سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے مشترکہ فضائل میں وارد شدہ احادیث
علی محمد محمد الصلابیسیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے مشترکہ فضائل میں وارد شدہ احادیث:
• ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے عراق کے کسی شخص نے پوچھا: اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں مکھی مار دے تو اسے کیا کفارہ دینا پڑے گا؟ اس پر ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عراق کے لوگ مکھی مارنے کے بارے میں سوال کرتے ہیں جب کہ یہ لوگ نواسہ رسول کو قتل کر چکے ہیں جن کے بارے میں آپﷺ نے فرمایا تھا:
ہُمَا رَیْحَانَتَایَ مِنَ الدُّنْیَا۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3753)۔
’’یہ دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔‘‘
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
مَنْ اَحَبَّہُمَا فَقَدْ اَحَبَّنِيْ، وَ مَنْ اَبْغَضَہُمَا فَقَدْ اَبْغَضَنِيْ، یَعْنِيْ حَسَنَ وَ حُسَیْنَ۔
(صحیح سنن أبی داؤد: جلد 2 صفحہ 92) فضائل الصحابۃ: حدیث نمبر 1359)۔
’’جس نے ان دونوں (یعنی حسن و حسین) سے محبت کی اس نے گویا مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض کی اس نے مجھ سے بغض کی۔‘‘
سیدنا براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کی نگاہ حسن اور حسین پر پڑی تو کہا:
اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ اُحِبُّہُمَا فَاَحِبَّہُمَا۔
(صحیح سنن الترمذی: جلد 3 صفحہ 226، سنن ترمذی: حدیث نمبر 3782)۔
’’اے اللہ! مجھے دونوں سے محبت ہے، تو بھی انھیں محبوب بنا لے۔‘‘
سیدنا ابوسعید خدریؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
اَلْحَسَنُ وَ الْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔
(مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 184) شیخ البانی نے اس کی تصحیح کی ہے۔ الصحیحۃ:
جلد 2 صفحہ 448)
’’حسن اور حسین رضی اللہ عنہما نوجوانان جنت کے دو سردار ہیں۔‘‘
عبداللہ بن بریدہؓ سے روایت ہے کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’ایک مرتبہ رسول اللہﷺ خطبہ دے رہے تھے، دوران خطبہ حسن اور حسین آ پہنچے، دونوں سرخ رنگ کی قمیص میں ملبوس تھے، گرتے پڑتے چل رہے تھے، رسول اللہﷺ منبر سے اتر گئے اور دونوں کو اٹھا کر اپنے سامنے لاکر بٹھا لیا‘‘ اور فرمایا:
صَدَقَ اللّٰہُ (إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ) (سورۃ التغابن:15) نَظَرْتُ إِلَی ہٰذَیْنِ الصَّبِیَّیْنِ یَمْشِیَانِ وَ یَعْثُرَانِ، فَلَمْ اَصْبِرْ حَتَّی قَطَعْتُ حَدِیْثِيْ وَ رَفَعْتُہُمَا۔
(فضائل الصحابۃ: حدیث نمبر 1358) اس کی سند صحیح ہے۔)
’’یقیناً سچ کہا ہے اللہ نے کہ بے شک تمھارے مال و اولاد فتنہ ہیں، میں نے ان دونوں بچوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو میں صبر نہ کرسکا اور اپنی بات کاٹ کر ان دونوں کو اٹھا لیا۔‘‘
سعید بن جبیر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے لیے ان کلمات کے ساتھ اللہ کی پناہ ڈھونڈتے تھے اور کہتے تھے کہ:
إِنَّ اَبَاکُمَا کَانَ یُعَوِّذُبِہَا اِسْمَاعِیْلَ وَ اِسْحَاقَ، اُعِیْذُ کُمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَہَامَّۃٍ وَ مِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَامَّۃٍ۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3371)۔
’’تمھارے باپ ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق (علیہم السلام) انھیں کلمات کے ساتھ اللہ سے پناہ ڈھونڈتے تھے۔ ’’اُعِیْذُ کُمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَہَامَّۃٍ وَ مِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَّامَّۃٍ‘‘
میں تم دونوں کے لیے پناہ مانگتا ہوں، اللہ کے کامل کلمات سے ہر شیطان، ہر موذی جانور اور ہر نظر بد کی برائی سے۔‘‘
یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس حدیث کہ لفظ ’’ہَامَّۃٍاور سعد بن ابی وقاص نیز ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں وارد ’’ہَامَّۃٍ‘‘ میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ چنانچہ سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’لَا ہَامَّۃٍ‘‘
(صحیح ابن حبان: 6127، اس کی سند قوی ہے۔ الطبرانی: 1764)۔
یعنی الو کی کوئی تاثیر نہیں ہے اور حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’لاَ ہَامَ‘‘
(شرح مشکل الآثار: جلد 7 صفحہ 328، اس کی سند صحیح ہے۔)
اُلو کی بولی میں کوئی تاثیر نہیں اور فرمایا:
لَا عَدْوَی وَ لَا ہَامَۃَ وَلَا نَوْئَ وَلَا صَفَرَ
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2220)۔
’’کوئی بیماری متعددی نہیں، صفر کی کوئی نحوست نہیں اور اُلّو کی بولی میں کوئی تاثیر نہیں۔‘‘
امام جعفر الطحاوی ان احادیث سے متعلق لکھتے ہیں کہ آخر الذکر احادیث میں ’’ہامۃ‘‘ کی تاثیر اور اس کے وجود کی نفی کی گئی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو چیز معدوم ہے آپﷺ نے اس سے پناہ کیسے مانگی؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ جس ’’ہَامَّۃٍ‘‘سے آپﷺ نے پناہ مانگی ہے اس سے موذی جانور مراد ہیں اور اس کے میم کو تشدید کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اورجس ’’ہَامَّۃٍ‘‘کے وجود اور اس کی تاثیر کی نفی کی ہے اس سے اُلو کی بولی مراد ہے، کہ جس سے اہل عرب زمانہ جاہلیت میں کسی کی موت کا فال لیتے تھے، اس کے میم کو مخفف پڑھا جاتا ہے، لہٰذا دونوں دو چیزیں ہیں اور ان میں کوئی تعارض نہیں۔
(شرح مشکل الآثار: جلد 7 صفحہ 330)۔
حدیث ’’کسائ‘‘ یعنی چادر اوڑھانے والی حدیث (صحیح مسلم: حدیث نمبر 2424) کتاب فضائل الصحابۃ۔) اور اہل بیت کا مفہوم:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ ایک دن صبح کے وقت نکلے، آپ چادر اوڑھے ہوئے تھے، آپ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو چادر میں لے لیا اور کہا:
اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا۞ (سورۃ الأحزاب آیت 34)
’’اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح سے مکمل ہو خوب۔‘‘
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2424،کتاب فضائل الصحابۃ)
اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جو صحابہ کرامؓ پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ وہ لوگ فضائلِ علیؓ کو چھپاتے ہیں، یہاں علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کی فضیلت و منقبت کو وہی سیدہ عائشہؓ بیان کر رہی ہیں، جنھیں حاقدین یہ کہہ کر مطعون کرتے ہیں کہ وہ حضرت علیؓ سے بغض رکھتی تھیں۔
(حقبۃ من التاریخ: صفحہ187)۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا۞ وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا۞ يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ مَنۡ يَّاۡتِ مِنۡكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفۡ لَهَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَيۡنِ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا۞وَمَنۡ يَّقۡنُتۡ مِنۡكُنَّ لِلّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتَعۡمَلۡ صَالِحًـا نُّؤۡتِهَـآ اَجۡرَهَا مَرَّتَيۡنِ وَاَعۡتَدۡنَا لَهَا رِزۡقًا كَرِيۡمًا ۞ يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَيَـطۡمَعَ الَّذِىۡ فِىۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ وَّقُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا۞ وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا۞وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا۞(سورۃ الأحزاب آیت 28 تا 34)
ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں سے کہو کہ: اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔ اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کوئی کسی کھلی بےہودگی کا ارتکاب کرے گی، اس کا عذاب بڑھا کر دو گنا کر دیا جائے گا، اور اللہ کے لیے ایسا کرنا بہت آسان ہے۔ اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی تابع دار رہے گی اور نیک عمل کرے گی، اسے ہم اس کا ثواب بھی دو گنا دیں گے، اور اس کے لیے ہم نے باعزت رزق تیار کر رکھا ہے۔ اے نبی کی بیویو! اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ لہٰذا تم نزاکت کے ساتھ بات مت کیا کرو، کبھی کوئی ایسا شخص بیجا لالچ کرنے لگے جس کے دل میں روگ ہوتا ہے، اور بات وہ کہو جو بھلائی والی ہو۔ اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی بار جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو۔ اے نبی کے اہل بیت ! (گھر والو) اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔
ان آیات کریمہ میں صرف نبی کریمﷺ کی ازواج مطہراتؓ کو مخاطب کیا گیا ہے، بات انھیں سے شروع ہوئی ہے اور انھیں پر ختم ہوئی ہے۔ کچھ باتوں کا حکم دیا گیا ہے اور کچھ کاموں سے روکا گیا ہے، اس پر وعدہ ہے اور وعید ہے، لیکن چونکہ ان احکامات کی افادیت ازواج مطہراتؓ کے ساتھ دوسروں کے حق میں بھی تھی اس لیے ’’تطہیر‘‘ میں مذکر کا صیغہ استعمال کیا گیا، کیونکہ قاعدہ کے اعتبار سے جہاں مذکر اور مونث کا اجتماع ہو جائے، وہاں مذکر کو ترجیح دی جاتی ہے، چنانچہ آیات کی افادیت تمام اہل بیتؓ کو شامل ہوگی، جن میں علی، فاطمہ، حسن، اور حسین رضی اللہ عنہم خاص طور سے شامل ہیں اور اسی خصوصیت کی بنا پر آپﷺ نے ان کے لیے خاص طور سے دعا بھی فرمائی، اسی طرح اہل بیت کا اطلاق علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے علاوہ دوسرے لوگوں پر بھی ہوگا جیسا کہ زید بن ارقمؓ کی حدیث میں ہے کہ جب ان سے پوچھا گیا: کیا آپﷺ کی بیویاں اہل بیت میں سے ہیں؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ ہاں آپﷺ کی بیویاں اہل بیت میں سے ہیں۔ لیکن اہل بیت جن پر زکوٰۃ حرام ہے وہ آل علی، آل جعفر، آل عقیل اور آل عباس سبھی ہیں۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1078 کتاب فضائل الصحابۃ۔)
لہٰذا بدلالت آیتِ کریمہ ازواجِ مطہراتؓ اہل بیت میں نیز علی، فاطمہ، حسن، حسین رضی اللہ عنہم حدیث کساء اور زید بن ارقم کی حدیث کی روشنی میں اہل بیتؓ میں داخل ہیں اور آل عباس،
آل عقیل، آل جعفر بھی حدیث زید بن ارقمؓ کی روشنی میں اہل بیت میں داخل ہیں اور اسی طرح آل حارث بن عبدالمطلب بھی اہل بیتؓ میں داخل ہیں۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 167)
آل رسولﷺ کے لیے مخصوص احکام
مالِ زکوٰۃ کھانے کی حرمت:
عبدالمطلب بن ربیعہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الصَّدَقَۃَ لَا تَنْبَغِيْ لِآلِ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا ہِی أَوْسَاخُ النَّاسِ۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1072)۔
’’آل محمد کے لیے صدقہ کا مال کھانا جائز نہیں ہے، یہ لوگوں کا میل کچیل ہے۔‘‘
وہ رسول اللہﷺ کی وراثت کے حق دار نہیں:
سیدنا ابوبکرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
لاَ نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3093، صحیح مسلم حدیث نمبر 1757)۔
’’ہم انبیاء اپنے مال کا وارث نہیں بناتے، ہم نے جو بھی چھوڑا صدقہ ہے۔‘‘
اس حدیث کو ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمٰن بن عوف، عباس بن عبدالمطلب، ابوہریرہ رضی اللہ عنہم اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث کتب صحاح و مسانید میں موجود ہیں۔
(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 195، البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 252)
مال غنیمت (جو مال کافروں سے ان پر لڑائی میں فتح و غلبہ ہونے کے بعد ملے اسے کہتے ہیں۔ النہایۃ: جلد 3 صفحہ 389)
اور مال فے (جو مال بغیر لڑائی کے کفار سے حاصل ہو اسے فے کہتے ہیں۔ النہایۃ: جلد 3 صفحہ 482)
کے پانچویں حصہ کے مستحق ہیں:
مالِ غنیمت سے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا يَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ۞ (سورۃ الأنفال آیت 41)
ترجمہ: اور (مسلمانو) یہ بات اپنے علم میں لے آؤ کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول اور ان کے قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے۔ (جس کی ادائیگی تم پر واجب ہے) اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن نازل کی تھی، جس دن دو جماعتیں باہم ٹکرائی تھیں، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اور مالِ فے کے بارے میں فرمایا:
مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ كَىۡ لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةًۢ بَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا وَاتَّقُوااللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ۞ (سورۃ الحشر آیت 7
ترجمہ: اللہ اپنے رسول کو (دوسری) بستیوں سے جو مال بھی فیئ کے طور پر دلوا دے، تو وہ اللہ کا حق ہے اور اس کے رسول کا، اور قرابت داروں کا، اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا، تاکہ وہ مال صرف انہی کے درمیان گردش کرتا نہ رہ جائے جو تم میں دولت مند لوگ ہیں۔ اور رسول تمہیں جو کچھ دیں، وہ لے لو، اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ سخت سزا دینے و الا ہے۔
نبی کریمﷺ کے ساتھ انھیں بھی درود میں شامل کرنا:
کعب بن عجرہؓ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول آپ کے اہل بیت پر ہم کیسے درُود بھیجیں؟ کیونکہ سلام کی کیفیت تو ہمیں اللہ نے سیکھا دیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:
قُوْلُوْا اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3370، صحیح مسلم: حدیث نمبر 406)۔
’’کہو، اے اللہ رحمت بھیج محمدﷺ اور آل محمد پر جس طرح تو نے رحمت بھیجی ہے ابراہیم(علیہ السلام) اور آل ابراہیم پر۔ تو بہت تعریف کیا گیا بزرگوار ہے، اے اللہ برکت نازل کر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اور آل محمد پر جس طرح برکت نازل کیا ہے ابراہیم(علیہ السلام) اور آل ابراہیم پر تو بہت تعریف کیا ہوا بزرگوار ہے۔‘‘
وہ خصوصی عقیدت و محبت کے مستحق ہیں:
سیدنا زید بن ارقمؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِيْ أَہْلِ بَیْتِيْ، اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِيْ أَہْلِ بَیْتِيْ، اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِيْ أَہْلِ بَیْتِيْ۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2408)۔
’’میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمھیں اللہ سے ڈرتے رہنے کی تلقین کرتا ہوں، میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمھیں اللہ سے ڈرتے رہنے کی تلقین کرتا ہوں۔ میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمھیں اللہ سے ڈرتے رہنے کی تلقین کرتا ہوں۔‘‘
امام قرطبیؒ اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ اس وصیت نبوی اور آپﷺ کی بار بار تاکید کا واجبی تقاضا ہے کہ آپﷺ کے اہل بیت سے محبت اور ان کی توقیر کی جائے، بلکہ یہ ایک فرض ہے جسے چھوڑنے والے کے لیے کوئی عذر قابلِ قبول نہیں ہے۔
(فیض القدیر: المناوی؛ جلد 3 صفحہ 14)۔
اس وصیت نبوی کی اہمیت اور تقاضا کو خلیفۂ اول ابوبکر صدیقؓ نے اچھی طرح سمجھا، ان کے عقیدت مند رہے، انھیں تکریم اعزاز سے نوازا اور لوگوں کو بھی اس بات کی دعوت دی، فرمایا کہ محمدﷺ کے اہل بیت کے حقوق کا خیال رکھو۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3713)۔
ان کے حقوق کا خیال رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ انھیں کسی طرح تکلیف نہ دو اور نہ ان کے ساتھ بدسلوکی کرو۔
(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 97)۔
امام نوویؒ کہتے ہیں کہ ان کا احترام کرو اور ان کی عزت کرو۔
(العقیدۃ فی أہل بیت بین الإفراط و التفریط: صفحہ 175)۔
آپؓ نے حضرت علیؓ سے ان حقوق کی پاسداری کی تاکید ان الفاظ میں کی ہے: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، بے شک رسول اللہﷺ کے اقرباء سے صلہ رحمی کرنا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اپنے اقرباء سے صلہ رحمی کروں۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3712)۔
پس اہل بیتؓ سے محبت کرنا اہل سنت و الجماعت کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔
علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: اہل سنت و الجماعت کے عقائد میں یہ بات شامل ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کے اہل بیت سے عقیدت رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں وصیت نبوی کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔
(مجموع الفتاویٰ: جلد 3 صفحہ 407)۔
قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں، محبت نبویﷺ کی علامت یہ ہے کہ آپﷺ نے جس سے محبت کی ہے اس سے محبت کی جائے اور جو آپ سے قرابت داری کے باعث اہل بیتؓ میں سے ہے اور صحابہؓ میں سے ہے خواہ مہاجرین میں سے ہو یا انصار میں سے اس سے محبت کی جائے۔
(الشفاء: جلد صفحہ 573)۔
حافظ ابن کثیرؒ کا قول ہے کہ اہل بیتؓ کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی عزت و تکریم کے ہم قطعاً منکر نہیں کیونکہ حسب و نسب اور مقام و مرتبہ کے اعتبار سے روئے زمین پر بسنے والوں میں سب سے پاک اور شریف ترین گھرانے سے ان کا تعلق ہے، خاص طور سے ان کی تقدیس و تکریم اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ واضح اور صحیح سنت نبوی کے پابند تھے اور اپنے اسلاف کی طرح مکمل حق پرست تھے، جیسا کہ عباس اور ان کی اولاد، علی اور ان کے اہل بیت اور ان کی ذریت رضی اللہ عنہم ۔
(تفسیر القرآن العظیم: ابن کثیر: جلد 4 صفحہ 113)۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ احد میں:
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور طلحہ بن عثمان کے درمیان اولین مقابلہ سے معرکۂ احد کا آغاز ہوا، طلحہ بن عثمانؓ کے ہاتھوں میں مشرکین کا پرچم تھا، اس نے کئی مرتبہ مسلمانوں کو دعوت مبارزت دی، حضرت علی بن ابی طالبؓ مقابلہ کے لیے سامنے آئے اور اسے چیلنج دیتے ہوئے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تجھے اس وقت تک نہ چھوڑوں گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ تجھے میری تلوار سے جلد سے جلد جہنم رسید نہ کردے یا تیری تلوار سے مجھے جلد از جلد جنت میں نہ پہنچا دے۔ اور پھر اس پر سخت وار کیا، جس سے اس کا پاؤں جسم سے جدا ہو گیا اور وہ زمین پر آگرا، اس کی شرم گاہ کھل گئی، اس نے کہا: اے میرے چچازاد بھائی! میں تجھے اللہ اور قرابت داری کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے چھوڑ دو، آپ پیچھے ہٹ گئے، اور اس کا کام تمام نہیں کیا، اللہ کے رسولﷺ نے تکبیر کی صدا بلند کی جبکہ حضرت علیؓ سے ان کے بعض ساتھی کہنے لگے: تم نے اس کا کام کیوں نہیں تمام کر دیا؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ جب اس کی شرم گاہ کھل گئی تو اس نے اللہ اور قرابت داری کا واسطہ دیا، اس لیے مجھے شرم آگئی اور میں نے چھوڑ دیا۔
(السیرۃ الحلبیۃ: جلد 2 صفحہ 497، 498)۔
جب معرکۂ کارزار گرم ہوا، دونوں افواج آپس میں گتھم گتھا ہوگئیں توحضرت علیؓ میمنہ میں ہو گئے اور حضرت معصب بن عمیرؓ کی شہادت کے بعد آپ ہی نے پرچم اسلام کو اپنے ہاتھ میں سنبھالا، اس غزوہ میں اگرچہ مسلمانوں کو سخت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا اور رسول اللہﷺ کے دفاع میں آپ بھی آزمائے گئے، لیکن کافروں کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا اور ان کے بےشمار افراد موت کے گھاٹ اتارے گئے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد صفحہ 224)۔
اس غزوہ میں جب اللہ کے رسولﷺ جب گڑھے میں گر گئے تھے، تو اس وقت حضرت علیؓ ہی نے آپﷺ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو باہر نکالا تھا۔
(السیرۃ النبویۃ: ابن ہاشم: جلد 3 صفحہ 89)۔
اس غزوہ میں مہاجرین و انصار میں سے بہت سارے ممتاز صحابہؓ شہید ہوئے تھے، جس سے اللہ کے رسولﷺ کو بہت صدمہ پہنچا تھا اور اسی کے بالمقابل دشمنوں کو بھی اللہ کے رسول کی طرف سے سخت نقصان اٹھانا پڑا تھا، ان ظالموں نے آپﷺ کے چہرہ مبارک کو خون آلود کر دیا، اس وقت آپﷺ کی لخت جگر فاطمہ اور داماد علی رضی اللہ عنہما نے آپ کی مرہم پٹی کی، اور چہرہ انوار و ریش مبارک پر بہتے ہوئے خون کو پونچھا۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 4085)۔
اس غزوہ میں حضرت علیؓ نے اپنی بےباک شجاعت کا مظاہرہ کیا، جب آپﷺ کے بارے میں یہ خبر پھیل گئی کہ آپﷺ شہید کر دیے گئے اور حضرت علیؓ کو آپﷺ نظر نہ آئے تو حضرت علیؓ نے سوچا کہ رسول اللہﷺ کے بغیر زندگی میں لطف ہی کیا ہے۔ پھر حضرت علیؓ اٹھے اور تلوار کی میان توڑ دیا اور دشمن پر پل پڑے، مسلمانوں نے حضرت علیؓ کے لیے راستہ خالی کر دیا، اچانک آپ کی نگاہ رسول اللہﷺ پر پڑی۔
(شرح النووی: صحیح مسلم: جلد 12 صفحہ 148)۔
آپ رسول اللہﷺ کے ساتھ ہو گئے اور جانباز بہادروں کی طرح آپﷺ کی طرف سے دفاع کیا، اس جنگ میں آپ کو سولہ (16) زخم آئے۔
جب مشرکین کا لشکر میدانِ جنگ خالی کر کے پیچھے ہٹا تو آپﷺ نے دشمن کی واپسی کا رخ معلوم کرنے کے لیے فوراً حضرت علیؓ کو اس کے پیچھے بھیجا، آپﷺ نے کہا: تم دشمن کا پیچھا کرو اور دیکھو وہ کیا کر رہے ہیں؟ اور ان کا ارادہ کیا ہے؟ اگر گھوڑوں کو پہلو میں ایک جانب کر کے اونٹوں پر سوار ہو گئے ہوں تو ان کا ارادہ مکہ جانے کا ہوگا اور اگر گھوڑوں پر سوار ہو کر اونٹوں کو چرانے کے لیے ہانکا ہو، تو ان کا ارادہ مدینہ پر حملے کا ہوگا، واللہ اگر انھوں نے مدینہ کی طرف رخ کیا تو ہم ابھی فوراً ان کا پیچھا کریں گے اور ان کا زبردست مقابلہ کریں گے۔
سیدنا علیؓ کا بیان ہے کہ ان کی نقل و حرکت کا پتہ کرنے کے لیے میں ان کے پیچھے لگ گیا، دیکھا تو وہ گھوڑوں کو پہلو میں ایک جانب کر کے اونٹوں پر سوار ہو کر مکہ کا رخ کر چکے تھے، پھر میں واپس آیا اور رسول اللہﷺ کو صورت حال سے آگاہ کیا۔
(مسند أبو یعلی: جلد 1 صفحہ 415، 416) اس کی سند حسن ہے۔ خلافۃ علی بن أبی طالب: عبدالحمید فقیہی: صفحہ 39)۔
اس واقعہ کے دروس و مواعظ اور عبرتیں:
٭ اس واقعہ میں نبی کریمﷺ کی شجاعت قابلِ دید ہے کہ آپ مشرکین کی صف میں گھس کر ان سے نبرد آزما تھے، کافی مشقت، مار دھاڑ اور زخم کھانے کے بعد حضرت علیؓ آپﷺ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور پہنچ کر دیکھا کہ آپﷺ دشمن کے قلب میں گھسے ہوئے ہیں۔
٭ آپﷺ دشمن سے ہمہ وقت چوکنا رہتے اور اس کی نقل و حرکت پر نہایت گہری نگاہ رکھتے، حالات کو سمجھنے، مدمقابل کی نقل و حرکت کا تجزیہ کرنے اور مستقبل کی توقعات و اندیشوں کو اچھی طرح بھانپ لینے پر آپﷺ کو عبور حاصل تھا۔
٭ آپﷺ بلند ترین روحانی عزم و حوصلہ اور قوت کے مالک تھے، اس عزم وحوصلہ کا عکس آپ کے معرکہ کی تیاری میں صاف نظر آرہا ہے، کہ اگر مشرکین مکہ، مدینہ پر چڑھائی کرتے ہیں تو آپﷺ نے کہا ابھی جم کر ان کا مقابلہ کیا جائے گا۔
٭ آپﷺ کو حضرت علیؓ پر مکمل اعتماد تھا اور انھیں جوہری شخصیات کی معرفت کا ملکہ حاصل تھا۔
٭ سیدنا علیؓ مروت و مکارم اخلاق جیسے اوصاف حمیدہ کے مالک تھے، چنانچہ مقابلہ میں جب حضرت علیؓ نے دشمن کو پچھاڑ دیا اور اس کی شرم گاہ کھل گئی، تو حضرت علیؓ شرم کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے اور رسول اللہﷺ نے اس پر کوئی نکیر نہ کی۔ آپ کا یہ کردار دشمن کے ساتھ برتاؤ کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے اور سبق دیتا ہے کہ دشمن کے ساتھ عام حالات تو کیا میدانِ جنگ میں بھی کیا سلوک کرنا چاہیے۔
٭ اللہ کے راستہ میں قربانی دینا واجب ہے، قربانی کی روح ہی دنیا میں اسلام کی سرفرازی اور آخرت میں جنت کی ضامن ہے، اس حقیقت کو غزوۂ احد وغیرہ میں بہت سے مہاجرین و انصار صحابہؓ نے کر دکھایا۔
٭ اللہ پر کامل توکل کے ساتھ ساتھ اسباب و وسائل کو استعمال کرنا ضروری ہے، چنانچہ آپﷺ نے اپنے بعض صحابہ کو چند ہدایات کے ساتھ جبل احد پر مقرر کیا تھا، لیکن انھوں نے غلطی کی اور پہاڑ سے نیچے اتر گئے، جس کے نتیجہ میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
٭ حضرت علیؓ کی شجاعت بھی دیکھی جا سکتی ہے، کہ آپؓ خطرات کے گھیرے میں تھے، اگر حضرت علیؓ دشمن کو نظر آجاتے تو وہ آپ کو قتل کرنے سے نہ چوکتے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 4 صفح
ہ 41، السیرۃ النبویۃ: علی محمد محمد الصلّابی: جلد 2 صفحہ 145، غزوہ أحد: أبی فارس: صفحہ (95 تا 96)۔