Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قبائل عرب کو اسلام کی دعوت دینے اور بنوشیبان سے گفتگو کرنے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے ساتھ ساتھ

  علی محمد محمد الصلابی

ابان بن تغلب عکرمہ سے روایت کرتے ہیں وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں کہا کہ علی بن ابی طالبؓ نے مجھ سے بیان کیا، جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ) کو حکم دیا کہ قبائل عرب کے پاس جائیں، اورانھیں اسلام کی دعوت دیں، تو آپﷺ اور میں اور ابوبکر منیٰ گئے، وہاں عربوں کی ایک مجلس کے پاس پہنچے، ابوبکرؓ آگے بڑھے اور انھیں سلام کہا، وہ ہر بھلے کام میں پیش پیش رہتے تھے اور علم انساب کے ماہر تھے۔ 

راوی کا بیان ہے کہ باتیں کرتے کرتے آپ نے یہاں تک کہا کہ پھر ہم ایک دوسری مجلس کے پاس گئے، اس پر سکینت و وقار نمایاں تھی، حضرت ابوبکر صدیقؓ وہاں بھی آگے بڑھے اور سلام کہا، پھر پوچھا: آپ لوگ کون ہیں؟ انھوں نے جواب دیا، ہم شیبان بن ثعلبہ سے تعلق رکھتے ہیں، پھر ابوبکرؓ رسول اللہﷺ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ آپ پر میرے ماں باپ قربان! یہ لوگ بڑے شریف اور بھولے بھالے ہیں، ان میں مفروق سب سے زیادہ فصیح اللسان اور صاحب حسن و جمال تھے، ان کے لمبے بالوں کی دو لٹیں ان کے سینے پر لٹک رہی تھیں اور وہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زیادہ قریب بیٹھے تھے، بہرحال حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ان سے دریافت کیا، تمھاری تعداد کتنی ہے؟ مفروق نے جواب دیا: ہماری تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے اور اگرچہ ہم تعداد میں کم ہیں، لیکن شکست کھانے والے نہیں ہیں۔ ابوبکرؓ نے پوچھا: تمھاری دفاعی صلاحیت کیسی ہے؟ مفروق نے کہا، جب ہم دشمن کے مقابل میں ہوتے تو سخت غصہ میں ہوتے ہیں اور جب غصہ ہوتے ہیں تو جم کر مقابلہ کرتے ہیں، عمدہ نسل کے گھوڑوں کی پرورش کو اولاد کی پرورش پر اور تلوار اٹھانے کو بیوی کے ساتھ شب باشی پر ترجیح دیتے ہیں، مدد اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، کبھی وہ ہمیں دوسروں پر اور کبھی دوسروں کو ہم پر فتح دیتا ہے، شاید آپ ہی قریش کی وہ شخصیت ہیں جن کا ذکر چل رہا ہے؟

ابوبکر نے کہا اگر تمھیں خبر مل چکی ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں، تو دیکھو یہ اللہ کے رسول حاضر ہیں، مفروق نے کہا: اے قریشی بھائی! آپ ہمیں کس بات کی دعوت دیتے ہیں؟ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’اس بات کی شہادت دینا میری دعوت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، تم مجھے جائے پناہ دو، اور میری مدد کرو، کیوں کہ قریش کے لوگ اللہ سے بغاوت اور اس کے رسول کی تکذیب کر رہے ہیں، باطل کو لے کر حق سے بےنیاز ہیں، حالانکہ اللہ ہی کامل بے نیاز اور سراپا لائق ستائش ہے، مفروق نے کہا: اے قریش کے بھائی! آپ کی اور کیا دعوت ہے؟ اللہ کی قسم! اس سے بہتر بات تو میں نے آج سے پہلے سنی بھی نہ تھی۔ پھر آپﷺ نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کی: 

قُلۡ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَاحَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ‌ اَلَّا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡئًـــا وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا‌وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَكُمۡ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ‌ نَحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَاِيَّاهُمۡ‌ وَلَا تَقۡرَبُواالۡفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ‌ وَلَا تَقۡتُلُواالنَّفۡسَ الَّتِىۡ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالۡحَـقِّ‌ ذٰلِكُمۡ وَصّٰٮكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ۞ (سورۃ الأنعام آیت 151)

ترجمہ: (ان سے) کہو کہ: آؤ، میں تمہیں پڑھ کر سناؤں کہ تمہارے پروردگار نے (درحقیقت) تم پر کونسی باتیں حرام کی ہیں۔ وہ یہ ہیں کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اور غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو۔ ہم تمہیں بھی رزق دیں گے اور ان کو بھی۔ اور بےحیائی کے کاموں کے پاس بھی نہ پھٹکو، چاہے وہ بےحیائی کھلی ہوئی ہو یا چھپی ہوئی، اور جس جان کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے اسے کسی برحق وجہ کے بغیر قتل نہ کرو۔ لوگو! یہ ہیں وہ باتیں جن کی اللہ نے تاکید کی ہے تاکہ تمہیں کچھ سمجھ آئے۔

مفروق نے کہا، یقیناً تم مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی دعوت دیتے ہو، جو قوم تمہیں جھٹلاتی ہے اور تمھاری مخالفت کرتی ہے وہ تہمت طراز ہے، اس کے بعد مفروق نے معاملہ ہانی بن قبیصہ کی طرف پھیر دیا اور کہا: یہ ہمارے بڑے بزرگ ہیں اور دینی پیشوا ہیں، یہی کچھ بتائیں گے چنانچہ ہانی نے کہا، اے برادر قریش! ہم نے تمھاری بات سن لی، لیکن ایک ہی ملاقات اور ایک ہی مجلس میں ہم اپنا دین چھوڑنا اور آپ کی بات مان لینا مناسب نہیں سمجھتے، ممکن ہے کہ جلد بازی میں ہم سمجھنے میں غلطی کر جائیں اور انجام کا ہمیں صحیح علم نہ ہوسکے، کیوں کہ عموماً جلد بازی ہی میں لغزش ہوا کرتی ہیں اور ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ جو لوگ ہمارے پیچھے ہیں ان کو کچھ بتائے بغیر آپ سے کوئی معاہدہ اور پختہ وعدہ کر لیں، ہاں ہم یہاں سے لوٹ کر جائیں گے اور آپ بھی جائیں، پھر ہم غور کریں گے، لیکن آخر میں ہانی نے سوچا کہ اس سلسلہ میں مثنیٰ بن حارث کو بھی شریک کر لیا جائے تو بہتر ہوگا، چنانچہ اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا: یہ مثنیٰ ہیں ہمارے بڑے بزرگ ہیں، ہمارے فوجی و جنگی معاملات کے ذمہ دار ہیں، یہ جو کہیں، چنانچہ مثنیٰ نے کہا جو کہ بعد میں اسلام لے آئے، اے برادر قریش: ہم سب نے آپ کی بات سن لی، اپنا دین چھوڑنے اورآپ کی دین کی پیروی کرنے سے متعلق ہم بھی ہانی بن قبیصہ کی رائے پر متفق ہیں، لیکن چونکہ ابھی ہم یمامہ اور سمامہ دو پانیوں کے درمیان ہیں اس لیے ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے، رسول اللہﷺ نے پوچھا: یہ دوپانیوں سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ایک تو کسریٰ کی نہریں ہیں اور دوسرا عربوں کے چشمے، جہاں تک کسریٰ کی سرزمین کی بات ہے تو اس کے جرائم ناقابل معافی اور عذر ناقابل قبول ہیں، ہم کسریٰ سے عہد و پیمان کر کے یہاں آئے ہیں کہ نئی چیز کو خود ایجاد نہیں کریں گے اور نہ ہی نئی چیز لے کر آنے والے کو پناہ دیں گے۔ اے برادر قریش! میرے خیال سے تم جس چیز کی دعوت دے رہے ہو، اسے شاہان مملکت کبھی پسند نہیں کریں گے، لہٰذا اگر تم پسند کرو کہ عربوں کی سرزمین میں ہم تمھیں جائے پناہ دیں اور مدد کریں تو یہ ہو سکتا ہے، اللہ کے رسول اللہﷺ نے فرمایا:

مَا اَسَأتُمْ فِی الرَّدِّ اِذَا اَفْصَحْتُمْ بِالصِّدْقَ وَاِنَّ دِیْنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَنْ یَّنْصُرَہٗ اِلَّا مَنْ حَاَطہٗ مِنْ جَمِیْعِ جَوَانِبِہٖ، أَرَأَیْتُمْ اِنْ لَّمْ تَلْبَثُوْا اِلَّا قَلِیلًا حَتّٰی یُوَرِّثَکُمُ اللّٰہُ تَعَالیٰ أَرْضَہُمْ وَ دِیَارَہُمْ وَ یُفْرِشُکُمْ نِسَائَ ہُمْ، أَتُسَبِّحُوْنَ اللّٰہَ وَ تُقَدِّسُوْنَہُ۔

’’صراحت سے سچی بات کہہ کر تم نے کوئی برا جواب نہیں دیا، یقیناً اللہ کے دین کا حقیقی معاون وہی ہو سکتا ہے جو اسے ہر اعتبار سے جانچ پرکھ لے، تمھارا کیا خیال ہے کہ اگر کچھ ہی عرصہ میں اللہ تعالیٰ تمھیں ان کی زمینوں اور آبادیوں کا وارث بنا دیتا ہے اور ان کی عورتوں کو تمھارے لیے حلال کر دیتا ہے تو تم اس کی تسبیح و تقدیس کرو گے۔‘‘

نعمان بن شریک نے کہا، اگر اللہ نے چاہا تو یہ بات تقریباً طے ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 3 صفحہ 142، 143، 145) دلائل النبوۃ: البیہقی، اس کی سند حسن ہے۔)