مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما تک پہنچنا اور ابن زیاد کے لشکر سے ملاقات کرنا
ابو شاہینمسلم بن عقیلؓ کی شہادت کی خبر کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما تک پہنچنا اور ابن زیاد کے لشکر سے ملاقات کرنا
حضرت حسین رضی اللہ عنہ 8 ذوالحجہ 60 ہجری کو مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے، تو والی مکہ عمرو بن سعید بن العاصؒ نے اپنے بھائی یحییٰ بن سعید بن العاصؒ کی سربراہی میں ان کے پاس ایک وفد بھیجا، جس نے حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کو واپس لانے کی کوشش کی مگر انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اللہ سے نہیں ڈرتے، آپ مسلمانوں کی جماعت سے نکل رہے ہیں اور اس امت میں اختلاف پیدا کر رہے ہیں۔ اس پر انہوں نے اس قرآنی آیت کی تلاوت کی
لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَکُمْ عَمَلُکُمْ اَنْتُمْ بَرِیْٓؤُنَ مِمَّآ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓئٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَo (یونس: 61)
’’میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے۔ تم میرے اعمال سے لاتعلق ہو اور میں تمہارے اعمال سے لاتعلق ہوں۔"
حضرت حسینؓ اپنے اہل بیت اور اہل کوفہ کے ساٹھ شیوخ کے ساتھ عراق روانہ ہوئے تھے۔ (تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 309 مواقف المعارضۃ: صفحہ، 262 ) آپ کی روانگی کے وقت مروان بن حکم نے ابن زیاد کو لکھا، سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ تیری طرف آ رہے ہیں۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہما سیدنا فاطمہ الزہرا کے فرزند ارجمند ہیں اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں۔ اللہ کی قسم حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر ہمیں کوئی شخص پیارا نہیں ہے، خبردار غصے میں آ کر کوئی ایسی حرکت نہ کرنا جس کا کوئی چیز ازالہ نہ کر سکے، اسے عوام الناس بھلا نہ سکیں اور اس کی یاد ہمیشہ آتی رہے۔ ( الطبقات: جلد،5 صفحہ، 167 تہذیب الکمال: جلد، 6 صفحہ، 622) اسی طرح عمرو بن سعید بن العاصؒ نے اسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے تعرض کرنے سے منع کیا اور ان کے ساتھ معاملہ کرتے وقت محتاط رہنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا، اما بعد! سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ تیری طرف آ رہے ہیں اور اس قسم کے موقعہ پر یا تو تو آزاد ہو گا یا غلاموں کی طرح غلام بن جائے گا۔
( ہذیب الکمال: جلد، 6 صفحہ، 622 مواقف المعارضۃ: صفحہ، 263 )
کوفہ جاتے وقت ’’ذاتِ عرق‘‘ کے مقام پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ملاقات مشہور شاعر فرزدق کے ساتھ ہوئی، آپ نے اس سے اھل کوفہ کے بارے میں دریافت کیا تو وہ کہنے لگا، اہل کوفہ آپ کو بے یارومددگار چھوڑ دیں گے لہٰذا آپ ان لوگوں کے پاس نہ جائیں، اس لیے کہ آپ ان لوگوں کے پاس جا رہے ہیں، جن کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور تلواریں بنو امیہ کے ساتھ ( لبدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ، 510)جب یزید بن معاویہ کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مکہ سے کوفہ کے لیے روانگی کا علم ہوا تو اس نے ابن زیاد کو لکھا، مجھے معلوم ہوا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ عراق کے لیے روانہ ہو چکے ہیں، ان کی وجہ سے تیرا زمانہ، تیرا شہر اور خود تو آزمائش سے دوچار ہو گے، اس نازک موقع پر یا تو توآزاد ہو جائے گا یا غلاموں کی طرح دوبارہ غلام بن جائے گا۔
(مجمع الزوائد: جلد، 9 صفحہ، 139 المعجم الکبیر: جلد، 3 صفحہ، 115)