غزوۂ احزاب سے لے کر وفات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اہم کارنامے
علی محمد محمد الصلابیسیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ احزاب میں:
غزوۂ احزاب میں امیر المؤمنین علیؓ کا موقف نہایت شاندار اور شجاعت مندانہ تھا اور اس کا اصل محرک وہ عقیدہ تھا جو آپﷺ کے صحابہ کرامؓ کے دلوں میں راسخ تھا اور وہ اس کی دعوت دیتے تھے، اس کے راستہ میں قربان ہو جانے کو ترجیح دیتے تھے، جو اس کا مخالف ہوتا اس سے لاتعلق رہتے۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ حضرت علیؓ مسلمانوں کی ایک جمعیت لے کر نکلے تاکہ اس جگہ پر قبضہ کر لیں جہاں سے ان سواروں نے گھوڑوں کو گذارا، سوار سامنے سے دوڑے چلے آرہے تھے، عمرو بن عبدود جنگ بدر میں لڑا تھا اور زخمی ہوگیا تھا، اس لیے جنگ احد میں غائب تھا، لیکن جنگ خندق کے موقع پر ایک امتیازی نشان لگا کر آیا تھا تاکہ اسے پہچانا جاسکے، جب وہ اس کے ساتھی رکے تو اس نے پکار کر کہا کہ کون مقابلہ پر آتا ہے؟ سیدنا علیؓ مقابلہ پر آئے اور اس سے کہا : عمرو! دیکھو تم نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ اگر کوئی قریشی مجھے کسی بھی دو چیزوں کی دعوت دے گا تو میں قبول کر لوں گا۔ عمرو نے جواب دیا: بےشک سیدنا علیؓ نے اس سے کہا پھر میں تجھے اللہ، اس کے رسول کی طرف اور اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں۔
عمرو نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ پھر حضرت علیؓ نے کہا: میں تجھے قتال کی دعوت دیتا ہوں۔ اس نے کہا: برادر زادہ! یہ کیوں؟ اللہ کی قسم میں تو تمھیں قتل نہیں کرنا چاہتا، حضرت علیؓ نے جواب دیا : مگر اللہ کی قسم! میں تجھے قتل کرنا پسند کروں گا، اب عمرو غضب ناک ہوا اور گھوڑے سے اچھل کر نیچے اتر آیا، پہلے تلوار گھوڑے کے پاؤں پر ماری، جس سے کونچیں کٹ گئیں، پھر اس کے منہ پر مکا رسید کیا تاکہ پیچھے ہٹ جائے، پھر حضرت علیؓ کی طرف بڑھا، دونوں میں لڑائی ہوئی، آخر سیدنا علیؓ نے اس کا خاتمہ کردیا اور باقی سوار شکست کھا کر خندق سے گزرتے ہوئے بھاگ گئے۔
(السیرۃ النبویۃ: ابن ہشام: جلد 3 صفحہ 248)
حافظ ابن کثیرؒ نے امام بیہقیؒ کی دلائل النبوۃ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس سلسلہ میں عمرو بن ود اور حضرت علیؓ کے درمیان اشعار کا تبادلہ ہوا، چنانچہ جب عمرو مقابلہ کے لیے نکلاتو یہ شعر کہا :
وَ لَقَدْ بُحِحْتُ مِنَ النِّدَائِ لَجَمْعِہِمْ: ہَلْ مِنْ مُبَارِزْ
’’میں ان ( مسلمانوں ) کے لشکر کو یہ کہہ کر پکارتے ہوئے نازاں ہوں کہ کیا ہے کوئی مقابلہ کرنے والا۔‘‘
وَوَقَفْتُ إِذْ جَبَنُ الْمُشَجَّعُ مَوْقُوْفٌ لِقِرنِ الْمُنَاجِزْ
’’اچھے اچھے دلیر وحوصلہ مند بہادر جب بزدل ہوئے تو میں نے ٹکر لینے والے جانباز کا کردار نبھایا۔‘‘
وِ لِذَاکَ إِنِّيْ لَمْ أَزَلْ مُتَسَرِّ عاً قَبْلَ الْہَزَاہِزْ
’’اسی لیے میں ہمیشہ آفتوں بھری جنگ کی طرف پیش پیش رہتا ہوں۔ ‘‘
إِنَّ الشُّجَاعَۃَ فِی الفَتَی وَ الْجُوْدَ مِنْ خَیْرِ الْغَرَائِزْ
’’بلاشبہ ایک نوجوان میں شجاعت اور سخاوت اس کی سب سے عمدہ خصلت ہے۔‘‘
اور جب حضرت علیؓ مقابلے میں اترے تو کہا:
لَا تَعْجَلَنَّ فَقَدْ أَتَاکَ مُجِیْبُ صَوْتِکَ غَیْرُ حَاجِزْ
’’جلدی نہ کرو (گھبراؤ نہیں) تمھاری للکار کا جواب دینے والا سامنے حاضر ہے۔ ‘‘
فِیْ نِیَّۃٍ وَ بَصِیْرَۃٍ وَالصِّدْقُ مُنْجِيْ کُلِّ فَائِزْ
’’مضبوط ارادہ اور پورے ہوش و حواس کے ساتھ اور صداقت ہی ہر کامیاب ہونے والے کے لیے، ذریعہ سے نجات ہے۔ ‘‘
إِنِّيْ لَأَرْجُو أَنْ اُقِیْمَ عَلَیْکَ نَائِحَۃَ الْجَنَائِزْ
’’مجھے امید ہے کہ میت پر بین کرنے والیوں کو تمھارے بھی قتل پر لا جمع کروں گا۔‘‘
مِنْ ضَرْبَۃٍ نَجْلَائَ یَبْقَیٰ ذِکْرُہَا عِنْدَ الْہَزَ اہِزْ
’’ایسی زبرد ست مار کے ذریعہ سے کہ جنگوں کے وقت اس کا تذکرہ ہوا کرے گا۔‘‘
سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ جب سیدنا علیؓ نے عمرو بن ود کو قتل کر دیا تو آپؓ نے یہ اشعار پڑھے:
أعَلَیَّ تَقْتَحِمُ الْفَوَارِسُ ہٰکَذَا عَنِّی وَعَنْہُمْ أَخَّرُ وا أَصْحَابِیْ
’’کیا بہادر کہے جانے والے شہ سوار مجھ پر اس طرح دھا وا بولیں گے، جب کہ میرے دیگر ساتھیوں کو انھوں نے مجھ سے اور اپنے سے دور کھڑا کر رکھا ہے۔‘‘
اَلْیَوْمَ یَمْنَعُنِيْ الْفَرَارُ حَفِیْظَتِيْ وَمُصَمِّمٌ فِی الرَّأْسِ لَیْسَ بِنَابِي
(السیرۃ النبیویۃ: ابن ہشام: جلد 3 صفحہ 248)۔
’’آج مجھے میری غیرت اور ایک ہی وار میں سر کے اندر تک گھس جانے والی تلوار، بھاگنے سے روک رہی ہیں۔‘‘
پھر عمرو بن عبدود کے مارے جانے سے عکرمہ شکست کھا کر اور اپنا نیزہ چھوڑ کر بھاگ گیا، اس کے بارے میں حضرت حسان بن ثابتؓ نے یہ اشعار کہے :
فَرَّ وَ أَلْقَیٰ لَنَا رُمْحَہُ لَعَلَّکَ عِکْرَمُ لَمْ تَفْعَلِ
’’ہمارے لیے اپنا نیزہ ڈال کر وہ (عکرمہ) فرار ہوگیا، اے عکرمہ! شاید تو نے ایسا نہیں کیا ہوگا۔‘‘
وَوَلَّیْتَ تَعْدُوکَعَدْوِالظَّلِیْمِ مَا إِنْ یَحُوْرُ عَنِ الْمِعْدِلِ
’’اور تو پیٹھ دکھا کر اس طرح بھاگا جیسے نرشتر۔ مرغ بھاگتا ہے اور اپنے نشانہ سے مڑتا نہیں۔‘‘
وَلَمْ تَلْوِ ظَہْرَکَ مُسْتَانِساً کَأَنَّ قَفَاکَ قَفَا فُرْعُلِ
’’تو شوق سے اس طرح بھاگتا رہا کبھی پیٹھ نہیں پھیری گویا تیری گدی بجّو کی گدی ہے جو مڑتی نہیں۔‘‘
بہرحال جب عمرو بن عبدود قتل کر دیا گیا تو مشرکوں نے رسول اللہﷺ سے کہلوایا کہ ہم عمرو کی لاش کو دس ہزار کے بدلے خریدنا چاہتے ہیں آپﷺ نے فرمایا: ’’انہیں اس کی لاش دے دو، وہ لاش خبیث ہے اور اس کا معاوضہ بھی خبیث و ناپاک ہے، چنانچہ آپﷺ نے ان سے کچھ بھی نہیں لیا، حالانکہ اس وقت مسلمان سخت ترین معاشی تنگی سے گزر رہے تھے، لیکن چونکہ حلال حلال ہے اور حرام حرام ہے، اس لیے اسے ہاتھ نہ لگایا، یہ ہے حلال اور حرام کی تمیز کا اسلامی معیار، پس تقویٰ سے لبریز اس زندگی کا آج کے ان مسلمانوں کی زندگی سے کیا موازنہ کیا جا سکتا ہے جو سود خوری اور دیگر حرام خوری کے لیے مختلف حیلہ اور بہانہ ایجاد کرتے رہتے ہیں؟
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 4 صفحہ 106)۔
