کیا اسلام میں ملوکیت (بادشاہت) مذموم ہے؟ - ردِ رافضیت |…

کیا اسلام میں ملوکیت (بادشاہت) مذموم ہے؟

  محمد ظفر اقبال

یہ بات خود سمجھنے کے قابل ہے کہ کیا اسلام میں بادشاہت فی نفسہٖ مذموم ہے یا نہیں؟ یا صرف وہ بادشاہت بری ہے جو احکامِ شریعت کے خلاف ہو اور اس کی بنیاد تصورِ خلافت کے منافی ہو۔ خود قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کے لیے ہے:

لِمَنِ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ 

(سورۃ غافر: آیت 16) 

ترجمہ: آج کے روز کس کی حکومت ہو گی؟

هُوَ اللّٰهُ الَّذِىۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ۚ اَلۡمَلِكُ الۡقُدُّوۡسُ 

(سورۃ الحشر: آیت 23) 

ترجمہ: وہ ایسا معبود ہے کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، وہ بادشاہ ہے، سب عیبوں سے پاک ہے۔

اسی طرح بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر (سموئیل) سے درخواست کی کہ ہمارے لیے کوئی بادشاہ مقرر کر دیں جس کی قیادت میں ہم جہاد کریں انہوں نے باذنِ الہٰی بتایا کہ اللہ نے تمہارا بادشاہ طالوت کو مقرر کیا اگر ملوکیت کوئی مذموم چیز ہوتی تو نہ پیغمبر اللہ سے اس کی مدد طلب کرتے اور نہ ہی اللہ ان کی اس دعا کو شرفِ قبولیت سے نوازتے۔

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الۡمَلَاِ مِنۡۢ بَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰى‌ۘ اِذۡ قَالُوۡا لِنَبِىٍّ لَّهُمُ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ قَالَ هَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ کُتِبَ عَلَيۡکُمُ الۡقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوۡا قَالُوۡا وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَقَدۡ اُخۡرِجۡنَا مِنۡ دِيَارِنَا وَاَبۡنَآئِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ تَوَلَّوۡا اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡهُمۡ‌ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ ۞ وَقَالَ لَهُمۡ نَبِيُّهُمۡ اِنَّ اللّٰهَ قَدۡ بَعَثَ لَکُمۡ طَالُوۡتَ مَلِكًا  

(سورۃ البقرہ: آیت 246، 247)

ترجمہ: اے مخاطب! تجھے بنی اسرائیل کی جماعت کا قصہ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوا ہے، تحقیق نہیں ہوا، جبکہ ان لوگوں نے اپنے ایک پیغمبر سے کہا کہ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دیجیے کہ ہم اللہ کی راہ میں جالوت سے قتال کریں۔ 

کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔

اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کے والدِ ماجد دونوں نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی۔

(تاریخ ابنِ خلدون: جلد2 صفحہ، 143)

حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں ارشادِ باری ہے: 

وَاٰتٰٮهُ اللّٰهُ الۡمُلۡكَ وَالۡحِکۡمَةَ 

(سورۃ البقرہ: آیت 251)   

ترجمہ: اور ان کو (یعنی حضرت داؤد علیہ السلام کو) اللہ تعالیٰ نے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے لیے دعا مانگی تھی:  

رَبِّ اغۡفِرۡ لِىۡ وَهَبۡ لِىۡ مُلۡكًا لَّا يَنۡۢبَغِىۡ لِاَحَدٍ مِّنۡۢ بَعۡدِىۡ‌ 

(سورۃ ص: آیت 35)

ترجمہ: اے میرے رب! میرا پچھلا قصور معاف کر اور (آئندہ کے لیے) مجھ کو ایسی سلطنت دے کہ میرے سوا (میرے زمانہ میں) کسی کو میسر نہ ہو۔

اس بحث کو مزید طول دیا جا سکتا ہے، لیکن مسئلہ سمجھنے کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ ملوکیت اپنی ذات میں کوئی عیب نہیں رکھتی۔ ملک اسے اچھا یا برا بناتے ہیں۔