فائدہ جلیلہ - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

فائدہ جلیلہ

  مولانا عبدالستار تونسوی

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم:

شیعہ مذہب میں عقیدہِ تحریفِ قرآن یعنی موجودہ قرآن ناقص و زائد ہے اور اصلی قرآن کے خلاف ہے یہ عقیدہِ امامت کی طرح بلکہ اس سے کچھ زائد روایاتِ متواترہ سے ثابت ہے۔ 

1: کتبِ معتبرہِ شیعہ میں تحریفِ قرآن کی روایتیں زائد از دو ہزار ہیں اور یہ روایاتِ امامت سے بھی زیادہ ہیں۔ 

2: شیعہ محدثین نے روایاتِ تحریف کو ائمہِ معصومین سے روایت کیا ہے۔ 

3: یہ زائد از دو ہزار روایتیں بقولِ محدثینِ شیعہ، متواتر اور مستفیض ہیں جیسا کہ اہلِ سنت کے نزدیک قرآنِ مجید کا صحیح، کامل و مکمل اور غیر محرف ہونا متواتر ہے۔ 

4: یہ زائد دو ہزار روایتیں علماءِ شیعہ کی تصریح کے مطابق، تحریفِ قرآن پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں۔ 

5: موجودہ قرآن کے کامل و مکمل اور غیر محرف ہونے کی کوئی ایک روایت بھی کتبِ شیعہ میں کسی ایک امامِ معصوم سے نہیں ملتی گویا کہ موجودہ قرآنِ مجید شیعوں کے نزدیک خبرِ واحدِ صحیح معتبر کے برابر بھی نہیں۔ 

6: شیعہ میں مشائخ و مجتہدین کا ان روایاتِ زائد از دو ہزار کے مطابق قرآنِ مجید کے محرف اور ناقص ہونے پر بڑے شد و مد سے اعتقاد ہے۔ 

7: روایاتِ تحریفِ قرآن شیعہ کی بڑی بڑی معتبر کتابوں میں ہیں، جن کتابوں پر شیعہ مذہب کا دار و مدار ہے۔ 

8: شریف مرتضیٰ، شیخ صدوق، ابو جعفر طوسی، ابو علی طبرسی ان گنتی کے چار اشخاص کے سوا تمام شیعہ تحریفِ قرآن کے عقیدے میں متفق اور متحد ہیں۔ 

9: مگر ان چار اشخاص کا قول، حضراتِ ائمہِ معصومین کے بے شمار اقوالِ تحریف کے مقابلے میں کیسے قابلِ اعتبار ہو سکتا ہے؟ 

ب: ان چاروں کا انکارِ تحریف بھی ازراہ تقیہ ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی تائید میں کوئی روایت ائمہِ معصومین کی پیش نہیں کی۔ 

ج: زائد از دو ہزار روایاتِ تحریف کا کوئی جواب نہیں دیا۔ 

د: روایاتِ تحریف کو اگرچہ ضعیف تو کہہ دیا مگر وجہِ ضعف کی کچھ بھی بیان نہیں کی۔ 

ھ: موجودہ قرآنِ مجید کے کامل و مکمل ہونے کی دلیل ان چاروں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دین داری اور ان کی مساعیِ جمیلہ کو بنایا ہے مگر سوچنے کی بات ہے کہ جب شیعہ مذہب کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نعوذ باللہ فاسق و فاجر اور مرتد و منافق اور دشمنانِ دین اور دشمنانِ اہلِ بیتؓ تھے، تو ان کی دین داری اور حفظِ قرآن کی مساعیِ جمیلہ پر کیسے اعتبار ہو سکتا ہے؟ 

10: شیعہ علماء میں سے جو لوگ اپنا یہ عقیدہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم موجودہ قرآن کو غیر محرف اور کامل و مکمل مانتے ہیں، تو ان کا اہلِ سنت کی طرح یہ فرض تھا کہ وہ قائلینِ تحریف کو کافر کہتے اور سمجھتے مگر شیعہ علماء میں سے کوئی بھی قائلینِ تحریف کو کافر نہیں کہتا۔ 

جب شیعہ علماء اپنا ایمان موجودہ قرآن کے کامل و مکمل اور غیر محرف ہونے پر ثابت نہیں کر سکتے، تو اہلِ سنت سے کہتے ہیں کہ اگر ہماری کتابوں میں روایاتِ تحریف ہیں تو تمہاری کتابوں میں بھی روایاتِ تحریف موجود ہیں اور اس کے ثبوت میں کتبِ اہلِ سنت سے نسخِ تلاوت اور اختلافِ قرأت کی روایات کو خواہ مخواہ تحریف کی روایات قرار دے کر پیش کرتے ہیں مگر جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح ہم نے تمہاری روایاتِ تحریف ان اقراروں کے ساتھ پیش کی ہیں کہ یہ روایاتِ تحریف متواتر ہیں، اور تحریف پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں، اور ائمہِ معصومین کی روایات ہیں، اور تمہارے مشائخ و علماء کا ان روایات کے مطابق تحریفِ قرآن کا اعتقاد ہے، اسی طرح تم بھی کوئی روایت ہمارے علماء و مشائخ کی ان اقراروں کے ساتھ پیش کرو، یا ہمارے مشائخ میں سے کسی ایک متنفس کا عقیدہ پیش کرو کہ وہ تحریفِ قرآن کا معتقد ہو تو وہ مبہوت ہو جاتے ہیں اور زبان و قلم پر مہر لگ جاتی ہے اہلِ سنت میں سے آج تک کوئی ایک متنفس بھی تحریفِ قرآن کا قائل و معتقد نہیں ہوا تمام اہلِ سنت بالاتفاق معتقدِ تحریف کو کافر کہتے ہیں۔ 

فائدہ دوم:مسئلہ خلافت میں، چونکہ شیعہ عقیدے میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافتِ بلا فصل توحید و رسالت و قیامت کی طرح اصولِ دین میں سے ہے۔ جس کا منکر کافر و مرتد ہے لہٰذا ایسے اصولِ دین کے لیے صریح نصِ قرآن کا ہونا ضروری ہے بناءً علیہ، شیعہ علماء سے ہمیشہ یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ خلافتِ بلا فصل سیدنا علیؓ اور تمام بارہ ائمہ کی امامت کو توحید و رسالت و قیامت کی طرح قرآنِ مجید کی نصِ صریح سے واضح اور صاف الفاظ میں ثابت کرو جیسا کہ توحید و رسالت اور قیامت کے متعلق متعدد صریح اور واضح نصوص موجود ہیں مثلاً: 

لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِيۡمُ ۞(سورۃ البقرہ: آیت 136)

 شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الخ۔(سورۃ آل عمران: آیت 18)

 لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ الخ۔(سورۃ الصافات: آیت 35)

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 87)

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ الخ۔(سورۃ آلِ عمران: آیت 144)

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ الخ۔(سورۃ الاحزاب: آیت 40)

مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ الخ۔(سورۃ الفتح آیت 29)

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيۡبَ فِيۡهَا الخ۔

(سورۃ غافر: آیت 59)

لَاۤ اُقۡسِمُ بِيَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ۞(سورۃ القیامہ: آیت 1)

وغیرہ وغیرہ مگر قیامت تک شیعہ مذہب اس قسم کی کوئی نص پیش نہیں کر سکتے جب خلافتِ بلا فصل سیدنا علیؓ اور باقی ائمہ کی امامت کو نصِ صریح سے ثابت کرنے سے عاجز ہو جاتے ہیں تو اہلِ سنت و الجماعت سے کہتے ہیں کہ تم اصحابِ ثلاثہؓ کی خلافت منصوص من اللہ ثابت کرو حالانکہ اہلِ سنت کے نزدیک خلافت اصولِ دین سے نہیں بلکہ دینی مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے کہاں اور اصولِ دین توحید و رسالت و قیامت اور کہاں دینی مسائل اور فروعاتِ دین ان دونوں کے برابر سمجھنا انتہائی جہالت و حماقت ہے کیونکہ شیعہ خلافت اور امامت کے منصوص من اللہ اور اصول دین ہونے کے مدعی ہیں اور 12 اماموں کو جناب رسول اللہﷺ کے برابر مانتے ہیں اور باقی انبیاء علیہم السلام سے افضل سمجھتے ہیں تو جیسے جناب رسول اللہﷺ کی رسالت قرآن میں واضح اور منصوص بالاسم ہے، اسی طرح اماموں کی امامت بھی منصوص بالاسم قرآن مجید سے ثابت کریں کیونکہ ائمہ شیعوں کے نزدیک حضورِ اکرمﷺ کے مثل ہیں اور خلفاء کی خلافت کا اہلِ سنت کے نزدیک منصوص بالاسم ہونا ضروری نہیں، کیونکہ تمام خلفاء غلامانِ محمدﷺ ہیں، نہ کہ مثلِ محمدﷺ لیکن اب شیعوں کا بارہ ائمہ کی خلافت و امامت کا منصوص بالاسم قرآنِ مجید میں ہونا تو درکنار، صرف ایک سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل بھی قرآن سے ثابت نہیں کر سکتے تو کہتے ہیں کہ حضورِ اکرمﷺ نے غدیرِ خم (جنگل کے تالاب) پر مَن كُنتُ مَولاهُ فھذا عَلِی مَولاهُ کا اعلان فرمایا تھا جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اگر حضرت علیؓ کی خلافتِ بلا فصل دین کا اتنا بڑا اصول ہے تو اس کا اعلان نہ قرآن میں نہ حدیثِ متواترہ میں، نہ مکہ میں، نہ مدینہ میں، نہ بیت اللہ میں، نہ مسجدِ نبوی میں، اور نہ عرفات و منیٰ میں جہاں ہزاروں کا مجمع تھا بلکہ ایسا ضروری اعلان ایک جنگل کے تالاب پر اور وہ بھی گول مول الفاظ میں، جن معنیٰ خلافتِ بلا فصل قطعاً نہیں ہو سکتے تو اس کے جواب میں سرا سیمہ ہو کر رقص کرنے لگتے ہیں۔ 

وَمَا تَوْفِيقِی إِلَّا بِاللهِ