Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ترك صلوٰة

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

اگرچہ نماز عماد الدین اور اسلام کا اعلیٰ رکن ہے اور مسلمان و کافر میں ما بہ الامتیاز ہی نماز سجھی جاتی ہے لیکن شیعہ صاحبان نماز سے ایسے بے پروا ہیں کہ گویا اس کی فرضیت کے قائل ہی نہیں نہ صرف یہ کہ خود تارکِ صلوٰۃ ہیں بلکہ نماز پڑھنے والوں پر تمسخر کرتے اور پھبتیاں اُڑاتے ہیں دعویٰ سے کہا جاتا ہے کہ ہمارے ملک کے شیعہ فیصدی شاید دو شخص بمشکل مل سکیں جو پانچ وقت نماز قائم کرتے ہوں باقی سب بے نماز یا نماز میں سخت سست نظر آئیں گے بلکہ شیعہ کا وہ فرقہ جو اپنے آپ کو سیدنا علیؓ کے ملنگ کہلاتے اور عوام ان کو خدا رسیدہ اولیاء تصور کرتے ہیں اور دارہ پر بیٹھ کر ہر وقت بھنگ رگڑا کرتے اور بکواس کیا کرتے ہیں یہ لوگ ننگ دھڑنگ دھوتی باندھے علی علی پکارتے پھرتے ہیں، انہوں نے تو نماز کا عمر بھر کبھی نام ہی نہیں لیا بلکہ جس شخص کو نماز پڑھتا ہوا دیکھ لیں اس سے ٹھٹھا کرتے اور سخت نفرت سے دیکھتے ہیں ان لوگوں کا اعتقاد ہے کہ بخشش نماز میں نہیں بلکہ حبِ حسینؓ میں ہے اور محفلِ حسینؓ میں ماتم کرنا اور نوحہ کرنا ہزار نماز سے افضل ہے حالانکہ شیعہ کی معتبر کتاب فروعِ کافی جلد 1 صفحہ 513 میں ہے تارك الصلوةِ كَافِرُ مِنْ غَيْرِ عِدَّةٍ۔

سیدنا جعفر صادقؒ کا قول ہے کہ تارکِ الصلوٰۃ کافر مطلق ہے۔

 پھر سمجھ لینا چاہیے کہ یہ محبانِ حسنینؓ اور سیدنا علیؓ کے ملنگ تارکِ الصلوٰة بفتویٰ سیدنا جعفر صادقؒ کافر مطلق ہیں۔ 

اب ہم تارک الصلوٰة کی فضیلت میں شیعہ کی ایک معتبر کتاب تحفۃ العوام جلد 1 صفحہ 21 سے ایک نظم نقل کرتے ہیں تا کہ پڑھنے سننے والوں کو عبرت ہو۔