10۔ سیدنا عباس اور علی رضی اللہ عنہما کا جھگڑا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ:
مالک بن اوس کا بیان ہے کہ میں ٹھیک دوپہر کے وقت اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھا تھا، اس وقت حضرت عمرؓ کا فرستادہ آیا اور کہا کہ آپ کو امیر المؤمنین نے بلایا ہے، میں اس کے ساتھ چل کر سیدنا عمرؓ کے پاس آیا، دیکھا تو حضرت عمرؓ چارپائی کے سرہانے بیٹھے ہوئے تھے اس پر کوئی بستر وغیرہ نہ تھا، چمڑے کے تکیہ پر ٹیک لگائے تھے، میں سلام کر کے آپؓ کے پاس بیٹھ گیا، حضرت عمرؓ نے کہا: اے مالک! میرے پاس تمھارے گھرانے کے لوگ آئے ہیں، میں نے انھیں کچھ مال دینے کے لیے کہا ہے، لہٰذا تم مال لے کر ان میں تقسیم کر دو، میں نے کہا: اے امیرالمؤمنین اگر میری جگہ دوسرے کو اس کام کے لیے مکلف کر دیں تو بہتر ہو گا، سیدنا عمرؓ نے کہا: اے اللہ کے بندے اسے لو، اور تقسیم کرو۔ اتنے میں آپ کا دربان ’’یرفا‘‘ آ پہنچا اور کہا کہ عثمان، عبدالرحمٰن بن عوف، زبیر اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم آپ سے ملنا چاہتے ہیں، کیا انھیں اجازت دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا، ہاں آنے دو، سب اندر آئے، سلام کیا اور بیٹھ گئے، یرفاء بھی تھوڑی دیر بیٹھا، پھرکہنے لگا کہ! علی اور عباس بھی ملنا چاہتے ہیں، کیا انھیں بھی اجازت ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں! آنے دو، وہ دونوں اندر آئے، سلام کیا اور بیٹھ گئے، عباس نے کہا: اے امیرالمومنین! میرے اور ان (علی) کے درمیان فیصلہ کردیجیے، دراصل ان دونوں کا جھگڑا اس مال فے کے لیے تھا جو رسول اللہﷺ کو بنو نضیر سے ملا تھا، چنانچہ سیدنا عثمان غنیؓ کے ساتھ جولو گ آئے تھے انھوں نے کہا: اے امیرالمؤمنین! ان دونوں کا فیصلہ کر کے معاملہ ختم کر دیجیے، سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: آپ لوگ اطمینان رکھیں، میں تم سے اللہ واحد کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، کیا تمھیں اللہ کے رسولﷺ کا یہ فرمان یاد ہے:
لَانُوْرَثُ مَاتَرَکْنَاہُ صَدَقَۃٌ۔
’’ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہے
‘‘آپﷺ خود کو مراد لے رہے تھے؟ حضرت عثمان غنیؓ کی پوری جماعت نے اقرا ر کیا کہ ہاں یقیناً آپﷺ نے یہ بات فرمائی ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ فرمایا: اب میں تمھیں اس سلسلہ میں فیصلہ سناتا ہوں، اللہ نے اس مالِ فے کا کچھ حصہ اپنے رسولﷺ کے لیے خاص کر دیا ہے، اس میں آپ کے علاوہ کسی کا حق نہیں بتایا۔ ارشاد فرمایا:
وَمَاۤ اَفَآءَاللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡهُمۡ فَمَاۤ اَوۡجَفۡتُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ خَيۡلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰڪِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ۞(سورۃ الحشر آیت 6)
ترجمہ: اور اللہ نے اپنے رسول کو ان کا جو مال بھی فیئ کے طور پر دلوایا۔ اس کے لیے تم نے نہ اپنے گھوڑے دوڑائے، نہ اونٹ، لیکن اللہ اپنے پیغمبروں کو جس پر چاہتا ہے، تسلط عطا فرما دیتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
پس یہ مال خاص رسولﷺ کا حق تھا، واللہ آپﷺ نے یہ مال تمھارے علاوہ دوسروں کو نہیں دیا، نہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی، تمھیں کو دیا، اور تمھیں میں عام کیا، یہاں تک کہ اس میں سے اتنا مال بچ گیا۔ اور اس باقی ماندہ مال سے اللہ کے رسول اپنے گھرانے کا سالانہ خرچ لیتے تھے، اور اس سے جو زائد ہوتا تھا، اللہ کے راستہ میں وقف کر دیتے تھے۔ اللہ کے رسولﷺ نے پوری زندگی اسی پر عمل کیا۔ میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ لوگوں سے پھر پوچھتا ہوں، کیا آپ لوگوں کو یہ سب کچھ معلوم نہیں؟ انھوں نے کہا: ہاں معلوم ہے، پھر علی اور عباس رضی اللہ عنہما سے مخاطب ہو کر آپ نے یہی بات کہی کہ تم دونوں سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا یہ سب تم جانتے ہو؟ ان دونوں نے کہا: ہاں ہم جانتے ہیں، حضرت عمرؓ نے پھر فرمایا کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (ﷺ) کو موت دے دی۔ پھر ابوبکر خلیفہ ہوئے تو انھوں نے کہا: میں رسول اللہﷺ کا خلیفہ ہوں، واللہ ابوبکر نے اسے اپنے قبضہ میں رکھا اور اس میں جو کچھ رسول اللہﷺ کرتے تھے، انھوں نے بھی وہی کیا، اللہ خوب جانتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اپنے عمل میں سچے، نیک، اور ہدایت یاب اور حق کے تابع تھے، پھر اللہ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بھی موت دے دی، اور میں ابوبکرؓ کا خلیفہ ہوا، اپنی خلافت کے ابتدائی دو سال تک میں نے اسے اپنے قبضہ میں رکھا اور اس میں وہی کرتا رہا جو رسولﷺ اور ابوبکر صدیقؓ نے کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں سچا ہوں، ہدایت پر ہوں اور حق کے تابع ہوں پھر تم دونوں میرے پاس اپنی بات لے کر آئے اور دونوں کا ایک ہی معاملہ اور ایک ہی مطالبہ تھا۔ اے عباس! تم مجھ سے اپنے بھتیجے کا حق مانگنے آئے اور یہ یعنی علی اپنے خسر کے مال سے بیوی کا حصہ لینے آئے اور میں نے تم دونوں کو بتا دیا کہ رسولﷺ نے فرمایا ہے:
لَانُوْرَثُ مَاتَرَکَنَاہُ صَدَقَۃٌ۔
’’ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں صدقہ ہے۔‘‘
پھر میں نے یہ مناسب سمجھا کہ اسے تمھارے حوالہ کردوں تو میں نے تم سے کہا: اگر تم دونوں کہو تو اسے تمھیں دے دوں بشرطیکہ تم اللہ سے یہ عہد و پیمان کرو کہ اس میں ویسا ہی تصرف کرو گے جس طرح رسول اکرمﷺ، ابوبکرؓ نے اور پھر میں نے اپنے دورِ خلافت میں کیا ہے، تم نے کہا کہ وہ مال ہمیں دے دو، میں نے وہ مال تمھیں اس شرط پر دے دیا، میں آپ لوگوں سے حَلفیہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا میں نے وہ مال ان دونوں کو دے دیا یا نہیں؟ سب لوگوں نے کہا: ہاں، پھر آپ علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور حلفیہ اقرار کروایا کہ بتاؤ وہ مال میں نے تم دونوں کو دے دیا یا نہیں؟ ان دونوں نے کہا، ہاں۔ حضرت عمر فاروقؓ نے پوچھا: تو کیا پھر مجھ سے اس کے علاوہ فیصلہ کروانا چاہتے ہو، اگر تم سے اس مال کا بندوبست نہیں ہو سکتا تو مجھ کو پھر دے دو، میں تم دونوں کی طرف سے اس کے لیے کافی ہوں۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر (3094)
صحیح مسلم: حدیث نمبر (1757)۔