اس صلح کے برکدورت ہونے کی صورت میں سب سے بڑا الزام، معاذ اللہ، سیدنا حسن بن علیؓ پر عائد ہوتا ہے کہ آپؓ خلافتِ اسلامیہ کی باگ ڈور غیر محفوظ ہاتھوں میں دے کر خود دست بردار و گوشہ نشین ہو گئے اور ساری زندگی ان سے وظیفے قبول کرتے رہے جنہوں نے نعوذ باللہ آپؓ سے صلح کرنے میں خدیعت و خیانت سے کام لیا۔
ان تمام امور سے یہ بات واضح ہو گئی کہ سیدنا حسنؓ کی سیدنا امیرِ معاویہؓ سے صلح آنحضرتﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق بالکل ٹھیک تھی اس کے بعد سیدنا امیرِ معاویہؓ عالمِ اسلام کے متفقہ خلیفہ تسلیم کیے گئے، اسی لیے اس سال کو عام الجماعۃ کہا گیا۔
(البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ 21 تحت: فضل معاویہ بن ابی سفیانؓ)
حضرت ابو زرعہ رازی الدمشقیؒ (متوفی 158ھ) نے حضرت حسنؓ کی صلح کے بعد حضرت امیرِ معاویہؓ کی خلافت پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اجماع کو برحق مانا ہے کہ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کبھی باطل پر جمع نہیں ہو سکتے۔
عَنِ الأَوزَاعِی قَالَ: أَدرَكتُ خِلَافَةَ مُعَاوِيَةَ عِدَّةً مِن أَصحَابِ رَسُولِ اللهِﷺ، مِنهُم سَعدٌ وَ أُسَامَةُ وَ جَابِرُ بنُ عَبدِ اللهِ وَ ابن عُمَرَ وَ زَيدُ بنُ ثَابِتٍ وَ سَلَمَةُ بنُ خَالِدٍ وَ أَبُو سَعِيدٍ وَ أَبُو رَافِعٍ بنُ خَدِيجٍ وَ أَبُو أُمَامَةَ وَ أَنَسُ بنُ مَالِكٍ، وَ رِجَالٌ أَكثَرُ عَمَّن سَمَّيتُ بِأَضعَافٍ مُضَاعَفَةٍ، كَانُوا مَصَابِيحَ الدُّجَى وَ أَوعِيَةَ العِلمِ، حَضَرُوا مِنَ الكِتَابِ تَنزِيلَهُ وَ أَخَذُوا عَن رَسُولِ اللهِﷺ تَأوِيلَهُ
(تاریخِ ابو زرعہ: جلد1 صفحہ309 تحت: ما حفظ من وفاتِ فاطمہ و ازواجِ النبی والتابعین نمبر 574، البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ 133 تحت: ترجمۃ معاویہ بن ابی سفیانؓ)
ترجمہ: امام اوزاعیؒ کہتے ہیں کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کی خلافت بہت سے اصحابِ رسولﷺ نے پائی ہے ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں حضرت سعدؓ، حضرت اسامہؓ، حضرت جابرؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت سلمہ بن خالدؓ، حضرت انس بن مالکؓ اور کئی اور حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو ان حضرات سے کئی گنا زیادہ ہیں، جن کے میں نے نام لیے یہ سب حضرات اندھیروں کے چراغ و علم کے مٹکے تھے، نزولِ قرآن کے موقعوں پر حاضر و موجود تھے اور انہوں نے حضورِ اکرمﷺ سے براہِ راست مرادِ قرآن سمجھی ہے۔
اور یہ بات تو بدیہی ہے کہ امتِ محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام گو علی الانفراد معصوم نہیں مگر علی سبیل الاجماع ضرور معصوم ہے اور پھر حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا کسی مسئلے پر اجماع کر لینا تو اس مسئلے کو کتاب و سنت سے ثابت شدہ مسئلے کے مثل بنا دیتا ہے۔
حضرت امام ابو بکر السرخسی رحمۃ اللہ (متوفی 483ھ) لکھتے ہیں:
إِنَّ مَا أَجمَعَ عَلَيهِ الصَّحَابَةُ فَهُوَ بِمَنزِلَةِ الثَّابِتِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ
(اصول السرخسی: جلد 1 صفحہ318 تحت: فصل الحکم)
ترجمہ: جس مسئلے پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اجماع کر لیں وہ کتاب و سنت سے ثابت شدہ مسئلے کی طرح ہوتا ہے۔
جو حضرات اس صلح کو برکدورت کہتے ہیں، وہ حضورِ اکرمﷺ کی پیشین گوئی، حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اجماع اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے تابناک کردار کو اپنے عمل سے (نہ کہ قول سے) غلط کہنا چاہتے ہیں، جو کم از کم ایک مسلمان کو ہرگز زیبا نہیں۔