مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 5 - سنی شیعہ…

مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 5

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 7

مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 5

چوتھی قسط کے بعد ابوھشام گفتگو کے اہم موڑ پرتین دن غائب ہوگئے، اصل میں اہل سنت کی طرف سے انہیں مجبور کیا گیا تھا کہ وہ صرف اہم نکات پر دو ٹوک گفتگوکریں ،انہیں رعایت دی گئی کہ ہر وائس کا جواب دینا لازمی نہیں ہے۔

اس دوران گروپ کے کچھ سینئر ممبرز نے  مجبوراً عزت بچانے کے لئے تبصرے اور ادھر ادھر کی باتیں کر کے گروپ ماحول کو اپنے موافق کرنے کی کوشش کی۔ ایک تبصرے میں میری تائید بھی کی گئی کہ ہر وائس کا جوب دینے کے بجائے فریقین ٹو دی پوائنٹ گفتگو کریں۔ 

یاد رہے کہ چوتھی قسط کے آخر میں اہل سنت کی طرف سے گفتگو کو مختصر کرتے ہوئے اہم نکات پر مشتمل مندرجہ ذیل تحریر پیش کی گئی تھی  تاکہ شیعہ عالم ابوھشام غیر ضروری باتوں میں الجھنے کے بجائے، صرف ان باتوں کا علمی رد کریں۔

✳️ مسئلہ تحریف قرآن پر گفتگو کے اہم نکات✳️

1️⃣ اہل تشیع کی تاویل ⬅️ سترہ ہزار آیات کا مطلب سترہ ہزار نشانیوں کا نزول

اہل سنت کا رد: قرآن کریم میں کسی بھی قسم کی نشانیاں دور نبوی میں نہیں تھیں۔ 

2️⃣ اہل تشیع کی تاویل ⬅️ قرآن کریم کے تین حصوں میں سے دو حصے منسوخ ہوگئے!! بعد میں خود ہی اس تاویل کا انکار ⬅️ ناسخ و منسوخ کا تصور اہل تشیع کے ہاں موجود ہی نہیں ہے۔

♦️نتیجہ : متن کی تاویل ⬅️ ابھی تک نہیں کی جاسکی ۔

 سند پر اعتراض:

اہل تشیع کا رد: راوی احمد بن محمد اصل میں السیاری ہے، جو کہ ضعیف ہے۔

اہل تشیع کی دلیل: احمد بن محمد السیاری نے اس روایت کو اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔

اہل سنت کا جواب: السیاری کا اپنی کتاب میں اس روایت کا بیان کرنا ضعیف ہونے کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔

اہل سنت کی دلیل: اصول کافی کی روایت کی توثیق کئی شیعہ علماء کرام کرچکے ہیں۔ اگر راوی السیاری ہوتا تو اس کی توثیق کرنا ممکن نہیں تھا، اس سے واضح ہوتا ہے راوی السیاری نہیں ہوسکتا۔

⬅️ جواب طلب نکات➡️

1️⃣ اصول کافی کی اس روایت میں احمد بن محمد “السیاری” کس دلیل سے ہیں؟ احمد بن محمد البارقی کیوں نہیں ہوسکتے؟ 

⬅️ جن علماء کرام نے اس روایت کی توثیق کی ، انہیں تو یہ معلوم نہ ہوسکا ، ابوھشام کو یہ کیسے معلوم ہوگیا کہ اس روایت میں احمد بن محمد “السیاری” ہی ہیں؟ 

2️⃣ حضرت ابن عباسؓ معاذاللہ تحریف قرآن کے اگر قائل تھے تو اس روایت کے ساتھ علماء اہل سنت کی تائید بھی پیش کردیں کہ ان کے نزدیک بھی حضرت ابن عباسؓ تحریف قرآن کے قائل تھے معاذاللہ ، تاکہ آپ کا استدلال درست سمجھا جاسکے۔

ان اہم نکات کی وضاحت شیعہ عالم نہیں کرسکے!!

⬅️ ابوھشام کا تحریری جواب➡️

ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﻪ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺎﻟﻤﻴﻦ، ﻭﺍﻟﺼﻼﺓ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﻰ ﺧﻴﺮ ﺧﻠﻘﻪ ﻭﺃﻓﻀﻞ ﺑﺮﻳﺘﻪ ﻣﺤﻤﺪ ﻭﻋﺘﺮﺗﻪ ﺍﻟﻄﺎﻫﺮﻳﻦ، ﻭﺍﻟﻠﻌﻦ ﺍﻟﺪﺍﺋﻢ ﻋﻠﻰ ﺃﻋﺪﺍﺋﻬﻢ ﺃﺟﻤﻌﻴﻦ ﺇﻟﻰ ﻳﻮﻡ ﺍﻟﺪﻳﻦ،

♦️ ایک حدیث اور اس پر عنید کے اشکالات کے جوابات ۔

علی بن الحکم، عن هشام بن سالم عن ابي عبدالله عليه السلام قال إن القرآن الذي جاء به جبرائيل عليه السلام إلي محمد صلي الله عليه وآله وسلم سبعه عشر ألف اية. 

علی بن حکم نے ہشام بن سالم سے انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ بے شک قرآن جسے جبرائیل علیہ السلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف اس میں سترہ ہزار آیات ہیں، 

معترض نے اپنی کم عقلی کے سبب اس روایت کو تحریف پر دلالت کرنے والی سمجھ لیا حالانکہ یہی اس شخص کے کم عقل ہونے  کی دلیل ہے چونکہ معترض نہ عربی زبان سے آگاہ ہے اور ناہی اس کے پاس عقل ہے لہذا ہمارے بار بار سمجھانے کے بعد بھی یہ سمجھنے سے قاصر رہا اور اپنے زعم ناقص میں یہ  سمجھ بیٹھا کہ جیسے معرکہ فتح کر لیا ہے، 

ہم نے جواب میں کہا تھا کہ اس روایت کے متن میں کوئی ایسی چیز نہیں جو تحریف پر دلالت کرتے ہو اس کی تشریح کئ اعتبار سے ہو سکتی ہے جیسے 

آیت کا لغوی معنی علامت ظاہری ہے، اور قرآن کریم میں لفظ 382 م بار مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے 

1 پہلا معنی تو وہی ہے جو قرآن کی کتابت میں استعمال ہوا یعنی  آیت کے مجموعے سے سورے بنے، ،

ﻣَﺎ ﻧَﻨْﺴَﺦْ ﻣِﻦْ ﺍٰﻳَﺔٍ ﺍَﻭْ ﻧُـﻨْﺴِﻬَﺎ ﻧَﺎْﺕِ ﺑِﺨَﻴْـﺮٍ ﻣِّﻨْﻬَﺂ ﺍَﻭْ ﻣِﺜْﻠِﻬَﺎ ۗ ﺍَﻟَﻢْ ﺗَﻌْﻠَﻢْ ﺍَﻥَّ ﺍﻟﻠّـٰﻪَ ﻋَﻠٰﻰ ﻛُﻞِّ ﺷَﻰْﺀٍ ﻗَﺪِﻳْﺮٌ

‏( 106 البقره ‏)

ﮨﻢ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺁﯾﺖ ﮐﻮ ﻣﻨﺴﻮﺥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺑﮭﻼ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﭘﺮ ﻗﺎﺩ ﺭﮨﮯ۔

دوسرا معنی علامت 

ﻭَﻣِﻦْ ﺍٰﻳَﺎﺗِﻪٖ ﻣَﻨَﺎﻣُﻜُﻢْ ﺑِﺎﻟﻠَّﻴْﻞِ ﻭَﺍﻟﻨَّـﻬَﺎﺭِ ﻭَﺍﺑْﺘِﻐَﺂﺅُﻛُﻢْ ﻣِّﻦْ ﻓَﻀْﻠِـﻪٖ ۚ ﺍِﻥَّ ﻓِﻰْ ﺫٰﻟِﻚَ ﻟَﺎٰﻳَﺎﺕٍ ﻟِّـﻘَﻮْﻡٍ ﻳَﺴْـﻤَﻌُﻮْﻥَ 

‏( 23 الروم ‏)

ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺭﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﮐﺎ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ، ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ۔

ﻭَﻣِﻦْ ﺁﻳَﺎﺗِﻪِ ﺃَﻧَّﻚَ ﺗَﺮَﻯ ﺍﻟْﺄَﺭْﺽَ ﺧَﺎﺷِﻌَﺔً ﻓَﺈِﺫَﺍ ﺃَﻧْﺰَﻟْﻨَﺎ ﻋَﻠَﻴْﻬَﺎ ﺍﻟْﻤَﺎﺀَ ﺍﻫْﺘَﺰَّﺕْ ﻭَﺭَﺑَﺖْ ﺇِﻥَّ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﺃَﺣْﻴَﺎﻫَﺎ ﻟَﻤُﺤْﻴِﻲ ﺍﻟْﻤَﻮْﺗَﻰ ﺇِﻧَّﻪُ ﻋَﻠَﻰ ﻛُﻞِّ ﺷَﻲْﺀٍ ﻗَﺪِﻳﺮٌ 

‏( 39 فصلت ‏)

ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞﻤﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﻮ ﺩﺑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ‏( ﺑﻨﺠﺮ ‏) ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﮨﻢ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﺗﺎﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻟﮩﻠﮩﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﻮﻟﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺑﮯ ﺷﮏ ﻭﮦ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﯿﺎ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﻭﮦ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﻗﺎﺩﺭ ﮨﮯ۔

3 تیسرا معنی معجزہ 

ﻭَﺍِﻥْ ﻳَّﺮَﻭْﺍ ﺍٰﻳَﺔً ﻳُّﻌْﺮِﺿُﻮْﺍ ﻭَﻳَﻘُﻮْﻟُﻮْﺍ ﺳِﺤْﺮٌ ﻣُّﺴْﺘَﻤِﺮٌّ 

‏(  القمر2 ‏)

ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﭼﻼ ﺁﺗﺎ ﺟﺎﺩﻭ ﮨﮯ۔

4 عبرت 

ﻗَﺎﻝَ ﻛَﺬٰﻟِﻚِۚ ﻗَﺎﻝَ ﺭَﺑُّﻚِ ﻫُﻮَ ﻋَﻠَﻰَّ ﻫَﻴِّﻦٌ ۖ ﻭَﻟِﻨَﺠْﻌَﻠَـﻪٝٓ ﺍٰﻳَﺔً ﻟِّﻠﻨَّﺎﺱِ ﻭَﺭَﺣْـﻤَﺔً ﻣِّﻨَّﺎ ۚ ﻭَﻛَﺎﻥَ ﺍَﻣْﺮًﺍ ﻣَّﻘْﻀِﻴًّﺎ ‏

( 21مریم  ‏)

ﮐﮩﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﮔﺎ، ﺗﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺗﺎﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻃﮯ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ۔

ﻭَﻗَﻮْﻡَ ﻧُـﻮْﺡٍ ﻟَّﻤَّﺎ ﻛَﺬَّﺑُﻮﺍ ﺍﻟﺮُّﺳُﻞَ ﺍَﻏْﺮَﻗْﻨَﺎﻫُـﻢْ ﻭَﺟَﻌَﻠْﻨَﺎﻫُـﻢْ ﻟِﻠﻨَّﺎﺱِ ﺍٰﻳَﺔً ۖ ﻭَﺍَﻋْﺘَﺪْﻧَﺎ ﻟِﻠﻈَّﺎﻟِﻤِﻴْﻦَ ﻋَﺬَﺍﺑًﺎ ﺍَﻟِﻴْﻤًﺎ ‏

( 37 الفرقان ‏)

صفحہ 1 از 7