سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سخاوت کا بیان - دفاعِ اہلِ سنت…

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سخاوت کا بیان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بکثرت صدقات کرنے والی سخی خاتون تھیں۔ جب تک وہ تمام مال فقراء و مساکین پر خرچ نہ کر دیتیں اپنے ہاتھ کو نہ روکتیں۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک گھر ایک لاکھ دینار میں فروخت کیا پھر اس کی قیمت فقراء میں تقسیم کر دی اور سیدنا عبداللہ بن زبیر نے ان کی طرف درخواست لکھ بھیجی۔

عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد سب لوگوں سے زیادہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے محبت تھی اور وہ بھی سب سے زیادہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اللہ کا جتنا رزق بھی آتا، وہ اسے فوراً صدقہ کر دیتی تھیں۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: انھیں روکنا چاہیے۔ (تاکہ وہ سوچ سمجھ کر صدقہ و خیرات کریں۔)

(عمدۃ القاری للعینی: جلد 16 صفحہ 77)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ سنا کہ مجھے روکا جائے گا اگر میں ابن زبیر سے بات کروں تو مجھ پر نذر کا کفارہ پڑ جائے، چنانچہ ابن زبیر نے کچھ قریشیوں خصوصاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموؤں کے ذریعے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سفارش پہنچائی، تو انھوں نے ان کی سفارش رد کر دی۔

(عمدۃ القاری للعینی: جلد 16 صفحہ 77۔)

چنانچہ زہریوں (جو زہرہ کی طرف منسوب لوگوں کو کہا جاتا ہے اس کا نام مغیرہ بن کلاب تھا) میں سے عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے کہا: جب ہم دونوں اجازت طلب کریں تو تم فوراً پردہ میں گھس آنا۔ چنانچہ انھوں نے ایسے ہی کیا۔ (جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خوش ہو گئیں )تب انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دس غلام بھیجے تو آپ رضی اللہ عنہا نے انھیں آزاد کر دیا۔ پھر وہ مسلسل آزاد کرتی رہیں حتیٰ کہ چالیس غلام آزاد کیے۔ تب وہ کہہ اٹھیں میں نے جب قسم اٹھائی تھی، اسی وقت کوئی کام خاص کر لیتی اور اسے کر کے فارغ ہو جاتی۔

(صحیح بخاری: 3505)

ان کی سخاوت اور فراخ دلی کی دلیل وہ روایت بھی ہے جو عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے روایت کی ہے:

’’سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف ایک لاکھ درہم بھیجے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے یہ مال فوراً تقسیم کر دیا اور کچھ بھی نہ رکھا، تو ان کی خادمہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا آپ روزہ سے ہیں کاش ہمارے لیے ایک درہم کا گوشت خرید لیتیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر مجھے یاد ہوتا تو میں ایسا ضرور کرتی۔‘‘

(ابن سعد نے اسے الطبقات الکبرٰی: جلد 8 صفحہ 67) پر اور ابو نعیم نے (حلیۃ الاولیاء: جلد 2 صفحہ 47) اور ذہبی نے (سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 187) پر روایت کیا ہے۔ 

عروہ رحمہ اللہ ہی سے روایت ہے:

’’میں نے انھیں ستر ہزار درہم صدقہ کرتے ہوئے دیکھا اور ان کی اپنی قمیض کو پیوند لگے ہوئے تھے۔‘‘

(مطبوعہ نسخہ میں تُرْفَعُ۔ہے بقول محقق شاید خطا مطبعی ہے اور صحیح یہ ہے تُرْقَعُ یعنی ان کی سادگی کا یہ حال تھا کہ قمیض پر پیوند لگے تھے۔ (غریب الحدیث للحربی: جلد 2 صفحہ 694۔ مشارق الانوار للقاضی عیاض: جلد 1 صفحہ 256۔ النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 114) احمد نے اسے (الزہد: صفحہ 165) پر اور ابن سعد نے (الطبقات الکبرٰی: جلد 8 صفحہ 66) اور ابو نعیم نے (حلیۃ الاولیاء: جلد 2 صفحہ 47) پر روایت کیا اور ذہبی نے اسے (سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 187) پر نقل کیا اور اسے صحیح کہا ہے

ام ذرہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے:

’’ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف مال سے بھرے دو بڑے تھیلے ( الغرارۃ: اُون یا بکری کے بالوں کا بنا ہوا بڑا تھیلا۔ (لسان العرب لابن منظور: جلد 5 صفحہ 16۔ تاج العروس للزبیدی: جلد 13 صفحہ 226) بھیجے جن میں تقریباً ایک لاکھ درہم ضرور ہوں گے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فوراً ایک تھال منگوایا اور آپ اس دن روزے سے تھیں۔ تو وہ مال لوگوں میں تقسیم کرنے لگیں۔

بقول راوی جب شام ہوئی تو خادمہ سے کہا: اے لڑکی! میرے افطار کے لیے کچھ لے آؤ۔ ام ذرہ نے کہا: کیا آپ اتنا بھی نہ کر سکیں کہ جو مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہے اس میں سے ایک درہم کا گوشت خرید لیتیں اور اس کے ساتھ افطار کر لیتیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہا: تو مجھے اب ملامت نہ کر۔ اگر تو اس وقت مجھے یاد دلا دیتی تو میں ایسا ہی کرتی۔‘‘

(ابن سعد نے اسے (الطبقات الکبری: جلد 8 صفحہ 67) پر، ابو نعیم نے (حلیۃ الاولیاء: جلد 2 صفحہ 47) پر روایت کیا اور ذہبی نے اسے (سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 187۔) پر نقل کیا

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا ایک مکان سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہا کو ایک لاکھ اسی ہزار درہم میں فروخت کیا اور جب تک وہ سب تقسیم نہ کر لیا اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ اٹھیں۔

( ما دامت: یعنی ما قامت آپ رضی اللہ عنہا کھڑی نہ ہوئیں۔ (فتح الباری لابن حجر: جلد 1 صفحہ 126۔) اسے ابن سعد نے (الطبقات الکبری: جلد 8 صفحہ 165) 

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’ایک بار میں نے اپنی نئی قمیض زیب تن کی، میں خود اسے دیکھنے لگی اور وہ مجھے بہت اچھی لگی۔ میرے ابا جان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تم کیا دیکھ رہی ہو؟ بے شک اللہ تعالیٰ تمھیں نہیں دیکھ رہا۔ میں نے کہا: اس کا کیا مطلب؟ انھوں نے فرمایا: کیا تمھیں علم نہیں جب بندے میں خود پسندی آ جاتی ہے تو اس کا رب عزوجل اس پر ناراض ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ زینت ترک کر دے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے فوراً اسے اتارا کر صدقہ کر دیا۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اُمید ہے تمہارا یہ عمل اس فعل کا کفارہ بن جائے گا۔‘‘

(ابو نعیم نے اسے (حلیۃ الاولیاء: جلد 1 صفحہ 37) پر روایت کیا۔ 

عطاء سے روایت ہے:

’’سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف ایک لاکھ درہم کا ایک ہار بھیجا۔ انھوں نے اسے امہات المومنینؓ میں تقسیم کر دیا۔‘‘

صفحہ 1 از 2