاریخی حقائق پرشک کرنے اور ان کا انکار کرنے میں ان کا اصل مقصد یہ دعویٰ کرنا ہے کہ اسلام کے اس سب سے زیادہ درخشاں دور میں جو فتنے رونما ہوئے، وہ محض صحابہؓ اور مسلمانوں ہی کا کام تھے، اور ابنِ سباء اور اس کے پیروکاروں کا ان فتنوں سے کوئی تعلق نہ تھا۔ حالانکہ ہم یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ان کے یہ تمام نظریات محض مفروضوں پر مبنی ہیں، اور علمی دلائل کے ساتھ ساتھ ان مراجع و مآخذ کی تائید سے بھی بالکل محروم ہیں جو متقدم ہیں اور ان واقعات کے زمانے سے قریب ترین ہیں۔