حیا و عفت
علی محمد الصلابیحیا سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے مشہور ترین اخلاق میں سے ہے۔ حیا کی صفت کتنی بہترین اور شیریں ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو مزین فرمایا تھا، یہ آپؓ کے اندر خیر و برکت کا منبع اور شفقت و رحمت کا مصدر تھا۔ آپؓ سب سے زیادہ حیا دار تھے۔
(عثمان بن عفان، صادق عرجون: صفحہ، 48، 49)
ایک دن حسن بصری رحمۃ اللہ نے حضرت عثمان بن عفانؓ اور ان کی حیا داری کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
آپؓ گھر کے اندر ہوتے، دروازہ بند ہوتا پھر بھی اپنے کپڑے نہیں اتارتے تھے کہ پانی ڈال لیں، اور آپؓ کی حیا داری کا یہ عالم تھا کہ اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کرتے تھے۔
(صحیح التوثیق فی سیرۃ و حیاۃ ذی النورین: صفحہ، 43)
آپؓ کی حیا داری ہی تھی کہ جسے آپؓ کی اہلیہ کی لونڈی بنانہ روایت کرتی ہیں کہ جب آپؓ غسل سے فارغ ہوتے اور میں آپؓ کے کپڑے لے کر حاضر ہوتی تو فرماتے: میری طرف مت دیکھنا یہ تمہارے لیے حلال نہیں ہے۔
(طبقات، ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 59)
اس سے قبل ہم ان احادیثِ نبویہ کو بیان کر چکے ہیں جن میں آپؓ کے حیا و شرم کو بیان کیا گیا ہے۔ رہا آپؓ کی عفت و پاک دامنی اور برے اخلاق سے اجتناب و دوری تو جتنا چاہو بیان کرو کوئی حرج نہیں۔ آپؓ دورِ جاہلیت اور اسلام میں کبھی فحش کے قریب نہیں گئے، چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں:
نہ تو کبھی گانا گایا، نہ تمنا کی، نہ جھوٹ اور باطل کلام زبان سے نکالا، اور جب سے رسول اللہﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی دائیں ہاتھ سے اپنی شرمگاہ کو نہ چھوا، اور نہ جاہلیت میں اور نہ اسلام میں کبھی شراب پی، اور نہ جاہلیت و اسلام میں کبھی زنا کے قریب گیا۔
(صحیح التوثیق: صفحہ، 44)