سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خطبہ
علی محمد الصلابیحضرت سعد رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ چار ہزار اور ایک روایت کے مطابق چھ ہزار مجاہدین کا لشکر لے کر عراق روانہ ہوئے۔ حضرت عمرؓ ’’صرار‘‘ سے ’’اعوص‘‘(عراق کے راستے میں ایک وادی ہے۔ آج اسی جگہ مدینہ ائیر پورٹ بنا ہوا ہے۔) تک آپ کو بھیجنے آئے، وہاں کھڑے ہوئے لوگوں سے خطاب کیا، فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مثالیں بیان کی ہیں اور تمہارے لیے اپنی بات کھول کھول کر بیان کر دی ہے تاکہ اس سے تمہارے دلوں کو زندگی بخشے کیونکہ دل سینوں میں بے جان ہوتے ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں زندہ کر دے۔ جسے اچھے اور برے کاموں کا کچھ علم ہو وہ اس سے فائدہ اٹھائے، عدل کی کچھ کامل نشانیاں اور کچھ ابتدائی علامات ہیں، پس حیا، سخاوت، خاکساری اور نرمی کامل نشانیاں ہیں اور رحمت و شفقت ابتدائی علامات میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر معاملہ کا ایک دروازہ آغاز بنایا ہے اور ہر دروازے کی کنجیاں میسر کی ہیں۔ عدل کا دروازہ عبرت حاصل کرنا ہے، اس کی چابی زہد ہے اور فوت شدگان کو یاد کر کے موت کی یاد تازہ کرنا اعمال صالحہ کے ذریعہ آخرت کے لیے تیاری کرنا عبرت حاصل کرنا ہے۔ ظالم سے دوسرے کا حق چھیننا اور حق دار تک اسے پہنچانا ہی زہد ہے۔ تم اس معاملہ میں کسی سے ظلم و زیادتی نہ کرنا، بقدر کفاف روزی پر قناعت کرنا۔ جسے کفاف کی روزی پر قناعت نہ ہو اسے کوئی چیز مال دار نہیں کر سکتی۔ میں تمہارے اور اللہ کے درمیان ہوں اور میرے اور اللہ کے درمیان اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اللہ نے مجھ پر لازم کر دیا ہے کہ تمہاری شکایات اس تک نہ جانے دوں، لہٰذا تم اپنی شکایات مجھ تک لایا کرو، جو خود نہ پہنچا سکے تو اسے بتا دے جو مجھ تک اسے پہنچا سکے، بلا روک ٹوک میں اس کا حق اسے دلاؤں گا۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 308)