ان گزارشات کے بعد اب میں موضوع سے متصل ہوتا ہوں چند سال قبل جب راقم الحروف اپنی کتاب "اسلام اور شیعیت کا تقابلی مطالعہ" کی تصنیف میں مشغول تھا اور شیعیت کی تردید و حمایت میں مخالف و موافق ہر طرح کے مواد کی ورق گردانی میں مصروف تھا، اسی اثناء میں حضرت مولانا علی شیر حیدری صاحب مدظلہم کے افادات پر مشتمل کتاب "سنی موقف" میں جناب نصیر الدین صاحب نصیرؒ گولڑوی کی کتاب "نام و نسب" کے چند حوالہ جات نظر سے گزرے حیران ہوا: یہ کون صاحب ہیں جنہوں نے ردِّ شیعیت پر "نام و نسب" کے عنوان سے کتاب تحریر کی ہے؟ کتاب خریدی تو پتہ چلا کہ کتاب خاص ردِّ شیعیت کے موضوع پر نہیں ہے بلکہ ایک تبرّائی شیعہ نجم الحسن کراروی کے حضرت سیدنا غوث الاعظم رحمۃاللہ، متوفی 561ھ، کے نسب شریف پر بہتان طرازی اور افتراء پردازی کا جواب ہے صرف گیارہویں باب کے صرف 119 صفحات موضوع سے متعلق ہیں، باقی غیر ضروری ابحاث کے ذریعے کتاب کا حجم بڑھایا گیا ہے کتاب کے کل 946 صفحات ہیں جب کہ تصاویر والے صفحات ان کے علاوہ ہیں۔ کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو پتہ چلا کہ بابِ ہشتم خاص ردِّ شیعیت پر ہے۔ مطالعہ کے دوران ہم نے مصنف کے یہ بیانات پڑھے:
"افسوس ہے کہ اہلِ سنت کے عقائد شیعوں اور خارجیوں سے متاثر ہونے لگ گئے ہیں بعض لوگ جو خود کو اہلِ سنت کہتے ہیں، انہوں نے شیعہ عقائد کی مخالفت میں اس قدر غلو کیا کہ خوارج کی طرح گستاخ اور دریدہ دہن بن گئے، اور بعض اہلِ سنت نے خارجیوں کی مخالفت میں اتنا غلو کیا کہ شیعوں کی طرح بے ادب ہو گئے چونکہ خوارج گستاخانِ اہلِ بیتؓ ہیں اور روافض گستاخانِ اصحابؓ، اس لیے اس کتاب میں دونوں کے عقائدِ فاسدہ اور مزعوماتِ باطلہ کی شدت سے تردید کی گئی ہے یعنی اہلِ سنت والجماعت کو خوارج و روافض دونوں کے عقائد سے بچنا چاہیے اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اور اصحابِ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ متوازن محبت و نیاز کا اظہار کرنا چاہیے، وہ اس طرح کہ ایک کی تعریف دوسرے کی تحقیر و تذلیل کا موجب نہ بننے پائے۔(نام و نسب: صفحہ 427)
نیز: میں یہ کہہ رہا تھا کہ لوگوں کی دشنام طرازیاں اور طرح کی باتیں ہم خانقاہ نشین سنتے رہتے ہیں مگر بخدا ہم نے اپنے بزرگوں کو اس سے فزوں تر کوئی مقام نہیں دیا، جس کا جواز قرآن و سنت میں موجود ہے اور جو اسلام کی قائم کردہ حدود و قیود میں رہ کر دیا جا سکتا ہے انبیاء تو انبیاء ہیں، ہم خود کو اصحابِ رسولﷺ کا بھی غلام ہی تصور کرتے ہیں اور اکثر اولیاء کرام نے اپنے کلام میں اس کا اظہار و اعلان بھی فرمایا ہے ہم نے کسی ولی اور صحابی کو معصوم نہیں مانا اس لیے یہ بات متفق علیہ ہے کہ صرف اور صرف انبیاء علیہم السلام ہی معصوم ہوتے ہیں، البتہ اہلِ بیتِ اطہارؓ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دیگر صلحائے امت کو محفوظ کہا جا سکتا ہے۔ "معصوم" اور "محفوظ" کا معنوی فرق اربابِ علم پر بخوبی روشن ہے میں ان مسلمان بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں جو ابھی تک سنی العقیدہ نہیں، کہ وہ فوراً سنی مسلک اختیار کر لیں، کیونکہ سنی درحقیقت سنی العقیدہ ہی نہیں بلکہ روشن عقیدہ بھی ہے احترامِ اہلِ بیتؓ کرتے ہیں اور عزتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی اہلِ بیتؓ سے نفرت خارجیت ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے دشمنی شیعیت ہے حبِّ اہلِ بیتؓ، تکریمِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور حرمتِ اولیاءؒ، سنیّت ہے۔ آپ نے مذکورہ دو جملوں پر غور فرمایا کہ خوارج نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو لے لیا اور اہلِ بیتؓ کو چھوڑ دیا، شیعہ نے اہلِ بیتؓ کو تسلیم کر لیا مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تسلیم نہیں کیا غیر مقلدین اور وہابیوں نے زیادہ تر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو لے لیا اور اہلِ بیتؓ کو اکثر چھوڑ دیا اور ان کے ساتھ اولیاء اللہ کی بھی توہین و تحقیر کا اہتمام کیا مگر سنی العقیدہ چشتی، نظامی، قادری، سہروردی اور نقشبندیوں نے ان سب نفوسِ قدسیہ کے قدم چومے اور ان کا احترام ملحوظ رکھا گویا سنیّوں میں احترامِ ولایت و امامت بھی ہے، احترامِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم رسولﷺ بھی ہے اور حبِّ آلِ علیؓ و بتول رضی اللہ عنہما بھی ہے اس لیے برادرانِ ملت اہلِ سنت کو اپنائیں، کہ یہی طریقہ منقول و معقول بھی ہے اور بارگاہِ حق میں مقبول بھی ہے۔ (نام و نسب: صفحہ 445، 470)
نیز: دنیائے اسلام میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سر آنکھوں پر جگہ دی جاتی ہے، اس لیے ے ان کے اس غیر معمولی اکرام و تکریم کا سبب وہ شرفِ معیت و قربت ہے جو انہیں رسالت مآبﷺ سے حاصل تھا گویا ان کا احترام درحقیقت سید دو عالمﷺ کی ذات پاک کی تعظیم ہے۔ (نام و نسب: صفحہ 519)
قارئین کرام! جناب نصیر الدین صاحب کے ان بیانات کو پڑھ کر ہمیں انتہائی خوشی ہوئی کہ انہوں نے حقیقتاً اپنی اس کتاب میں افراط و تفریط سے دامن بچاتے ہوئے اور حبِّ اہلِ بیتؓ اور تکریمِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی معروضات کو سپردِ قلم کیا ہوگا لیکن ہماری یہ خوش فہمی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی موصوف نے شیعیت و خارجیت کی تردید کا دعویٰ تو ضرور کیا ہے، لیکن یہ دعویٰ صرف دعویٰ ہی کی حد تک ہے اور ایک مقام پر موصوف نے یہ دعا بھی کی ہے: اللہ رب العزت ہمیں اہلِ بیتؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دونوں سے عقیدت و محبت کی توفیق ارزانی فرمائے اور سرکار دو عالمﷺ کے نزدیک جس صحابی کا جو مقام اور مرتبہ تھا، اس کی اتنی عزت ہی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، کیونکہ یہی اسلام ہے، یہی اتباع ہے اور اسی کا نام ایمان ہے۔
موصوف نے یہ عبارت اپنی کتاب میں لکھی تو ہے، لیکن عمل اس سے ان کی تصریح کی تکذیب کر رہا ہے کیونکہ سرکار دو عالم ﷺ نے خود حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس بات سے منع فرما دیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کی کوئی ناخوش گوار بات یا شکایت مجھ تک نہ پہنچائیں:
لَا يُبَلِّغْنِی أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِی عَنْ أَحَدٍ شَيْئًا، فَإِنِّی أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ۔
ترجمہ: میرے صحابہ میں سے کوئی شخص مجھ تک کسی صحابی کی شکایت نہ پہنچائے، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ تمہاری طرف نکلوں تو سب کی طرف سے میرا سینہ صاف ہو۔
یہ تو حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم تھا امت کو حضورِ اکرمﷺ نے وصیت فرمائی:
اللَّهَ اللَّهَ فِی أَصْحَابِی، اللَّهَ اللَّهَ فِی أَصْحَابِی، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِی۔
(ترمذی: جلد 2 صفحہ 225، باب: من سب اصحاب النبی ﷺ۔ ابو داود: جلد 2 صفحہ 311، کتاب الادب)
ترجمہ: اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے بارے میں۔ میں تمہیں بار کہتا ہوں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں میرے بعد ان کو ہدفِ تنقید مت بنانا۔ جہاں تک سلف صالحین کی بات ہے تو سیدنا امام اعظم ابو حنیفہؒ، 150ھ، جن کی ذات میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام کمالات و صفات کو جمع فرما دیا تھا جو سر بلندیِ دین اور وقارِ اسلام کا باعث ہو سکتا ہے، آپ رحمۃاللہ نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا آخری زمانہ پایا اور نہایت گہرائی سے ان قدسی صفات اور رشکِ ملائک انسانوں کا نہ صرف مطالعہ کیا بلکہ ان کی صحبت کا فیض اٹھایا آپ ہی کی بدولت سب سے پہلی فقہ اسلامی مدّون ہوئی اور آپ ہی حدیثِ بشارتِ "ثریا" کے اولین مصداق ہیں آپ نے مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر نہایت معقول، جامع اور بصیرت و حقیقت افروز کلام فرمایا ہے۔
امام شمس الدین محمد بن یوسف الصالحی الدمشقی الشافعیؒ، متوفی 947ھ، لکھتے ہیں:
سُئِلَ أَبُو حَنِيفَةَ عَنْ عَلِی وَمُعَاوِيَةَ وَقَتْلَى صِفِّينَ، فَقَالَ: أَخَافُ أَنْ أُقَدِّمَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى بِشَیءٍ يَسْأَلُنِی عَنْهُ، وَإِذَا أَقَامَنِی يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ لَا يَسْأَلُنِی عَنْ شَیءٍ مِنْ أُمُورِهِمْ، يَسْأَلُنِی عَمَّا كَلَّفَنِی، فَالِاشْتِغَالُ بِذَلِكَ أَوْلَى۔
(عقود الجمان: صفحہ 305، الباب العشرین فی بعض حکمہ ومواعظہ وآدابہ)
ترجمہ: ایک شخص نے امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ سے حضرت علی المرتضیٰؓ و امیرِ معاویہؓ اور مقتولینِ صفین کے بارے میں سوال کیا امام نے جواب دیا: میں اس سے ڈرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ایسی بات پیش کروں جس کا وہ مجھ سے سوال کرے، اور جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھے اپنے سامنے کھڑا کریں گے تو ان حضرت علی المرتضیٰؓ و امیرِ معاویہؓ اور مقتولینِ صفین کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں فرمائیں گے، بلکہ مجھ سے وہ سوال فرمائیں گے جس کا میں مکلف ہوں سو اسی کی تیاری میں مصروف و مشغول رہنا بہتر ہے۔
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ جن کی سنت کے اتباع کو موصوف نے ضروری قرار دیا ہے، فرماتے ہیں:
أَمْرٌ أَخْرَجَ اللَّهُ أَيْدِيَكُمْ مِنْهُ، أَفَتُدْخِلُونَ أَلْسِنَتَكُمْ فِيهِ؟
(طبقات ابنِ سعد: جلد 5 صفحہ 297، تحت: عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ)
ترجمہ: یہ وہ امور ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے ہاتھوں کو محفوظ رکھا ہے، تو پھر تم نے اپنی زبانوں کو اس میں کیوں ملوث کرتے ہو؟
تِلْكَ دِمَاءٌ كَفَّ اللَّهُ يَدِی عَنْهَا، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أَغْمِسَ لِسَانِی فِيهَا۔
(طبقات ابنِ سعد: جلد 5 صفحہ 307)
یہ وہ خون ہے جس سے اللہ نے میرے ہاتھ کو محفوظ کر رکھا ہے، سو میں پسند نہیں کرتا کہ اپنی زبان کو اس سے آلودہ کروں۔
امام شافعی رحمۃاللہ متوفی 204ھ، فرماتے ہیں:
تِلْكَ دِمَاءٌ طَهَّرَ اللَّهُ عَنْهَا أَيْدِيَنَا، فَلْنُطَهِّرْ عَنْهَا أَلْسِنَتَنَا۔(شرح المواقف: جلد 8 صفحہ 374، تحت: المقصد السابع انہ یجب تعظیم الصحابۃ کلھم)
ترجمہ: اس خون سے، جو جنگِ جمل و صفین میں بہا ہے، اللہ نے ہمارے ہاتھوں کو پاک رکھا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی زبانوں کو بھی اس سے پاک رکھیں۔
امام ابراہیم نخعی رحمۃاللہ متوفی 95ھ، فرماتے ہیں:
تِلْكَ دِمَاءٌ طَهَّرَ اللَّهُ عَنْهَا أَيْدِيَنَا، أَفَنُلَطِّخُ أَلْسِنَتَنَا؟
(الناہیۃ : صفحہ 6 فصل فی النھی الذکر التشاجر)
یہ وہ خون ہیں جن سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں کو پاک رکھا ہے، کیا اب ہم ان سے اپنی زبانوں کو آلودہ کریں؟
امام حسن بصری رحمۃاللہ متوفی 110ھ، فرماتے ہیں:
شَهِدَهُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ وَغِبْنَا، وَعَلِمُوا وَجَهِلْنَا، وَاجْتَمَعُوا فَاتَّبَعْنَا، وَاخْتَلَفُوا فَوَقَفْنَا۔
(الجامع الاحکام القرآن للقرطبی: جلد 16 صفحہ 1322، سورۃ الحجرات تحت وان طائفتان من المؤمنین)
ترجمہ: یہ ایسی لڑائی تھی جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین موجود تھے اور ہم غیر موجود وہ تمام حالات سے واقف تھے اور ہم غیر واقف جس معاملہ پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اتفاق ہے ہم اس کی اتباع کرتے ہیں اور جس میں اختلاف ہے اس میں سکوت اختیار کرتے ہیں۔
اس لیے حضرات سلفِ صالحین رحمہم اللہ نے مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بلا ضرورت گفتگو کرنے سے منع فرمایا ہے لیکن مصنف "نام و نسب" نے حضرت محمدﷺ کے حکم اور سلفِ صالحین کی وصیت کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دشوار گزار اور پرخار وادی میں برہنہ پا قدم رکھا ہے اور بزعمِ خود اہلِ بیتِ نبوی علیہم الصلوۃ والتسلیمات کی حمایت و محبت میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کی شدید توہین و تنقیص کی ہے۔ حالانکہ سیدنا علی المرتضیٰؓ جن سے مصنف محبت کا دم بھرتے ہیں، انہیں حکم دیا تھا:
لَا تَقُولُوا فِی أَخِيكُمْ مُعَاوِيَةَ إِلَّا خَيْرًا۔
(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 16 فصل ولما قال سلف ان اللہ امر بالاستغفار لاصحاب محمدﷺ)
ترجمہ: تم حضرت امیرِ معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں سوائے کلمہِ خیر کے اور کوئی بات نہ کہو۔
لیکن مصنف غالباً یہ اصول بھول گئے کہ محبت اطاعت کو مستلزم ہوتی ہے لہٰذا مدعیِ محبتِ علی رضی اللہ عنہ کو اتباعِ علی رضی اللہ عنہ بھی لازم ہے:
لَوْ كَانَ حُبُّكَ صَادِقًا لَأَطَعْتَهُ، إِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيعُ۔
ترجمہ: اگر تیری محبت میں صداقت ہوتی تو اپنے محبوب کی فرمانبرداری کرتا، کیونکہ محب محبوب کا فرمانبردار ہوتا ہے۔
اتباعِ سلفِ صالحین، تعظیمِ اصحابِ رسولﷺ اور حبِّ آلِ بتول رضی اللہ عنہم کی تلقین سے مصنف "نام و نسب" کی نہ زبان ہار مانتی ہے اور نہ ہی قلم سپر انداز ہوتا ہے، مگر جب باری اپنے عمل کی آتی ہے تو نہ معلوم یہ نصیحت خود اپنے لیے فضیحت کیوں بن جاتی ہے؟ لینے اور دینے کا معیار الگ الگ کیوں ہو جاتا ہے؟ موصوف نے جس انداز سے تردیدِ ناصبیت کی آڑ میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کی تنقیص کی ہے، اس سے وہ بالکل شیعوں کے ہم نوا و ہم رنگ نظر آتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ شیعہ سیدنا امیرِ معاویہؓ پر اعتراضات لفظ "معاویہؓ" لکھ کر کرتے ہیں، لیکن مصنف نے اعتراضات "جناب معاویہؓ" لکھ کر وارد کیے ہیں۔ جن پر ہم مصنف "نام و نسب" پر یہ شعر پڑھتے ہیں:
وہ تو ہیں کھلے دشمن، ان کا خیر سے کیا ذکر
دوستی مگر حضرت، آپ کی قیامت ہے
سب سے بڑھ کر دکھ تو یہ ہے کہ مصنف نے سیدنا غوث الاعظم قدس اللہ سرہ العزیز کے نسب شریف پر اعتراض کو اپنی حمیتِ دینی اور غیرتِ خانقاہی کے خلاف سمجھتے ہوئے پانچ سال کی مسلسل محنت کے بعد ان اعتراضات کا جواب 946 صفحات کی کتاب کی صورت میں دیا ہے جس پر نہ ہمیں کوئی شکایت ہے اور نہ تکلیف، بلکہ اگر مصنف اس کتاب میں صحابیِ رسولﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب نہ ہوتے تو ہم کیا، ہر مسلمان اس فرضِ کفایہ کی ادائیگی پر ان کا شکر گزار ہوتا۔ لیکن اسی کتاب میں مصنف نے پورا باب قائم کر کے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی شان میں گستاخیاں اور اعتراضات کیے ہیں حالانکہ سیدنا امیرِ معاویہؓ صحابی ہیں اور سیدنا غوث الاعظم رحمۃاللہ ولی اللہ ہیں مقامِ ولایت کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو، مقامِ صحابیت کا عشرِ عشیر بھی نہیں ہے۔
حضرت شیخ مجدد الف ثانی رحمۃاللہ متوفی 1024ھ، فرماتے ہیں:
وَفَضِيلَةُ الصُّحْبَةِ فَوْقَ جَمِيعِ الْفَضَائِلِ وَالْكَمَالَاتِ، وَلِهَذَا لَمْ يَبْلُغْ أُوَيْسٌ الْقَرَنِی الَّذِی هُوَ خَيْرُ التَّابِعِينَ مَرْتَبَةَ أَدْنَى مِنْ صَحِبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، فَلَا تُعَادِلْ بِفَضِيلَةِ الصُّحْبَةِ شَيْئًا كَائِنًا مَا كَانَ، فَإِنَّ إِيمَانَهُمْ بِبَرَكَةِ الصُّحْبَةِ وَنُزُولِ الْوَحْی يَصِيرُ شُهُودِيًّا۔
(مکتوباتِ امام ربانی: دفتر اول، مکتوب 59)
ترجمہ: اور صحبتِ نبویﷺ کی فضیلت تمام دیگر فضائل و کمالات سے اعلیٰ و بالا ہے اور اس واسطے حضرت اویس قرنی رحمۃاللہ جو خیر التابعین ہیں، کسی ادنیٰ صحابی کے مرتبہ کو بھی نہیں پہنچ سکے پس کسی چیز کو بھی فضیلتِ صحابیت کے ہم پلہ نہ ٹھہراؤ، کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایمان تو صحبتِ نبویﷺ کی برکت اور مشاہدہِ نزولِ وحی کی وجہ سے شہودی ہو گیا ہے۔
علامہ ابنِ حجر المکی رحمۃاللہ متوفی 974ھ، فرماتے ہیں:
إِنَّ فَضِيلَةَ صُحْبَتِهِﷺ وَرُؤْيَتِهِ لَا يَعْدِلُهَا شَیءٌ۔
(الصواعق المحرقۃ: صفحہ 213، تحت: بیان اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ)
ترجمہ: صحبت و دیدارِ نبویﷺ کے ہم پلہ کوئی چیز نہیں۔
حضرت شاہ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃاللہ متوفی 944ھ، فرماتے ہیں:
آرے در اعتقاد است کہ غیرِ صحابی اگرچہ در مرتبہِ رفیعہ رسد و صاحبِ ولایت و صاحبِ تصرف و عطا گردد، بمرتبہِ صحابہ کرامؓ نرسد، کہ فضلِ کلی است و آن فضلِ جزئی با فضلِ کلی برابر نبود۔ (مکتوباتِ قدسیہ: صفحہ 50)
ترجمہ: یہ بات اعتقاد میں شامل ہے کہ غیرِ صحابی اگرچہ ولایت کے بلند مرتبہ پر پہنچ جائے اور صاحبِ تصرف و عطا ہو جائے، پھر بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقام و مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا، کیونکہ صحبتِ نبویﷺ کی فضیلت کو فضیلتِ کلی کا درجہ حاصل ہے اور مقامِ ولایت کو فضیلتِ جزئی کا، اور جزئی فضیلت ہرگز کلی فضیلت کے برابر نہیں ہو سکتی۔
مفکرِ اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب اطال اللہ حیاتہ فرماتے ہیں: اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے میں صحابیت خود ایک شرف ہے جو کسی علمی کمال یا عملی محنت پر مبنی نہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ اور امام مالک رحمۃاللہ کا علم ہو یا حضرت جنید بغدادی رحمۃاللہ اور حضرت بایزید بسطامی رحمۃاللہ کا عمل، کوئی کمال صحابیت کے برابر ہی نہیں کر سکتا۔
(میعارِ صحابیت: صفحہ، 27 تحت صحابیت خود ایک شرف ہے)
اس قدر فضائل کے بعد ایک ولی کی صفائی پیش کرنے کو اپنے لیے باعثِ نجات سمجھنا اور صحابیِ رسول اللہﷺ کی توہین و تنقیص کرنا، بلکہ دانت پیستے ہوئے یہ کہنا:
کہ ہمیں حضرت امیرِ معاویہؓ کے بارے میں درجہِ صحابیت کا لحاظ ہے،(نام ونسب: صفحہ، 533)
یہ بات جلیل القدر صحابی کے لیے سزاوار ہے؟ اور تکریمِ صحابہؓ کا اسی کا نام ہے؟ پھر اس پر یہ دعا کرنا:
خدا کرے میری یہ سعیِ ناچیز بارگاہِ غوثیت میں شرفِ قبولیت سے سرفراز ہو اگر ان کی نگاہ اسے درخورِ اعتنا سمجھے تو پھر کہیں گے: ہاں تاجدار، ہم بھی ہیں۔(نام ونسب: صفحہ، 533)
سیدنا غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ، متوفی 561ھ، حضرت امیرِ معاویہؓ کے متعلق فرماتے ہیں:
اگر در رہِ گزر حضرتِ معاویہؓ بنشینم و گردِ سمِ جناب بر من افتد، باعثِ نجات میشناسم۔
(امداد الفتاویٰ: جلد، 4 صفحہ، 133)
ترجمہ: اگر میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کے راستے میں بیٹھ جاؤں اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے گھوڑے کا ابھار مجھ پر پڑے تو میں اسے اپنی نجات کا وسیلہ تصور کرتا ہوں۔
اسی طرح حضرت غوث الاعظم رحمۃ اللہ مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق ارقام فرماتے ہیں:
وَأَمَّا قِتَالُهُ لِطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ وَعَائِشَةَ وَمُعَاوِيَةَ فَقَدْ نَصَّ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللَّهُ الْإِمْسَاكَ عَنْ ذَلِكَ، وَجَمِيعِ مَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ مِنْ مُنَازَعَةٍ وَمُنَافَرَةٍ وَخُصُومَةٍ، لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُزِيلُ ذَلِكَ مِنْ بَيْنِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، كَمَا قَالَ عَزَّ وَجَلَّ: وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرٍ مُتَقَابِلِينَ۔(غنیۃ الطالبین: صفحہ77)
ترجمہ: سیدنا علیؓ، سیدنا طلحہؓ، سیدنا زبیرؓ، سیدہ عائشہ صدیقہؓ، اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ساتھ جنگ کے بارے میں امام احمد بن حنبلؒ کا قول یہ ہے کہ اس بارے میں سکوت بہتر ہے بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان ہونے والے اختلافات، جھگڑے اور ناراضگیوں میں سکوت ہی ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے درمیان ہونے والے تمام اختلافات کو دور فرمائیں گے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور نکال دیں گے ہم نے جو ان کے جیوں میں تھی خفگی، بھائی ہو گئے، تختوں پر بیٹھے آمنے سامنے۔
تو جس صحابی کے متعلق حضرت غوث الاعظم رحمۃ اللہ کے یہ جذبات ہوں کہ وہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے گھوڑے کی سم سے اٹھی ہوئی گرد کو بھی باعثِ سعادت و نجات سمجھتے ہوں اور مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر گفتگو سے منع فرماتے ہوں، تو اب حضرت غوث الاعظم رحمۃاللہ سے بے پناہ محبت کا دعویٰ رکھنے کے باوجود آج کے چند نادان لوگ حضرت غوث الاعظم رحمۃ اللہ کی وصیت و نصیحت کے بعد بھی سیدنا امیرِ معاویہؓ کی تنقیص کرتے ہوں، بلکہ انہیں بدعتی کہنے تک سے نہ چوکتے ہوں، تو وہ خود اور ان کے تحریر شدہ اوراق بارگاہِ غوثیت میں کب شرفِ قبولیت سے سرفراز ہو سکتے ہیں؟
حضرت سیدنا غوث الاعظم قدس سرہ تو اپنی دعا کے آخر میں یہ شعر پڑھا کرتے تھے:
وَمَنْ يَتْرُكِ الْآثَارَ قَدْ ضَلَّ سَعْيُهُ، وَهَلْ يَتْرُكُ الْآثَارَ مَنْ كَانَ مُسْلِمًا؟
(قلائد الجواہر فی مناقب شیخ عبد القادر: صفحہ 41 تحت ادعیہ رضی اللہ عنہ)
ترجمہ: جو شخص سلفِ صالحین کے نشانِ قدم کو چھوڑ دے، اس کی محنت رائیگاں جاتی ہے۔ اور کیا کوئی مسلمان سلفِ صالحین کے آثار و نشانات کو چھوڑ سکتا ہے؟
پھر مصنفِ نام و نسب نے اس باب میں کوئی نئی تحقیق نہیں فرمائی بلکہ انہی سابقہ اعتراضات کو اپنے ہم مذہب پیشروؤں، مثلاً مودودی صاحب اور روافض کی کتابوں سے سرقہ کیا ہے، جن کے مسکت اور دندان شکن جوابات سے اکابر علمائے اسلام بہت پہلے ہی فارغ ہو چکے ہیں۔
بہ ہر رنگ کہ خواہی جامہ می پوشی،
من اندازِ قدت رامی شناسم
ترجمہ: تو جس رنگ کا چاہے جامہ پہن، میں تیرے قد و قامت کا انداز پہچانتا ہوں۔
اب تو جواب الجواب کی باری تھی اور ہے مصنف نام و نسب اس باب میں ہمت فرماتے تو پھر ہم کہتے کہ ہاں تاجدار، آپ بھی ہیں نہیں، بعد کیا فرما رہے ہیں آپ؟ پھر مصنف نے اپنی کتاب میں جا بجا محمود احمد عباسی اور حکیم فیاض عالم صدیقی کا رد کیا ہے کہ ان دونوں نے اہلِ بیتؓ کی شان میں گستاخی کی ہے اگر وہ گستاخی کے مرتکب ہوئے ہیں تو جناب، کیا آپ راہِ اعتدال پر ہیں؟ انہوں نے اہلِ بیتؓ کی شان میں گستاخی کی، آپ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی کی گستاخی میں تو آپ دونوں برابر ہیں۔ گویا:
تھیں میری اور رقیب کی راہیں جدا
آخر کو دونوں ہم درِ جاناں پہ جا ملے
حدیثِ شریف میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نجومِ رشد و ہدایت بتایا گیا ہے اور حضرات اہلِ بیتؓ کو سفینہِ نجات و فلاح۔
سو آنحضرتﷺ کے فرمانِ عالیہ کے مطابق اہلِ سنت والجماعت حضرات اہلِ بیتِ عظامؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دونوں کی محبت کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ جو سفینہِ اہلِ بیتؓ سے دور ہو گا وہ بحرِ ضلالت میں غرق ہو جائے گا، اور جو سفینہِ اہلِ بیتؓ میں سوار ہو کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے نجومِ ہدایت کی ضیا پاشیوں سے محروم ہو گا وہ بھی بحرِ ضلالت میں غرق ہو گا کیونکہ سمندر میں اندھیرے اور تاریکی میں ستاروں کی روشنی ہی مسافر کی رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہے۔
حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ، متوفیٰ 1014ھ، نے مرقات شرح مشکوٰۃ میں امام فخر الدین رازیؒ، متوفی 606ھ، کے یہ جملے نقل کیے ہیں جو بحمدللہ تعالیٰ اہلِ سنت والجماعت کا طرہِ امتیاز ہیں:
نَحْنُ مَعْشَرَ أَهْلِ السُّنَّةِ بِحَمْدِ اللَّهِ تَعَالَى رَكِبْنَا سَفِينَةَ مَحَبَّةِ أَهْلِ الْبَيْتِ وَاهْتَدَيْنَا بِنَجْمِ هُدَى أَصْحَابِ النَّبِیﷺ، فَنَرْجُو النَّجَاةَ مِنْ أَهْوَالِ الْقِيَامَةِ وَدَرَكَاتِ الْجَحِيمِ وَالْهِدَايَةَ إِلَى مَا يُوجِبُ دَرَجَاتِ الْجِنَانِ وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ۔
(مرقات المفاتیح: جلد 10 صفحہ 553 کتاب المناقب والفضائل، باب مناقب اہلِ بیت النبیﷺ)
ترجمہ: ہم گروہِ اہلِ سنت بحمدللہ محبتِ اہلِ بیتِ عظامؓ کے سفینہ میں سوار ہیں اور اصحابِ نبیﷺ کے نجمِ ہدایت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں اس لیے امیدوار ہیں کہ کل قیامت کی ہولناکیوں اور جہنم کے طبقات سے ہمیں نجات ملے گی اور وہ ہدایت ہمیں عطاء ہو گی جو جنت کے درجات اور دائمی نعمت کو واجب قرار دیتی ہے۔
شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ متوفیٰ 728 ہجری، فرماتے ہیں:
وَأَمَّا أَهْلُ السُّنَّةِ فَيَتَوَلَّوْنَ جَمِيعَ الْمُؤْمِنِينَ، وَيَتَكَلَّمُونَ بِعِلْمٍ وَعَدْلٍ، لَيْسُوا مِنْ أَهْلِ الْجَهْلِ وَلَا مِنْ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ، وَيَتَبَرَّءُونَ مِنْ طَرِيقَةِ الرَّافِضَةِ وَالنَّوَاصِبِ جَمِيعًا، وَيَتَوَلَّوْنَ السَّابِقِينَ الْأَوَّلِينَ كُلَّهُمْ، وَيَعْرِفُونَ قَدْرَ الصَّحَابَةِ وَفَضْلَهُمْ وَمَنَاقِبَهُمْ، وَيَرْعَوْنَ حُقُوقَ أَهْلِ الْبَيْتِ الَّتِی شَرَعَهَا اللَّهُ لَهُمْ۔
(منہاج السنۃ: جلد 1 صفحہ 165 مطلب: کذب المصنف الإمامی، تحت الوجہ الخامس)
ترجمہ: اور اہلِ سنت تمام مؤمنین کی دوستی کا دم بھرتے ہیں، اور علم و عدل کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں وہ نہ اہلِ جہل میں سے ہیں نہ اہلِ ہوا میں سے وہ روافض اور نواصب دونوں کے طریقے سے بیزار ہیں تمام سابقینِ اولین کے معتقد ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قدر و منزلت کی شناسا، قدردان اور معترف اور ان کے مناقب کے قائل ہیں اور اس سب کے ساتھ اہلِ بیتِ کرام رضی اللہ عنہم کے حقوق کی ادائیگی ضروری سمجھتے ہیں جو شریعت سے ثابت ہیں۔
اس ناکارہ کے پیر و مرشد، سیّدی و مولائی، حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ شہید، متوفی 1421ھ، فرماتے ہیں:
میں تمام آل و اصحابؓ کی محبت و