سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و شفقت اور لاڈ و پیار

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے حسن وحسین رضی اللہ عنہما سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی۔

(سنن النسائی: رقم: 8168)۔ احادیث بشأن السبطین: صفحہ 312 میں عثمان الخمیس نے اس حدیث کو حسن لذاتہ قرار دیا ہے۔)

2۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپﷺ کی پیٹھ پر کود کود کر چڑھتے، لوگ انھیں دور کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو ایسا کرنے دو، ان دونوں پر میرے ماں باپ قربان ہوں، جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے ان دونوں سے محبت کرنا چاہیے۔

(احادیث بشأن السبطین: صفحہ 293 یہ حدیث حسن ہے۔)

3۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو تو اس سے اور ان لوگوں سے محبت کر جس سے یہ محبت کرتا ہے۔

(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 249، 331) اس کی سند صحیح ہے۔)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب بھی میں انھیں دیکھتا میری آنکھیں اشک بار ہوجاتیں۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 74)

4۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر دیکھا اور آپﷺ فرما رہے تھے:

اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أُحِبُّہُ فَأَحِبَّہُ۔

(صحیح مسلم: رقم: 2422)

’’اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو تو ان سے محبت کر۔‘‘

5۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے ہاتھوں کو پکڑ کر فرمایا: جس نے مجھ سے، ان دونوں سے، اور ان کے والدین سے محبت کی وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میری برابری میں ہوگا۔ امام احمدؒ نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ اور امام ترمذیؒ کی نقل کردہ حدیث میں ’’کان معي في الجنۃ‘‘ کے الفاظ ہے اور اس پر حکم لگایا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 77۔ سنن الترمذی: رقم: 3734) سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 254) اس میں حکم لگایا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے اور متن منکر ہے۔ المیزان الاعتدال: جلد 3 صفحہ 117)

6۔ یعلی بن مرہ سے مروی ہے کہتے ہیں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک سبقت کی دوڑ لگاتے ہوئے آئے، ان میں سے ایک دوسرے سے پہلے پہنچے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کی گردن میں ڈال کر انھیں اپنے پیٹ سے چمٹا لیا، ان کو بوسہ دیا پھر اِن کو بوسہ دیا اور فرمایا: میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، اس لیے لوگو!ان سے محبت کرو، بچے بخیلی و بزدلی کا باعث ہوتے ہیں۔

(مسند احمد: جلد 4 صفحہ 172) سنن ابن ماجہ: رقم: 366) الزوائد میں بوصیری نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے سیراعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 255)

7۔ اسرائیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: جس نے حسن و حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی۔

(المسند: جلد 5 صفحہ 288) تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 26)

8۔ زہیر بن اقمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ قبیلہ ازد کے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ اس سے محبت کرے، تم میں سے حاضر غائب کو یہ بات پہنچا دے، اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکید نہ ہوتی تو میں تم سے بیان نہ کرتا۔

(المستدرک: جلد 3 صفحہ 173، 174) سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 253، 254) اس کی سند صحیح ہے۔ 

9۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھاتے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دوسری ران پر اور کہتے: اے اللہ! میں ان دونوں پر رحم کرتا ہوں تو بھی ان پر رحم فرما۔

(الإحسان فی تقریب صحیح ابن حبان: جلد 15 صفحہ 415، ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی: صفحہ 216)

10۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں ’’اقرع بن حابس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا اور کہا: آپﷺ ان کو بوسہ دیتے ہیں، میرے دس لڑکے ہیں میں ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

(صحیح مسلم: رقم: 2318)

11۔ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن کی زبان یا ہونٹ چومتے تھے، اور ایسی زبان یا ہونٹ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوما ہو عذاب میں مبتلا نہیں کی جائے گی۔

(مسند احمد: جلد 4 صفحہ 93۔ اس کی سند صحیح ہے، سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 259) 

اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اس حدیث کو روایت کرنا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے محبت کی دلیل ہے۔

12۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ کے کسی راستے میں ان کی ملاقات سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو ان سے کہا: آپ پر میرے باپ قربان ہوں، آپ میرے لیے اپنے پیٹ پر سے کپڑا اٹھا دیں تاکہ میں اس جگہ کو بوسہ دے سکوں جہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ انھوں کپڑا اٹھایا تو انھوں نے ان کی ناف کو بوسہ دیا۔

(المستدرک: جلد 3 صفحہ 163) حاکم نے اس کو صحیح قرار دیاہے اور ذہبیؒ نے ان کی موافقت کی ہے۔)

صفحہ 1 از 4