فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آسمانوں کے راستہ کا علم…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آسمانوں کے راستہ کا علم

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 7

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آسمانوں کے راستہ کا علم

[اشکال] :شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے گم ہوجانے سے پہلے جو پوچھنا چاہو، پوچھ لو، مجھ سے آسمان کے راستوں کے بارے میں پوچھو مجھے زمین کے راستوں سے ان کا زیادہ علم ہے۔‘‘

[جواب]:ہم کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ یقیناً یہ بات مدینہ میں ہرگزنہیں کہا کرتے تھے جہاں ان کی طرح اور بھی مہاجر و انصار اہل علم صحابہ موجود تھے ۔جنہوں نے ویسے ہی علم حاصل کیا تھا جیسے آپ نے علم حاصل کیا تھا۔اور ویسے ہی معرفت حاصل کی جس طرح آپ نے معرفت حاصل کی تھی۔ بلکہ آپ نے یہ الفاظ اس وقت فرمائے جب آپ عراق چلے گئے ۔وہاں بہت سارے لوگ اسلام میں داخل ہوئے تھے جو دین کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔آپ میں ان لوگوں کے درمیان اقامت گزیں تھے جو علم دین سے بے بہرہ تھے، آپ وہاں ایک امام کی حیثیت رکھتے تھے جس پر رعایا کی تعلیم و تربیت اور فتوی دینا واجب ہوتا ہے۔آپ یہ بات ان لوگوں سے اس لیے فرمایا کرتے تھے کہ :لوگ علم حاصل کریں ‘ اور فتوی پوچھیں ۔ جس طرح وہ صحابہ کرام جو بہت بعد تک زندہ رہے ؛ اور لوگ ان کے علوم کی طرف محتاج ہوئے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ احادیث روایت کی ہیں جو خلفاء اربعہ یا دوسرے اکابر صحابہ کرام نے روایت نہیں کیں ۔اس لیے کہ پہلے کے لوگ ان کونقل کرنے سے مستغنی تھے۔اس لیے کہ اس دور میں تمام لوگوں نے ایک ہی مصدر سے تعلیم پائی تھی۔ 

یہی وجہ ہے کہ حضرت ابن عمر؛ ابن عباس ‘ عائشہ ‘ انس و جابر ‘ابوسعید رضی اللہ عنہم اوراس طرح کے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ روایات نقل کی گئی ہیں وہ جو حضرت علی اورحضرت عمر رضی اللہ عنہما سے منقول نہیں ہیں ۔جب کہ حضرت عمر و حضرت علی رضی اللہ عنہما ان بقیہ صحابہ کرام سے زیادہ بڑے عالم تھے۔لیکن لوگوں کو ان کے علوم کی ضرورت محسوس ہوئی ؛ اور اس لیے بھی کہ ان کی تاریخ وفات متأخر ہے ۔ انہیں ان تابعین نے پایا جو ان سے پہلے لوگوں کو نہیں پاسکے تھے۔پس انہیں سوال کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔اوروہ لوگ یہ سمجھے کہ انہیں سمجھائیں او رحدیث بیان کریں ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوفہ میں یہ ارشادفرمانا کہ :’’مجھ سے پوچھ لو ‘‘ یہ بھی اسی باب سے تعلق رکھتا ہے۔ایسی بات حضرت عبداللہ بن مسعود ‘ ابی بن کعب ‘ معاذ‘ ابی درداء؛اورسلمان اور ان کے امثال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی ارشاد نہیں فرمائی ۔ چہ جائے کہ حضرت عمر و حضرت عثمان رضی اللہ عنہما سے ایسی بات کہتے ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے صحابہ کرام عام طور پر سوال نہیں کیا کرتے تھے۔ حضرت معاذ؛ حضرت ابی بن کعب ‘ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم اور دوسرے ان سے کم مرتبہ کے صحابہ میں سے کسی ایک نے بھی آپ سے اس طرح کا کوئی سوال نہیں کیا۔ ہاں یہ بات ضرورہے کہ جب کوئی فتوی لینے والا آپ سے کرتا تو وہ ویسے ہی ہوتا تھا جیسا کہ دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کوئی سوال کیا جاتا ہو۔ حضرت عمراورحضرت عثمان رضی اللہ عنہما اپنے امور میں آپ جیسے دوسرے لوگوں سے بھی مشورہ کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشیران میں حضرت عثمان ‘ حضرت علی ‘ حضرت طلحہ ‘حضرت زبیر؛ حضرت عبدالرحمن بن عوف ‘ ابن مسعود ‘ زید بن ثابت ‘ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم کے علاوہ دوسرے صحابہ کرام کے نام بھی آتے ہیں ۔ یہاں تک حضرت ابن عباس صغر سنی کے باوجود مشاورت میں شامل ہوا کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو باہم مشورہ کرنے کا حکم دیا اور اس بات پر ان کی مدح فرمائی ہے؛ارشاد فرمایا :

﴿وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ﴾ (الشوری:۳۸)

’’وہ اپنے امور باہم مشورہ سے طے کرتے ہیں ۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تدبیر و سیاست صحت و صواب کی آئینہ دار ہوا کرتی تھی۔آپ کے بعد آپ جیسا کوئی عبقری پیدا ہی نہیں ہوا۔اور جیسا آپ کے دور میں اسلام پھیلاتھا؛اور اسے غلبہ و عزت اور قدرت نصیب ہوئے؛ بعد کے کسی بھی دور میں ایسا نہ ہوسکا۔آپ نے ہی کسری کا غرور توڑ کر رکھا؛روم اور فارس کی سپر پاورز کو خاک میں ملایا۔ شامی لشکر پر آپ کے امیر عام حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ تھے اور عراقی لشکر پر حضرت سعد بن ابی وقاص۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آپ جیسے امراء لشکر ‘ لشکر اور اہل مشاورت کسی دوسرے کو میسر نہ آئے۔

پس یہ کہنا کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ فرمائے تھے کہ’’اَنَا اَعْلَمُ بِطُرُقِ السَّمَآئِ من طرق الأرض‘‘

’’ میں زمین کے راستوں سے زیادہ آسمانی راستوں کو جانتا ہوں ۔‘‘[اگر فی الواقع حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ فرمائے تھے کہ’’اَنَا اَعْلَمُ بِطُرُقِ السَّمَآئِ‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں جانتا ہوں کہ آسمان والے کن اوامر و نواہی پر عمل کرکے تقرب حاصل کرتے ہیں ۔اوریہ کہ میں عبادت کرنے کے طریقہ اور جنت و ملائکہ سے بخوبی آگاہ ہوں ، جب کہ زمین پر مجھے ان چیزوں کا علم حاصل نہیں ۔ یہ مراد نہیں کہ آپ بجسد عنصری آسمان پر چڑھ گئے ہیں ۔ کوئی مسلم یہ بات نہیں کہتا۔ یہ روایت موضوع ہے اور اس کی اسناد کا کچھ پتہ نہیں ۔]

یہ باطل کلام ہے۔کوئی عاقل ایسی بات نہ کہہ سکتا ہے [اور نہ ہی آپ جیسی شخصیت کی طرف منسوب کرسکتا ہے]

نہ ہی صحابہ کرام اورتابعین میں سے کوئی ایک اپنے بدن کے ساتھ آسمانوں پر چڑہاہے۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کے بارے میں کلام کیا ہے۔ کیا آپ کو بدن کے سمیت معراج ہوئی تھی یا صرف روح کے ساتھ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے متعلق سلف میں یہ اختلاف نہیں رہا کا کسی کو بدن کے ساتھ معراج ہوئی ہو۔

غالی شیعہ میں سے جو کوئی اپنے مشائخ یا اہل بیت میں سے کسی ایک کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں حقیقت میں وہ لوگ گمراہی کا شکار ہیں ۔یہ بالکل اسی کلام کی جنس میں سے ہے جو کہ غالی شیعہ ان میں سے کسی ایک کے نبی ہونے یا اس سے بھی افضل یعنی خدا ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔

صفحہ 1 از 7