اپنی بات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اپنی بات

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 1 از 4

ان گزارشات کے بعد اب میں موضوع سے متصل ہوتا ہوں چند سال قبل جب راقم الحروف اپنی کتاب "اسلام اور شیعیت کا تقابلی مطالعہ" کی تصنیف میں مشغول تھا اور شیعیت کی تردید و حمایت میں مخالف و موافق ہر طرح کے مواد کی ورق گردانی میں مصروف تھا، اسی اثناء میں حضرت مولانا علی شیر حیدری صاحب مدظلہم کے افادات پر مشتمل کتاب "سنی موقف" میں جناب نصیر الدین صاحب نصیرؒ گولڑوی کی کتاب "نام و نسب" کے چند حوالہ جات نظر سے گزرے حیران ہوا: یہ کون صاحب ہیں جنہوں نے ردِّ شیعیت پر "نام و نسب" کے عنوان سے کتاب تحریر کی ہے؟ کتاب خریدی تو پتہ چلا کہ کتاب خاص ردِّ شیعیت کے موضوع پر نہیں ہے بلکہ ایک تبرّائی شیعہ نجم الحسن کراروی کے حضرت سیدنا غوث الاعظم رحمۃاللہ، متوفی 561ھ، کے نسب شریف پر بہتان طرازی اور افتراء پردازی کا جواب ہے صرف گیارہویں باب کے صرف 119 صفحات موضوع سے متعلق ہیں، باقی غیر ضروری ابحاث کے ذریعے کتاب کا حجم بڑھایا گیا ہے کتاب کے کل 946 صفحات ہیں جب کہ تصاویر والے صفحات ان کے علاوہ ہیں۔ کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو پتہ چلا کہ بابِ ہشتم خاص ردِّ شیعیت پر ہے۔ مطالعہ کے دوران ہم نے مصنف کے یہ بیانات پڑھے:

"افسوس ہے کہ اہلِ سنت کے عقائد شیعوں اور خارجیوں سے متاثر ہونے لگ گئے ہیں بعض لوگ جو خود کو اہلِ سنت کہتے ہیں، انہوں نے شیعہ عقائد کی مخالفت میں اس قدر غلو کیا کہ خوارج کی طرح گستاخ اور دریدہ دہن بن گئے، اور بعض اہلِ سنت نے خارجیوں کی مخالفت میں اتنا غلو کیا کہ شیعوں کی طرح بے ادب ہو گئے چونکہ خوارج گستاخانِ اہلِ بیتؓ ہیں اور روافض گستاخانِ اصحابؓ، اس لیے اس کتاب میں دونوں کے عقائدِ فاسدہ اور مزعوماتِ باطلہ کی شدت سے تردید کی گئی ہے یعنی اہلِ سنت والجماعت کو خوارج و روافض دونوں کے عقائد سے بچنا چاہیے اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اور اصحابِ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ متوازن محبت و نیاز کا اظہار کرنا چاہیے، وہ اس طرح کہ ایک کی تعریف دوسرے کی تحقیر و تذلیل کا موجب نہ بننے پائے۔(نام و نسب: صفحہ 427)

نیز: میں یہ کہہ رہا تھا کہ لوگوں کی دشنام طرازیاں اور طرح کی باتیں ہم خانقاہ نشین سنتے رہتے ہیں مگر بخدا ہم نے اپنے بزرگوں کو اس سے فزوں تر کوئی مقام نہیں دیا، جس کا جواز قرآن و سنت میں موجود ہے اور جو اسلام کی قائم کردہ حدود و قیود میں رہ کر دیا جا سکتا ہے انبیاء تو انبیاء ہیں، ہم خود کو اصحابِ رسولﷺ کا بھی غلام ہی تصور کرتے ہیں اور اکثر اولیاء کرام نے اپنے کلام میں اس کا اظہار و اعلان بھی فرمایا ہے ہم نے کسی ولی اور صحابی کو معصوم نہیں مانا اس لیے یہ بات متفق علیہ ہے کہ صرف اور صرف انبیاء علیہم السلام ہی معصوم ہوتے ہیں، البتہ اہلِ بیتِ اطہارؓ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دیگر صلحائے امت کو محفوظ کہا جا سکتا ہے۔ "معصوم" اور "محفوظ" کا معنوی فرق اربابِ علم پر بخوبی روشن ہے میں ان مسلمان بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں جو ابھی تک سنی العقیدہ نہیں، کہ وہ فوراً سنی مسلک اختیار کر لیں، کیونکہ سنی درحقیقت سنی العقیدہ ہی نہیں بلکہ روشن عقیدہ بھی ہے احترامِ اہلِ بیتؓ کرتے ہیں اور عزتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی اہلِ بیتؓ سے نفرت خارجیت ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے دشمنی شیعیت ہے حبِّ اہلِ بیتؓ، تکریمِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور حرمتِ اولیاءؒ، سنیّت ہے۔ آپ نے مذکورہ دو جملوں پر غور فرمایا کہ خوارج نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو لے لیا اور اہلِ بیتؓ کو چھوڑ دیا، شیعہ نے اہلِ بیتؓ کو تسلیم کر لیا مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تسلیم نہیں کیا غیر مقلدین اور وہابیوں نے زیادہ تر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو لے لیا اور اہلِ بیتؓ کو اکثر چھوڑ دیا اور ان کے ساتھ اولیاء اللہ کی بھی توہین و تحقیر کا اہتمام کیا مگر سنی العقیدہ چشتی، نظامی، قادری، سہروردی اور نقشبندیوں نے ان سب نفوسِ قدسیہ کے قدم چومے اور ان کا احترام ملحوظ رکھا گویا سنیّوں میں احترامِ ولایت و امامت بھی ہے، احترامِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم رسولﷺ بھی ہے اور حبِّ آلِ علیؓ و بتول رضی اللہ عنہما بھی ہے اس لیے برادرانِ ملت اہلِ سنت کو اپنائیں، کہ یہی طریقہ منقول و معقول بھی ہے اور بارگاہِ حق میں مقبول بھی ہے۔  (نام و نسب: صفحہ 445، 470)

نیز: دنیائے اسلام میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سر آنکھوں پر جگہ دی جاتی ہے، اس لیے ے ان کے اس غیر معمولی اکرام و تکریم کا سبب وہ شرفِ معیت و قربت ہے جو انہیں رسالت مآبﷺ سے حاصل تھا گویا ان کا احترام درحقیقت سید دو عالمﷺ کی ذات پاک کی تعظیم ہے۔ (نام و نسب: صفحہ 519)

قارئین کرام! جناب نصیر الدین صاحب کے ان بیانات کو پڑھ کر ہمیں انتہائی خوشی ہوئی کہ انہوں نے حقیقتاً اپنی اس کتاب میں افراط و تفریط سے دامن بچاتے ہوئے اور حبِّ اہلِ بیتؓ اور تکریمِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی معروضات کو سپردِ قلم کیا ہوگا لیکن ہماری یہ خوش فہمی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی موصوف نے شیعیت و خارجیت کی تردید کا دعویٰ تو ضرور کیا ہے، لیکن یہ دعویٰ صرف دعویٰ ہی کی حد تک ہے اور ایک مقام پر موصوف نے یہ دعا بھی کی ہے: اللہ رب العزت ہمیں اہلِ بیتؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دونوں سے عقیدت و محبت کی توفیق ارزانی فرمائے اور سرکار دو عالمﷺ کے نزدیک جس صحابی کا جو مقام اور مرتبہ تھا، اس کی اتنی عزت ہی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، کیونکہ یہی اسلام ہے، یہی اتباع ہے اور اسی کا نام ایمان ہے۔

موصوف نے یہ عبارت اپنی کتاب میں لکھی تو ہے، لیکن عمل اس سے ان کی تصریح کی تکذیب کر رہا ہے کیونکہ سرکار دو عالم ﷺ نے خود حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس بات سے منع فرما دیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کی کوئی ناخوش گوار بات یا شکایت مجھ تک نہ پہنچائیں:  

لَا يُبَلِّغْنِی أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِی عَنْ أَحَدٍ شَيْئًا، فَإِنِّی أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ۔  

صفحہ 1 از 4