Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مکہ مکرمہ

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں محرز بن حارثہ بن ربیعہ بن عبد شمس رضی اللہ عنہ مکہ کے پہلے والی گورنر تھے، ان کے بعد آپؓ کے عہد خلافت میں قنفذ بن عمیر بن جدعان تمیمی رضی اللہ عنہ وہاں کے گورنر ہوئے، یہ بھی اپنے پہلے گورنروں کی طرح رہے۔

محرز بن حارثہ اور قنفذ بن عمیرؓ کی مدت ولایت میں مکہ کے حالات سے متعلق کوئی روایت نہیں ملتی اور نہ ہی اس کا ذکر ملتا ہے کہ یہ کتنے دن اس منصب پر فائز رہے، ان کے بعد نافع بن حارث الخزاعیؓ حضرت عمرؓ کی طرف سے مکہ کے گورنر مقرر ہوئے اور یہی آپ کی وفات تک مکہ کے گورنر رہے۔ تاریخی مصادر میں ان کی گورنری کے دوران رونما ہونے والے دو ایک اہم واقعات کا ذکر ملتا ہے، مثلاً یہ کہ سیدنا عمرؓ نے صفوان بن امیہؓ کا گھر اس مقصد سے خریدا تھا کہ اسے جیل خانہ بنائیں گے۔

(صحیح البخاری الخصومات: جلد 3 صفحہ 25، باب الربط والحبس: مسند أِحمد: حدیث 232 الموسوعۃ الحدیثیۃ۔ اس کی سند صحیح ہے۔ صحیح بخاری کی روایت میں یہ واقعہ اس طرح ہے کہ) اسی طرح ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ جب حضرت عمرؓ حج کے لیے مکہ آئے تو مقام ’’عسفان‘‘ پر حضرت نافعؓ کی سیدنا عمر فاروقؓ سے ملاقات ہوئی۔ حضرت عمرؓ نے ان سے پوچھا کہ وادی یعنی مکہ پر کس کو اپنا قائم مقام بنا کر آئے ہو۔ نافع نے کہا: ابن ابزیٰ کو۔ آپؓ نے پوچھا: ابن ابزیٰ کون ہے؟ حضرت نافعؓ نے کہا: ہمارے غلاموں میں سے ایک غلام ہے، حضرت عمرؓ نے فرمایا: مکہ والوں پر ایک غلام کو حاکم بنا کر آئے ہو؟ حضرت نافعؓ نے کہا: وہ قرآن مجید کے حافظ و عالم اور علم فرائض کے ماہر ہیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: سنو! تمہارے نبیﷺ نے برحق فرمایا ہے:

 اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِہٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ

(الولایۃ علی البلدان: عبدالعزیز العمری: جلد 1 صفحہ 67، اس فصل کا یہ اہم مرجع ہے میں نے اس فصل میں اسی کتاب کی تلخیص پیش کی ہے)

’’بے شک اللہ تعالیٰ اس کتاب قرآن مجید کے ذریعہ بہت سی قوموں کو بلند کرتا ہے اور دوسری بہت سی قوموں کو پست کرتا ہے۔‘‘

عہد فاروقی میں ریاست مکہ مکرمہ کا سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ حرم مکی کی توسیع کی گئی۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے کعبہ کے اردگرد کے مکانات کو خرید کر منہدم کرا دیا اور اسے حرم مکی میں شامل کر کے چاروں طرف سے معمولی اونچائی کی چار دیواری قائم کر دی۔

حج کے موسم میں مکہ مکرمہ ہی مختلف علاقوں اور صوبوں سے آنے والے والیان و امراء کی امیر المؤمنین حضرت عمرؓ سے ملاقات کے لیے جائے اجتماع ہوتا تھا اور اس طرح عہد فاروقی میں اسلامی سلطنت کے لیے ایک عظیم صوبے کی حیثیت سے مکہ مکرمہ کا بنیادی کردار ہوا کرتا تھا۔