اعتراض نمبر 6 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اعتراض نمبر 6

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

یہ آیت حلتِ متعہ میں مقصود ہے، کیونکہ اُبی بن کعب و عبداللہ بن عباسؓ کی قراءت پر ثابت ہے لہٰذا حلت باجماعِ امت ثابت ہے۔

جواب:

اگر اس کے مطابق فقرہ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 282) 

اس آیت میں ہو، اور اس کی قراءت پر کسی نے انکار نہ کیا ہو، تو اجماعِ امت اس قراءت پر ہوتا اور جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اتفاق ہوتا اور وہ اسے جزوِ قرآن سمجھتے تو یہ ضروری فقرہ قرآنِ مجید میں رہتا اور ہرگز خارج نہ کیا جاتا۔ 

اگر ایسا ہوتا تو سیدنا فاروقِ اعظمؓ ضرور اسے قرآن میں داخل رہنے دیتے کیونکہ جمعِ قرآن کے وقت سیدنا عمرؓ بقولِ شیعہ منکر متعہ بھی نہ تھے، تاکہ یہ شبہ ہو کہ اپنی بات کی پُختگی میں ایسا کیا۔ انکار تو اپنی خلافت کے عہد میں کیا ہے۔

تو جب یہ قرأت اجماعِ امت سے ثابت نہیں، بلکہ اس کے جزوِ قرآن نہ ہونے پر اجماعِ امت ہوا، تو نتیجہ یہ نکلا کہ حرمتِ متعہ پر اجماعِ امت ہی جب خود علامہ مجلسی اس قرأت کو قرأتِ شاذہ کہتے ہیں۔ 

(رسالہ متعہ)  

تو پھر بات ہی کیا رہی؟ کہ جس پر اس قدر شدّ و مد سے کہا جاتا ہے کہ اس قرأت پر اجماعِ جمہورِ امت ہے۔