دشمن کو بھاگنے کا موقع فراہم کرنا اور رومی پیادہ فوج کا…

دشمن کو بھاگنے کا موقع فراہم کرنا اور رومی پیادہ فوج کا صفایا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے شہسوار ساتھیوں کو لے کر رومیوں کے میسرہ پر حملہ کر دیا جس نے مسلمانوں کے میمنہ پر حملہ آور ہو کر اسے قلب کی طرف پھیر دیا تھا سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے اس حملے میں چھ ہزار رومی قتل ہوئے۔ پھر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں سے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو کچھ تم دیکھ چکے ہو اس کے سوا ان کے پاس اب کوئی صبر وطاقت باقی نہیں رہی، مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں کو تمہارے قبضہ میں دے گا۔ پھر سیدنا خالدؓ نے انہیں روکا اور سو شہسواروں کو لے کر ایک لاکھ پر حملہ کر دیا، وہ سب تتر بتر ہو گئے۔ مسلمانوں نے ایک ساتھ ان پر حملہ کیا وہ بکھر گئے اور مسلمان ان کا برابر تعاقب کرتے رہے۔

(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 171، فتوح اللبدان للازدی: صفحہ 171)

اسلامی فوج کے میمنہ نے رومیوں کے سامنے تمام راستہ بند کر دیے اور انہیں وادی یرموک اور دریائے زرقاء کے درمیان محصور کر دیا۔ معرکہ جاری رہا، گھمسان کی جنگ چلتی رہی، مسلمانوں نے خوب ایمانی جوہر دکھائے اور ثابت قدمی کا ثبوت دیا اور رومی فوج کے شہسواروں کو پیادہ فوج سے الگ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ پھر رومیوں پر حملہ کر دیا اور ان پر چڑھ دوڑے اور انہیں تھکا کر رکھ دیا۔ اس کی وجہ سے رومی شہسوار فرار کے لیے راہ تلاش کرنے لگے۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ انہیں بھاگنے کا موقع دو، انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اس طرح رومی شہسوار بھاگ کھڑے ہوئے اور پیادہ رومی فوج کو شہسواروں کی حمایت نہ مل سکی۔ اس طرح وہ خندقوں کی طرف زنجیروں میں باندھ کر لائے گئے اور ان کی مثال گری ہوئی دیوار کی طرح ہو گئی۔ مسلمان رات کی تاریکی میں ان کی خندق کی طرف بڑھے وہ سب کے سب وادی میں گرنے لگے، ان میں سے ایک شخص جب قتل ہوتا تو اس کے ساتھ جتنے افراد زنجیر میں بندھے ہوتے سب گر پڑتے، اس مرحلے پر مسلمانوں نے ان کے بہت سے افراد کو قتل کیا، جن کی تعداد تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار تک پہنچتی ہے۔ ان میں سے کچھ فحل اور کچھ دمشق کی طرف بھاگ گئے۔

(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ: صفحہ 175)

ان کے مقابلہ میں یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ڈٹ گئے اور خوب زور دار قتال کیا، ان کے والد ان کے پاس سے گذرے، فرمایا: میرے لخت جگر! اللہ سے تقویٰ اور صبر لازم پکڑو۔ آج اس وادی میں جو مسلمان بھی ہے اس پر لازم ہے کہ وہ قتال کرے۔ تو تم اور تم جیسے لوگ جو مسلمانوں کے امیر ہیں ان پر تو بدرجہ اولیٰ لازم ہے۔ میرے لخت جگر! اللہ سے ڈرو اور تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی دوسرا تم سے بڑھ کر جنگ میں اجر و صبر کی رغبت رکھنے والا اور اعدائے اسلام کے خلاف جری نہ ہو۔ یزید رضی اللہ عنہ نے کہا: ان شاء اللہ ایسا ہی کروں گا، پھر ڈٹ کر زور دار قتال کیا۔ اس وقت یزید رضی اللہ عنہ قلب کی طرف تھے۔

(فتوح البلدان للازدی: صفحہ 228)

سعید بن مسیب رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ یرموک کے دن خاموشی طاری ہوئی تو ہم نے ایک زور دار آواز سنی جو پورے معسکر میں سنی جا رہی تھی: اللہ کی مدد قریب آجا، مسلمانو! ڈٹ جاؤ، ڈٹ جاؤ۔ ہم نے دیکھا تو وہ آواز دینے والے ابوسفیان رضی اللہ عنہ تھے جو اپنے بیٹے یزید رضی اللہ عنہ کے پرچم تلے تھے۔

(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 173)

مسلمانوں نے مغرب وعشاء کی نماز مؤخر کی، یہاں تک کہ فتح مکمل ہو گئی۔

(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 173)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے روم کے سپہ سالار اعظم ہرقل کے بھائی تذارق کے خیمہ میں یہ رات گذاری۔

(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 173)

وہ بھاگنے والوں کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوا، شہسوار خالد رضی اللہ عنہ کے خیمہ کے اردگرد چکر لگاتے رہے، جو رومی ادھر آتا اس کو قتل کرتے، صبح تک یہی کیفیت رہی۔ تذارق بھی قتل کیا گیا، اس دن اس کے تیس شامیانے اور تیس دیباج کے سائبان تھے اور مزید برآں قالین اور ریشمی پردے اور جوڑے تھے جب صبح ہوئی تو وہاں جو کچھ تھا مسلمانوں نے مال غنیمت میں حاصل کیا۔

(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 173)

اس معرکہ میں مسلمانوں کے شہداء کی تعداد تین ہزار تھی، جن میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم، مسلمان سربراہان اور زعماء شامل تھے۔ جام شہادت نوش کرنے والوں میں عکرمہ بن ابی جہل اور ان کے بیٹے عمرو، سلمہ بن ہشام، عمرو بن سعید، ابان بن سعید وغیرہم رضی اللہ عنہم اجمعین تھے۔

(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ: صفحہ 179)

اور رومی مقتولین کی تعداد تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار تھی۔ ان میں اسی (80) ہزار زنجیروں میں قید اور چالیس ہزار بغیر زنجیروں کے سب کے سب اس وادی میں موت کے گھاٹ اتر گئے۔

(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ: صفحہ 179)

اس عظیم فتح سے مسلمان بے حد خوش ہوئے لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر نے اس خوشی میں بدمزگی پیدا کر دی۔ مسلمان غم سے نڈھال ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عوض سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ عطا کر دیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 14)

رومیوں کے ساتھ یرموک کی جنگ کے دوران ہی میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو پہنچ چکی تھی۔ لیکن سیدنا خالدؓ نے اس خبر کو مسلمانوں سے چھپائے رکھا تاکہ اس کی وجہ سے انہیں کمزوری لاحق نہ ہو اور جب فتح مکمل ہو گئی تو آپؓ نے ان کے سامنے حقیقت کا انکشاف فرمایا۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی جگہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو شام میں سپہ سالار اعظم مقرر فرمایا، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے امیرالمؤمنینؓ کی اس قرار داد کو خوش دلی کے ساتھ قبول فرمایا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 16)

صفحہ 1 از 2