Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حدیث ثلاث كذبات کا مفہوم

  مولانا مہرمحمد میانوالی

سوال نمبر 178، 180: بخاری میں ہے: لم يكذب ابراهیم قط الا ثلث كذبات۔ اگر خلیل اللہ ایسے ہیں تو ان پر درود کیوں پڑھتے ہیں؟ ورنہ امام بخاری رحمۃ اللہ آیت لعنت کی زد سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ 

جواب: یہ امام بخاریؒ کا قول نہیں، مرفوع حدیث ہے اور صیغہ حصر کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام صدیق نبی اللہ کی صداقت بیان فرما رہے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کبھی بھی خلاف واقعہ بات نہیں کہی بجز ان تین صورتوں کے جن میں سے دو کا ذکر قرآن شریف میں بھی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بطور توریہ (مخاطب سے ذووجھین کلام کرنا کہ وہ معنیٰ بعید سمجھے۔) ایسا کہنا پڑا اور ان کا عذر واضح تھا۔ ایک یہ کہ جابر بادشاہ کے سامنے بیوی کو بہن کہا، حالانکہ ایمان میں اور چچا زاد ہونے میں وہ بہن بھی ہوتی تھی۔

2: بتوں کو توڑ کر کلہاڑا بڑے بت کے کندھے پر رکھ کر کہا: بَلۡ فَعَلَهٗ ‌‌كَبِيۡرُهُمۡ هٰذَا (سورۃ الانبياء: آیت 63) ترجمہ: بلکہ اس کو کیا ہے اس بڑے نے۔ یہاں بھی نسبت مجازی کے طور پر بات سچی ہے۔ کہ اس بڑے کی شوکت کو دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام غیرتِ توحید کے مارے بت خانہ کو تباہ کرنے پر آمادہ ہوئے۔

3: قوم نے میلہ میں ساتھ لے جانا چاہا تو فرمایا: اِنِّىۡ سَقِيۡمٌ میں بیمار ہوں۔

یہ دراصل ذہنی خلش تھی کہ بتوں کو توڑنے کا سوداء ذہن پر سوار تھا۔

اب آنحضورﷺ‏ سردارِ انبیاء کی حیثیت سے اپنے سے کم مرتبہ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کا ناقدانہ انداز میں اس طرح ذکر کر رہے ہیں کہ آپ کی صدیقیت بھی بحال رہے اور مجبوری بھی نمایاں ہو جائے کہ ایسا کیے بغیر وہ جائز شرعی مقاصد پورے نہ ہو سکتے تھے۔ (یعنی بیوی کی عزت کی حفاظت اور بت شکنی کا فریضہ، خدا کی توحید اور بتوں کی بے بسی کی عملی تبلیغ۔ تو در حقیقت یہ باتیں جھوٹ ہرگز نہ تھیں۔ صورت یہ اختیار کی گئی۔

اہلِ سنت کے ہاں ان آیات، حدیثِ بالا اور واقعات کی یہ توجیہہ و تشریح ہر قسم کے اعتراض سے پاک ہے جبکہ شیعوں کی تفسیر و تاویل پر نہ قرآن سچا رہتا ہے نہ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام سچے رہتے ہیں۔ کیونکہ اصولِ کافی باب تقیہ کی حدیث میں ہے۔ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا میں بیمار ہوں، اللہ کی قسم وہ بیمار نہ تھے۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عمداً خلافِ واقعہ بات کہی اور اسے ہی لغت و شرع میں جھوٹ کہتے ہیں۔ مگر اس جھوٹ بنام تقیہ کو سیدنا صادقؒ سب سے بڑی نیکی بتا رہے ہیں۔ ایں چہ بوالعجبیست

دوسرا توجیہی جواب یہ ہے کہ کذب جیسے جھوٹ بولنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ لغت میں چوک جانے اور غلطی کرنے اور قادر نہ ہونے پر بھی بولا جاتا ہے۔ مصباح اللغات صفحہ 732 مادہ کذب میں ہے كذبت العين دھوکہ دينا، كذب الرأى غلط ہونا۔ کذب القوم السرٰی لوگ رات کو چلنے پر قادر نہیں ہوئے اور قرآن شریف میں بھی اسی طرح اطلاق ہوا ہے۔ مثلاً قصہ معراج میں ہے۔ مَا كَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰى۔ یعنی دل نے جو کچھ دیکھا اس میں چوک اور غلطی نہیں کھائی اور سورت یوسف کے آخر میں ہے: 

حَتّٰۤى اِذَا اسۡتَيۡئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ قَدۡ كُذِبُوۡا جَآءَهُمۡ نَصۡرُنَا

(سورۃ یوسف: آیت 110)

ترجمہ: یہاں تک کہ جب پیغیرﷺ‏ مایوس ہو گئے اور گمان کرنے لگے کہ نصرتِ خداوندی ان سے چوک گئی۔ تب ہماری مدد آ پہنچی۔

انبیاء و مؤمنین کو سنگین الزام سے بچانے کے لیے یہ ایک توجیہہ و تفسیر ہے۔ ورنہ كُذِّبُوْا تشدید کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے کہ پیغمبروں نے گمان کر لیا کہ قوم کی طرف سے ان کی تکذیب کی گئی اور تیسری توجیہ یہ بھی ہے کہ ظنّوا کی ضمیر امّت کی راجع ہو یعنی کافر امت نے یہ گمان کیا کہ پیغمبروں کو خدا کی جانب سے جھوٹ کہا گیا۔

الحاصل جیسے آیت میں مقامِ رُسُل کو ان توجہات کے ذریعے بچایا گیا۔ اسی طرح حدیث زیرِ بحث میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کذب کے الزام سے توجیہ کے ذریعے بچایا جائے گا تو حدیث کا معنیٰ یہ ہو گا: کہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام سے کبھی بات کرنے میں خطا اور چوک نہیں ہوئی بجز ان تین مواقع کے کہ یہاں ان کو صاف بات کہنے پر قدرت نہ رہی تھی۔ تو توریہ کیا جو شرعاً جائز ہے۔ بلکہ بعض مواقع میں ضروری ہے۔ هذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔ 

اس تشریح کی روشنی میں نہ حضرت ابراہیم علیہ السلام مجرم اور درود سے محرومی کے حق دار بنے۔ نہ امام بخاری رحمۃ اللہ مورد آیت لعنت ہیں یہ دونوں چیزیں سائل شیعہ کو نصیب ہوں جو انبیاء و مؤمنین کی بدگوئی سے اپنا ایمان برباد کر رہا ہے۔

سوال نمبر 181 تا 183: امام بخاری رحمۃ اللہ و محدثین کے نزدیک آیت انك لا تهدئ ابو طالب کے کفر کی دلیل ہے اور اہلِ سنت میں مشہور ہے کہ یہ آیت حضرت جبریل علیہ السلام سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خود سنی تو کیا سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کسی بھی روایت و کتاب میں اس کا شانِ نزول حضرت ابوطالب سے بیان کیا ہے؟

جواب: حضرت ابوبکر صدیقؓ کی اعلمیت اور قرآن دانی کا تو آپ نے اقرار کر لیا۔ جب شیعہ تفسیروں میں سیدنا جعفر صادقؒ حضرت علی المرتضیٰؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ وغیرہ کی زبانی اس آیت کا نزول حضرت ابوطالب کے حق میں ثابت ہو چکا جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے تو ضروری نہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی روایت ہی ہم تک پہنچے تب مانیں۔ پھر شانِ نزول بیان کرنے کا موقع و محل ہوتا ہے چونکہ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ابوطالب کے ایمان کا کوئی قائل نہ تھا تو حضرت صدیقِ اکبرؓ کو بھی آیت کا شانِ نزول جتلانے کی نوبت نہیں آئی۔

سوال نمبر 184: حضورﷺ کا حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے فرمانا: اگر میری ستر بیٹیاں ہوتیں اور تیری بیوی فوت ہوتی تو میں تجھے اپنی بیٹی دیتا جاتا۔ تہذیبِ حاضرہ کے خلاف ہے؟

جواب: روایت کا حوالہ آپ نے نہیں دیا ہم نے بھی سنی نہیں۔ سنداً کچھ کہہ نہیں سکتے ایسی بات بالفرض کہی جاتی ہے۔ اس میں داماد کے اعلیٰ حسنِ اخلاق اور بہترین معاشرت کا اعتراف ہے۔ جب بیٹیاں یکے بعد دیگرے شرعاً دینی درست ہیں تو موجودہ تمدن سے مقابلہ کر کے رسولِ خداﷺ‏ کی جائز بات میں کیڑے نکالنا کہاں کی تہذیب و شرافت ہے اگر شیعہ روایات کے مطابق حضرت علیؓ خود حضور اکرمﷺ سے سیدہ فاطمہؓ کا رشتہ طلب کریں خلافِ حیا نہ ہو تو اگر حضرت عثمانِ غنیؓ کی دوسری بیوی فوت ہونے پر بالا الفاظ میں حضور اقدسﷺ اس کی دامادگی کی تعریف کریں تو حیا کے خلاف کیسے بات ہوئی؟ ( فمَا لَـكُمۡ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ‌)

سوال نمبر 185: شیخین رضی اللہ عنہما کے گھر آنے پر تو حضورﷺ اپنا کپڑا درست نہیں کرتے تھے۔ مگر حضرت عثمانِ غنیؓ کے آنے پر درست کر لیتے اور فرماتے: میں اس سے کیوں حیاء نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں۔ خسر سے تو حیاء نہیں داماد سے حیاء ہے۔ کوئی بے شرم بے حیا ہی ایسا کرے گا؟

جواب: پیغمبر کریمﷺ‏ پر بے حیائی اور بے شرمی کا طعن کسنے والے رافضی دارین میں ایمان اور شرم و حیا سے محروم دوزخ کا ایندھن ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ مرد کا اصل ستر ناف تا گھٹنا ہے۔ یہ حصہ کبھی آپﷺ کا ننگا نہیں ہوتا تھا۔ ٹخنوں سے گھٹنوں تک کبھی کھلا ہوتا تو شیخینؓ آ جاتے ہم عمر اور بار بار آمد پر بے تکلفی کی وجہ سے کسی کی طبیعت پر گرانی نہ ہوتی تھی مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ انتہائی شرمیلے تھے وہ اس حالت میں اندر آنے سے جھجکتے تھے مزاج شناس پیغمبرﷺ‏ ان کا خاص لحاظ کرتے اور کرتہ پہن لیتے یا چادر پنڈلیوں پر سرکا دیتے۔ اب بھی شرفاء لوگ اپنے ہم عمروں اور بے تکلف دوستوں سے لباس کے معاملہ میں وہ تکلف و حجاب نہیں کرتے جو اپنے بیٹوں یا دامادوں اور ان جیسی عمر کے نوجوانوں سے کرتے ہیں اس مثال کو آپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اب بھی ستر سے زائد بدن کو چھپانے میں آدمی ماں باپ کے سامنے اتنا تکلف نہیں کرتا جتنا جوان بیٹی یا داماد سے کرنے میں اسے ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ لطف یہ ہے کہ شیعہ حضور اقدسﷺ‏ کو تو پابندِ لباس بنانے کے لیے شیخینؓ کو حضور اکرمﷺ کا نسبتی باپ واجب الاحترام اور رشتہ دار بزرگ مان رہے ہیں۔ مگر انہی حضورﷺ کے نسبتی باپ اور واجب الاحترام رشتہ داروں کو تبرا بکتے وقت ذرا بھی شرم و حیا کا مظاہرہ نہیں کرتے۔