شیعہ علماء کی تائیدات
مولانا اقبال رنگونیشیعہ علماء کو اہلِ سنت علماء کے ان بیانات سے اتفاق نہ ہو تو وہ کم از کم شیعہ مؤرخین اور محدثین کی بات پر تو یقین کر لیں۔
شیعہ ابو الفرج الاصفہانی (356ھ) نے (مقاتل الطالبیین: دیکھیے جلد 1، صفحہ) میں
شیعہ شیخ مفید (413ھ) نے اپنی معروف کتاب الارشاد، دیکھیے صفحہ 212، میں۔
شیعہ ملا باقر مجلسی نے بحار الانوار، دیکھیے جلد 10 صفحہ 211، میں۔
اور شیعہ شیخ عباس قمی (1359ھ) نے منتهی الآمال، دیکھیے صفحہ 335، میں بھی اسے اسی طرح بیان کیا ہے۔
واقعہِ کربلا کے بارے میں شیعہ علماء کا ملجأ و ماویٰ اور مؤرخ ابو مخنف لوط بن یحییٰ الازدی (157ج) کی کتاب مقتل الحسینؓ بڑی مشہور ہے اس میں بھی یہ تین شرائط اس طرح موجود ہیں:
اختار وامنی خصالا ثلاثا اما ان ارجع إلى المكان الذي اقبلت منہ، واما ان اضع يدى في يد يزيد بن معاويۃ فيرى فيما بيني وبينہ رأيہ واما ان تسيروني إلى أى ثغر من ثغور المسلمين شئتم الخ۔(مقتل الحسین: جلد 8 صفحہ 18)
ترجمہ:
1:میں جہاں سے آیا ہوں میں وہاں واپس چلا جاؤں لڑنا میرا مقصود نہیں، نہ میں یہاں لڑنے کے لیے آیا ہوں بچوں کو لے کر کون لڑنے کے لیے آتا ہے۔
2: میں یزید کے ساتھ ملاقات کر کے براہِ راست گفتگو کروں۔ تم لوگ اس کے اور میرے درمیان رکاوٹ نہ بنو، میں جانوں وہ جانے۔
3: یا مجھے کسی سرحدی علاقے میں بھیج دو میں زندگی وہیں بسر کروں اور اگر کبھی لڑنا پڑے تو کفار کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو جاؤں۔
ابو مخنف کہتا ہے کہ یہ صرف میری بات نہیں، بلکہ اس روایت کو شیعہ محدثین کی ایک جماعت نے نقل کیا ہے:
قَالَ أَبُو مِخْنَفٍ: وَأَمَّا مَا حَدَّثَنَا بِهِ الْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَالصَّقْعَبُ بْنُ زُهَيْرٍ الْأَزْدِی وَغَيْرُهُمَا مِنَ الْمُحَدِّثِينَ فَهُوَ مَا عَلَيْهِ جَمَاعَةُ الْمُحَدِّثِينَ۔
یاد رہے کہ "ہاتھ میں ہاتھ رکھنے" سے مراد یہ نہیں کہ آپ یزید کی بیعت کر لیتے ہیں، بلکہ آپ اس سے ملاقات کر کے دو بدو گفتگو اور اس بارے میں مذاکرات کرنا چاہتے تھے اور آپ چاہتے تھے کہ اپنی بات اور رائے خود اس کے سامنے بیٹھ کر پیش کروں:
وَإِمَّا أَنْ أَضَعَ يَدِي فِي يَدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَيَرَى فِيمَا بَيْنِی وَبَيْنَهُ رَأْيَه۔
(تاریخِ طبری: جلد 5 صفحہ 413)
