پاک دامن مسلمان خاتون کی طرح اس کا نکاح کر دو
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: میری ایک بچی تھی زمانۂ جاہلیت میں میں نے اس کو زندہ درگور کرنا چاہا تھا، لیکن مرنے سے پہلے ہم نے اسے قبر سے نکال لیا، پھر اس نے اسلام کی حقیقت سمجھ لی اور اسلام لے آئی، پھر حد نافذ کرنے والا جرم زنا کر گزری، اس نے چھری لی تاکہ خود کشی کر لے، ہم نے اس کو پکڑ لیا، حالانکہ وہ اپنی گردن کی رگیں کاٹ بھی چکی تھی، میں نے اس کا علاج کرایا اور وہ شفا یاب ہو گئی، پھر اس نے صدقِ دل سے توبہ بھی کر لی، اب اس نے ایک جگہ اپنی شادی کا پیغام دیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ انہیں اس بچی کے ماضی سے آگاہ کر دوں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: کیا جس چیز کو اللہ نے چھپایا ہے تم اسے ظاہر کرنا چاہتے ہو؟ اللہ کی قسم! اگر تم نے اس کے بارے میں کسی کو بتایا تو تمہیں ایسی سزا دوں گا جو پورے ملک والوں کے لیے عبرت ہو گی، جاؤ اور اس کا پاک دامن مسلمان خاتون کی طرح نکاح کر دو۔
(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 709۔ شعبی تک اس کی سند صحیح ہے، البتہ شعبی اور عمر کے درمیان انقطاع ہے۔)