اسلام کی تصویر اہل سنت کے نقطہ خیال سے
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہسچ پوچھو تو اسلام کی اصلی پاک تصویر جو مذہب اہل السنت و الجماعت پیش کرتا ہے کسی دشمنِ دین کی کیا مجال کہ اس کے خد و خال اور حسن و جمال پر کوئی بد نما دھبہ لگا سکے۔ کیونکہ اہل السنت کا مذہب یہ ہے کہ ہادی اسلام رسولِ عربیﷺ (فداہ ابی وامی) نے پہلے اپنی واحد طاقت سے حسبِ فرمان ایزدی دنیا کے بڑے بڑے اصحاب جاہ و جلال اور باجبروت امراء وسلاطین کو چیلنج دے کر توحید الہٰی کی طرف بلایا۔ ان کے خانہ ساز خداؤں، ٹھاکروں اور بتوں کی الوہیت کی دلائلِ قاہرہ سے تردید اور تذلیل کی اور لٓا اِلهَ اِلَّا اللّٰه کی تیغ عریاں ہاتھ میں لے کر ھَلْ مِن مُّبَارِز کی صدا بلند کی چونکہ خدائے جبار و قہار آپﷺ کا حامی و مددگار تھا، ان بڑے بڑے جبابرہ کو آپﷺ سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہ ہو سکا اور آپﷺ کی وہ جادو بھری آواز (کلمہ توحید) دن بدن دلوں کو فتح کرتی گئی، تا آنکہ حضرت ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمان غنی، حیدرِ کرار رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے مبارک نفوس آپﷺ کے حلقہ بگوش ہو گئے اور ان پاک نفوس نے داخل اسلام ہوتے ہی اپنی خداداد قوت و شجاعت اور جان و مال سے خدماتِ اسلام میں وہ حصہ لیا کہ تھوڑے زمانہ میں اسلام کو مشرق سے مغرب تک اور جنوب سے شمال تک پھیلا دیا اور مرتے دم تک اپنے آقاﷺ کا ایسا ساتھ نبھایا کہ مخالف قومیں رشک کرتی ہیں۔ ان ہی پاک ہستیوں کے طفیل اقطاع الارض عرب و عجم میں اسلام کا نور ضیاء افگن ہوا۔ انہوں نے ہی ایرانیوں کے بت کدے توڑے اور فارس کے آتش کدے سرد کیے۔ انہوں نے ہی قیصر و کسریٰ جیسے عظیم الشان سلاطین کا قلع قمع کر کے وہاں اسلام کی حکومت قائم کی۔ انہیں کے طفیل خدائے قدوس کی وہ کتاب (قرآن کریم) جو نبی آخر الزمانﷺ پر نازل ہوئی ہم تک بحالتِ مجموعی پہنچی۔ یہ اللہ کے جری (پہلوان) اگرچہ بحکم اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ مخالفینِ اسلام پر نہایت چیره دست تھے مگر وہ بحکم رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ آپس میں ایک دوسرے پر بڑے مہربان اور باہم شیر و شکر تھے۔ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں ان پاک ہستیوں نے اعلاء کلمۃالحق میں اپنی جان و مال سے دریغ نہ کیا، کفارِ مکہ کے ہاتھ سے سخت سے سخت اذیتیں اٹھائیں، گھر بار چھوڑا، وطن سے بے وطن ہوئے، لیکن اپنے پیارے رسولﷺ کا دامن نہ چھوڑا۔ ہادی اسلام رسولِ پاکﷺ نے جس وقت دنیا سے رحلت فرمائی، غازیانِ اسلام لاکھوں کی تعداد تک پہنچ چکے تھے، جن کے دلوں میں اسلام ایسا راسخ ہو چکا تھا کہ جان جاتی پر ایمان نہ جاتا۔ آپﷺ کی وفات کے بعد مجلسِ شوریٰ نے جس صاحب کو حضورﷺ کی جانشینی (خلافت) کے لیے انتخاب کیا، سب نے بلا چون چرا اس کے ہاتھ پر بیعت کر کے اس کے آگے سر جھکایا۔ حتیٰ کہ نوبت بہ نوبت حسبِ وعدہ الٰہی ان چاروں بزرگوں کو خلافت کا حصہ ملا، ان کے زمانہ میں اسلام نے وہ ترقی اور عروج حاصل کیا کہ دیگر مذاہب ان کے مقابلہ میں ہیچ ہو گئے۔