مصنفِ نام و نسب اعلامِ متنِ کتاب کے سنینِ وفات میں حضرت امیرِ معاویہؓ کے تعارف میں لکھتے ہیں:
سیدنا امیرِ معاویہ بن ابی سفیانؓ: امارتِ بنو امیہ کے بانی، بعض خطوطِ نبویہ کے کاتب تھے، البتہ صحیح قول کے مطابق کاتبِ وحی نہ تھے۔ (نام و نسب: صفحہ881)
الجواب: جب اسلام آیا تو قریشِ مکہ میں سے سترہ افراد نوشت و خواند اور تحریر کا فن جانتے تھے۔
مؤرخ بلاذریؒ (متوفی 279ھ) لکھتے ہیں:
دَخَلَ الإِسلَامُ وَفِی قُرَیشٍ سَبعَۃُ عَشَرَ رَجُلًا کُلُّھم یَکتُبُ: عُمَرُ بنُ الخَطَّابِؓ وَ عَلِیُّ بنُ أَبِی طَالِبٍؓ وَ عُثمَانُ بنُ عَفَّانَؓ وَ أَبُو عُبَیدَۃَ بنُ الجَرَّاحِؓ وَ طَلحَۃُؓ وَ یَزِیدُ بنُ أَبِی سُفیَانَؓ وَ أَبُو سُفیَانَ بنُ حَربٍؓ وَ مُعَاوِیَۃُؓ بنُ أَبِی سُفیَانَؓ۔
(فتوح البلدان للبلاذری: صفحہ 477 تحت: امر الخط)
ترجمہ: جب اسلام آیا تو قریشِ مکہ میں سترہ افراد ایسے تھے جو نوشت و خواند کا فن جانتے تھے، ان افراد میں حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت یزید بن ابی سفیانؓ اور حضرت امیرِ معاویہؓ شامل ہیں۔
ان کاتبین کی فہرست میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کا کیا مقام تھا، مولانا شاہ معین الدین ندویؒ مرحوم فرماتے ہیں:
دینی علوم کے علاوہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ عرب کے مروجہ علوم میں بھی ممتاز درجہ رکھتے تھے، چنانچہ کتابت میں جس سے عرب تقریباً ناآشنا تھے، سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو پوری مہارت حاصل تھی۔ اور اسی وصف کی بناء پر آنحضرتﷺ نے ان کو اپنا خاص کاتب مقرر فرمایا تھا۔
(سیر الصحابہؓ: جلد6 صفحہ 131 حضرت امیرِ معاویہؓ، تحت: کتابت)
مجمع الزوائد میں ہے:
إِنَّ مُعَاوِیَۃَ کَانَ یَکتُبُ بَینَ یَدَی رَسُولِ اللّٰہِﷺ، رَوَاہُ الطَّبَرَانِیُّ وَإِسنَادُہُ حَسَنٌ
(مجمع الزوائد: جلد9 صفحہ596 باب: ما جاء فی معاویہ بن ابی سفیانؓ)
حضرت امیرِ معاویہؓ آنحضرتﷺ کے سامنے لکھا کرتے تھے۔
سیرت کی کتابوں میں جہاں کاتبینِ نبویﷺ کا ذکر ہے وہاں سیدنا امیرِ معاویہؓ کا اسمِ گرامی بھی موجود ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے:
الاستیعاب (جلد3 صفحہ470، 471)
زاد المعاد (جلد9 صفحہ592 باب: ما جاء فی معاویہ بن ابی سفیانؓ)
الاصابہ (جلد6 صفحہ161)
مسند احمد (جلد1 صفحہ291، 335)
مصنفِ نام و نسب کا کہنا ہے کہ صحیح قول کے مطابق حضرت امیرِ معاویہؓ کاتبِ وحی نہ تھے۔
ذیل میں چند اہم اکابر محدثین و مؤرخین کے حوالہ جات پیش کر دیتے ہیں جو سیدنا امیرِ معاویہؓ کو کاتبِ وحی تسلیم کرتے ہیں: