ایک اہم سوال اور اس کا جواب
مولانا اقبال رنگونیجب اہلِ سنت اور شیعہ مؤرخین اور ان کے معتمد علماء کے بیانات سے یہ بات سامنے آ گئی کہ سیدنا حسینؓ کی شہادت میں اہلِ کوفہ کے ساتھ عبیداللہ بن زیاد اور شمر کا سب سے بڑا ہاتھ تھا اور یہی وہ دو لیڈر تھے جنہوں نے خاندانِ نبوتﷺ کو ختم کرنے کی ٹھان لی تھی، تو پھر شیعہ علماء ان دونوں کی بجائے زیادہ تر یزید کا کیوں ذکر کرتے ہیں؟
جواب: اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ اگر وہ اپنے مجمع اور مجالس میں صرف ان دونوں کا نام لیں تو سیدنا امیرِ معاویہؓ تک نہیں پہنچ سکتے اس میں شک نہیں کہ اس سلسلے میں یزید کو شہادتِ سیدنا حسینؓ کے معاملے سے علیحدہ نہیں رکھا جا سکتا اور نہ اس کے لیے کوئی گنجائش کی راہ نکل سکتی ہے اہلِ بیتؓ کے خلاف ظالمانہ اور سفاکانہ سلوک اور ان کے ساتھ آنے والے دیگر حضرات کی شہادت اس کے دورِ حکومت میں ہوئی ہے اسے چاہیے تھا کہ اس کی پوری تحقیق کرتا اور جن کے ہاتھ ان ناپاک جرائم میں ملوث تھے، ان سب کے خلاف کڑی کارروائی کرتا اور قرار واقعی سزا دیتا، مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔
اسی طرح بعض دیگر حضرات نے بھی یزید کو براہِ راست شہادتِ سیدنا حسینؓ کا ذمہ دار بھی بتلایا ہے اس کے علاوہ اس موقع پر کم از کم اپنے والدِ محترم سیدنا امیرِ معاویہؓ کی اس وصیت پر عمل کرنا تھا جو انہوں نے اسے اپنے سامنے بٹھا کر کی تھی:
واما سیدنا امام حسینؓ پس میدانی قرابت وابہ حضرتِ رسالت و او پاره تنِ آنحضرت و از گوشت و خونِ آنحضرت پرورده است۔
ترجمہ: سیدنا حسینؓ کے بارے میں تم کو پتہ ہے کہ حضورِ اکرمﷺ کے ساتھ ان کی قرابت ہے وہ حضورِ اکرمﷺ کے جسم کے ٹکڑے ہیں اور آپ کے گوشت و خون سے ان کی پرورش ہوئی ہے اور میں جانتا ہوں کہ اہلِ عراق یقیناً ان کو اپنی طرف سے بلائیں گے اور وہ ان کا ساتھ نہ دیں گے، ان کو تنہا چھوڑ دیں گے اگر ان پر قابو پاؤ تو ان کے حق اور ان کی عزت کا خیال رکھنا، اور جو مرتبہ ان کو حضرتِ رسالتﷺ سے ہے، ان کو یاد رکھنا اور ان کے افعال پر گرفت نہ کرنا، اور جو تعلقات اس مدت میں، میں نے ان کے ساتھ مضبوط کیے ہیں، ان کو قطع نہ کرنا اور خبردار! ان کو کوئی تکلیف اور اذیت نہ پہنچانا۔ (شیعہ کتاب جلاء العیون: جلد 2 صفحہ 509)
اور سیدنا امیرِ معاویہؓ نے اس سے ایک اور بات بھی کہی، جس سے شیعہ مؤرخ اور سلطان ناصرالدین قاجار کے وزیراعظم مرزا احمد تقی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا: اے پروردگار! اس شخص سے برکت لے لے جو میرے حسین کی حرمت میں کمی کرے۔
(النجم لکھنؤ 2 رمضان 1346ھ جلد 5 شمارہ نمبر 9 1 بحوالہ ناسخ التواریخ)
جس طرح سیدنا امیرِ معاویہؓ نے یزید کو اس بات کی تاکید کی کہ اس بات کا دھیان رکھنا کہ تم سے سیدنا حسینؓ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اور ان کی عزت و احترام میں فرق نہ آئے، اگر یزید اس وصیت کا لحاظ رکھتا تو اولاً اسے سرجون نامی ایک عیسائی کے مشورے پر عبیداللہ بن زیاد کے ہاتھ میں کوفہ کا انتظام نہ دیتا۔ اگر اس نے دے بھی دی تو اسے چاہیے تھا کہ اس نازک موڑ پر کم از کم خود فوراً شام سے کوفہ آ جاتا اور خود سیدنا حسینؓ سے مل کر اس معاملے کو حل کر لیتا کہ مسئلہ صرف بیعت اور انتظامی امور کا نہ تھا، بلکہ جن کے نام کا کلمہ پڑھنے کا وہ مدعی تھا، اس کا محبوب پوتا اپنے اہل و عیال کے ساتھ کوفہ پہنچ چکا تھا اور خطرہ بھی تھا کہ حالات بگڑ کر ہاتھ سے نکل جائیں گے مگر اس نے ایسا نہیں کیا اور اہلِ بیتؓ کا خون کربلا کی زمین پر آخر کار بہہ ہی گیا۔ فَإِلَى اللّٰهِ الْمُشْتَكَى۔
لیکن جب ہم شیعہ کتابوں کی روشنی میں یزید کا کردار دیکھتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ یزید آپ کی شہادت پر خوش نہ تھا اور افہام و تفہیم کے ذریعے اس معاملے کو حل کرنے کا خواہشمند تھا اور اس نے یہ بات کہی بھی تھی کہ اگر یہ معاملہ ابنِ زیاد کے بجائے میرے پاس آ جاتا تو نوبت یہاں تک نہ جاتی پھر یزید کا اہلِ بیتؓ اور ان کی خواتین کے ساتھ حسنِ سلوک کے جو واقعات شیعہ کتابوں میں موجود ہیں، اس سے بھی اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ اس نے نہ تو قتل کا حکم دیا تھا اور نہ وہ اس قتل پر راضی تھا، بلکہ اسے اس سے بھی دکھ ہوا تھا اور اس نے انعام مانگنے پر شمر کو اپنے گھر سے نکال دیا تھا اور ایک قاتل کو سزائے موت بھی دی تھی۔
سوال یہ ہے کہ آخر شیعہ علماء اور ان کے ذاکرین اس سانحہِ فاجعہ کا سارا بوجھ یزید ہی پر کیوں ڈالتے ہیں؟ اور ابنِ زیاد اور شمر کا نام لینے سے اس طرح کیوں کتراتے ہیں جس طرح وہ یزید پر سب و شتم کرتے ہیں؟ ہم نے اس کا جواب دو لفظوں میں دے دیا: کہ اگر وہ عبیداللہ بن زیاد اور شمر کو اس کا بڑا ذمہ دار بتائیں گے تو وہ سیدنا امیرِ معاویہؓ پر اپنے دل کی بھڑاس نہیں نکال سکیں گے سیدنا امیرِ معاویہؓ پر پہنچنے اور ان پر سب و شتم کے لیے اس پورے واقعے کی ساری ذمہ داری جب یزید پر عائد کریں گے تو ہی سیدنا امیرِ معاویہؓ ان کا نشانہ بن سکتے ہیں اور عوام الناس کے دلوں میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کے خلاف نفرت اور عداوت بھری جا سکتی ہے۔
پھر یہ بھی پیشِ نظر رکھے کہ یہ لوگ سیدنا حسینؓ کی شہادت کا یہ سارا بوجھ صرف سیدنا امیرِ معاویہؓ پر نہیں ڈالتے یزید کا بہانہ بنا کر سیدنا امیرِ معاویہؓ کو نشانہ نہیں بناتے، بلکہ ان کے علماء اس واقعے کا سارا بوجھ سیدنا ابوبکر صدیقؓ تک لے جاتے ہیں اور انہیں بھی شہادت حسینؓ کا ملزم بایں طور پر ٹھہراتے ہیں کہ اگر حضورِ اکرمﷺ کے بعد خلافت سیدنا علیؓ کے پاس ہوتی تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ اپنے لوگوں کے ساتھ مل کر خلافت کو غصب نہیں کرتے، تو بات نہ سیدنا عمر فاروقؓ تک آتی، نہ سیدنا عثمانِ غنیؓ تک پہنچتی، نہ سیدنا امیرِ معاویہؓ برسرِ اقتدار آتے اور نہ یزید ہوتا جس دن غصبِ خلافت کا سانحہ پیش آیا تھا، تو (بقول ان کے) سیدنا حسینؓ تو اس دن شہید کر دیے گئے تھے ان کا ایک شاعر کہتا ہے:
بنا کردند ایں قولِ صحیفہ
حسین کشتہ شد اندر ثقیفہ
ترجمہ: سیدنا حسینؓ ثقیفہ (جہاں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت ہوئی) میں شہید کر دیے گئے تھے جب ان لوگوں کی ہر مجلس، ہر بات کی ٹانگ سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر ہی آ کر ٹوٹتی ہے، تو پھر ان کے سب و شتم کا نشانہ سیدنا امیرِ معاویہؓ ہوں تو اس میں کون سی حیرانی کی بات ہے۔
ایران کے شیعہ سربراہ خمینی نے تو اسلام میں درآمد ہونے والی ساری خرابیوں اور برائیوں کی ذمہ داری مجلسِ ثقیفہ پر عائد کر ڈالی کہ اگر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت وہاں نہ ہوتی تو اب تک ہونے والی تمام خرابیوں سے مسلمان بچے ہوئے تھے شیعہ خمینی لکھتا ہے:
آنچہ تاکنون با مسلمانان رسیده آثارِ روزِ سقیفہ باید شمرد۔
(کشفِ اسرار: صفحہ 171، مطبوعہ ایران 1363ھ)
آج تک مسلمانوں پر جو مصائب آئے ہیں، اسے ثقیفہ کے اثرات اور نتائج میں سے شمار کرنا چاہیے۔ سو یہ لوگ اپنی محرم کی مجلسوں میں یزید کا زیادہ تر تذکرہ اس لیے کرتے ہیں کہ اس سے وہ اپنے عوام میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کو طنز و طعن اور سب و شتم کا نشانہ بنائیں اور ان کے دلوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بالخصوص سیدنا امیرِ معاویہؓ کے خلاف نفرت پیدا کریں۔
