حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃاللہ (متوفی 1394ھ) - ردِ…

حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃاللہ (متوفی 1394ھ)

  محمد ظفر اقبال

8: حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ (متوفی 1394ھ):

حضرت مولانا ادریس کاندھلوی قدس سرہ (متوفی 1394ھ) لکھتے ہیں: 

المَعنِیُّونَ بِهذَا القَولِ همُ الخُلَفَاءُ الأَربَعَۃُ، لِأَنَّهُ قَالَ فِی حَدِیثٍ آخَرَ: الخِلَافَۃُ بَعدِی ثَلَاثُونَ سَنَۃً، وَقَدِ انتَهتِ الثَّلَاثُونَ بِخِلَافَۃِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنهُ۔

(التعلیق الصبیح: جلد1 صفحہ 203 کتاب الایمان، باب: الاعتصام بالکتاب والسنۃ الخ)  

ترجمہ: اور اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ وہ خلفائے راشدین اربعہ ہیں، اس لیے کہ ایک اور حدیث میں آپﷺ کا ارشاد ہے کہ خلافت میرے بعد تیس برس تک رہے گی، اور یہ تیس سال حضرت سیدنا علیؓ کی خلافت پر پورے ہو گئے۔

مندرجہ بالا تفصیل سے یہ بات آئینہ ہو گئی کہ جمہورِ محدثینؒ کے نزدیک خلافتِ راشدہ (موعودہ) چار بزرگوں ہی میں منحصر ہے چاروں کے سوا کوئی بھی موعود خلیفہ راشد نہیں، خواہ وہ سیدنا حسنؓ ہوں یا سیدنا امیرِ معاویہؓ یا عمر بن عبد العزیزؒ سو مصنفِ نام و نسب کا حضرت عمر بن عبد العزیزؒ سمیت قیامت تک کے نیک خلفاء کو اس حدیث کے عموم میں داخل کرنا اکابرِ محدثین کی تشریح کی رو سے باطل و مردود ہے۔

دوسرے اگر تھوڑی دیر کے لیے مصنفِ نام و نسب کی یہ بات مان بھی لی جائے کہ وہ دیگر خلفاء جن کے عہدِ خلافت میں خلافتِ راشدہ کا رنگ ڈھنگ ہو، وہ بھی اس حدیث کے عموم میں داخل ہیں اور بالتبع وہ بھی واجب الاتباع ہیں، تو اس حدیث کی رو سے حضرت امیرِ معاویہؓ کی سنت کا اتباع امتِ مسلمہ پر یقیناً بلکہ بالاولیٰ واجب ہے، کیونکہ ہم صفحاتِ گزشتہ میں سیدہ عائشہؓ، حضرت علامہ ابنِ خلدونؒ، حضرت مولانا شاہ اسماعیل شہیدؒ، جناب فیض احمد صاحب اویسی بریلوی اور جناب احمد رضا خان صاحب بریلوی کی تصریحات سے اس بات پر ٹھوس ثبوت پیش کر آئے ہیں کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کے عہدِ خلافت میں خلافتِ راشدہ سے مشابہت پائی جاتی ہے چنانچہ ان کی تصریحات نے مصنفِ موصوف کے اس مفروضے ہی کو غلط ثابت کر دیا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کا عہدِ حکومتِ خلافتِ راشدہ کی مشابہت سے خالی ہے جناب احمد رضا خان صاحب جو صراحتاً حضرت امیرِ معاویہؓ کے عہدِ خلافت کو خلافتِ راشدہ میں شمار کرتے ہیں، لہٰذا اگر حدیث فَعَلَیکُم بِسُنَّتِی الخ کے مطابق حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے عہدِ خلافت کا اتباع لازم ہے، تو حضرت امیرِ معاویہؓ کا اتباع بطریقِ اولیٰ لازم ہے۔

تیسرے یہ کہ تھوڑی دیر کے لیے مان لیجیے حضرت امیرِ معاویہؓ کا عہدِ خلافت خلافتِ راشدہ کی مشابہت سے خالی تھا، تو ان کی خلافت کا عدمِ اتباع کہاں سے ثابت ہوتا ہے؟ خلافتِ غیر راشدہ کا خلافتِ غیر اسلامیہ ہونا کہاں سے معلوم ہے؟ 

اور حدیث فَعَلَیکُم بِسُنَّتِی کو بنیاد بنا کر دوسرے خلفاء کی خلافت کے اچھے کاموں کو بھی لائقِ عدمِ اعتبار ٹھہرانا کہاں تک درست ہے؟ اس حدیث میں تو یہ نہیں فرمایا گیا کہ تم خلفائے راشدینؓ کے سوا کسی اور کا اتباع نہ کرنا اگر یہی بات ہے تو حدیث میں آتا ہے: 

اقتَدُوا بِالَّذِینَ مِن بَعدِی مِن أَصحَابِی: أَبِی بَکرٍ وَ عُمَرَ، وَاھتَدُوا بِه عَمَّارٍ، وَتَمَسَّکُوا بِعَھدِ ابنِ مَسعُودٍ۔

(رواہ الترمذی، مشکوٰۃ: صفحہ 578) 

ترجمہ: میرے بعد میرے اصحاب میں سے دو صاحبوں یعنی سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی اقتدا کرنا، سیدنا عمارؓ کی ہدایت سے ہدایت پانا، اور سیدنا ابنِ مسعودؓ کے طریقے کو تھامے رکھنا۔  

تو کیا اس حدیث سے کوئی کم فہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ اب ہم پر حضرت علیؓ کی اقتدا و اتباع لازم نہیں ہے، ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی راہ سے ہدایت نہیں پا سکتے اور طریقہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے تمسک حاصل نہیں کر سکتے؟ اسی طرح حدیث میں ہے: 

استَقرِئءوا القُرآنَ مِن أَربَعَۃٍ: مِن عَبدِ اللّٰہِ بنِ مَسعُودٍ، وَ سَالِمٍ مَولَی أَبِی حُذَیفَۃَ، وَ أُبَیِّ بنِ کَعبٍ، وَ مُعَاذِ بنِ جَبَلٍ۔

(مشکوٰۃ المصابیح: صفحہ574 باب جامع المناقب، صحیح بخاری: جلد 1 صفحہ 531 باب مناقب عبد اللہ بن مسعود، صحیح مسلم: جلد 2 صفحہ 293 باب من فضائل عبد اللہ بن مسعود)  

ترجمہ: قرآن کریم کو چار حضرات سے حاصل کرو۔ اور وہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہؓ، حضرت ابی بن کعبؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ ہیں۔

اب اگر اس سے کوئی یہ مطلب نکالے کہ بس قرآن انہی چار حضرات سے سیکھو، حضرت علیؓ سے مت سیکھو، تو آپ ایسے شخص کو عاقل و فہیم کہیں گے یا احمق و جاہل کہیں گے؟ 

سیدنا امیرِ معاویہؓ کا دور خلافتِ راشدہ کی مشابہت سے خالی ہے، خود یہ کس کا قول ہے؟ اور اس کی کیا حیثیت ہے؟ جب ان کا اتباع کتاب و سنت سے ثابت ہے تو پھر اس مجروح و مجہول قول کے ساتھ استدلال کیسا؟ 

ہمارے نزدیک جو فرق خود حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ اور سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہے وہی فرق ان کی خلافتوں کے مابین ہے مشہور محدث اور فقیہ حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ سے کسی نے دریافت کیا کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ افضل ہیں یا عمر بن عبد العزیزؒ؟ تو انہوں نے فرمایا:

واللّٰہ إن الغبار الذى دخل فى أنف فرس معاویة مع رسول اللّٰهﷺ أفضل من عمر بألف مرة، صلى معاویة خلف رسول اللّٰهﷺ فقال رسول اللّٰهﷺ سمع اللّٰه لمن حمده فقال معاویة ربنا لك الحمد فما بعد هذا الشرف الأعظم

(تطہیر الجنان واللسان: صفحہ 10، 11 الفصل الثانی، تحت فی فضائلہ ومناقبہ و خصوصیاتہ الخ)

ترجمہ: اللہ کی قسم! وہ غبار جو نبی کریمﷺ کی معیت میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کے گھوڑے کے نتھنوں میں داخل ہوئی وہ بھی سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ سے ہزار درجہ افضل ہے سیدنا امیرِ معاویہؓ نے نبی کریمﷺ کی اقتدا میں نمازیں ادا کیں، آپﷺ نے جب سمع اللّٰه لمن حمدہ کہا تو سیدنا امیرِ معاویہؓ اس کے جواب میں ربنا لك الحمد کہتے تھے اس کے بعد اس سے بڑا شرف اور کیا ہو سکتا ہے؟ 

اسی طرح کا ایک واقعہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ نے بھی نقل کیا کہ ایک شخص نے معافی بن عمران رحمۃ اللہ (متوفی 185 ہجری) سے پوچھا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے سامنے سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ کا کیا مقام ہے؟ 

فغضب غضبا شدیدا وقال لایقاس بأصحاب النبیﷺ أحد معاویة صاحبه وصهره وكاتبه وأمينه على وحى اللّٰه

(ایضاً: صفحہ 10)

ترجمہ: معافی بن عمران سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا، اصحاب نبیﷺ کے مقابلہ میں کسی کو قیاس نہیں کیا جا سکتا، سیدنا امیرِ معاویہؓ آنحضرتﷺ کے صحابی سسرالی رشتہ دار، آپﷺ کے کاتب اور وحی الہٰی پر آپﷺ کے امین تھے۔ 

اگر حضرت امیرِ معاویہؓ کی خلافت، خلافتِ راشدہ کی مشابہت سے خالی ہے تب بھی ان کی سنت کا اتباع قرآن و حدیث اور فقہاء و مجہتدین کی تصریحات سے لازم ہے کیونکہ وہ جلیل القدر اور مجتہد صحابی ہیں اور صحابی کا قول و فعل اُمّت کے لیے حجت اور لائق اتباع ہے۔ 

(ملاحظہ ہو: مجمع الزوائد (جلد1 صفحہ178)

مشکوٰۃ (صفحہ 553) 

جامع الاصول (جلد 8 صفحہ 555)

مسند ابی داؤد الطیالسی (صفحہ 33)

ابو داؤد (جلد2 صفحہ633)

کشف الاسرار (جلد2 صفحہ103)

اعلام الموقعین (جلد 4 صفحہ 120)