شاہ فارس (ایران) یزدگرد کا قتل 31 ہجری
علی محمد الصلابییزدگرد کا قتل کیسے ہوا اس سلسلہ میں روایات کے اندر اختلاف ہے۔ ابنِ اسحاقؒ کا بیان ہے: یزدگرد اپنی چھوٹی سی جماعت کے ساتھ کرمان سے مرو کی طرف بھاگا، اور وہاں کے لوگوں سے مال طلب کیا، انہوں نے اسے مال نہ دیا بلکہ اسے اپنے لیے خطرہ محسوس کیا، اور ترکوں کو اس کے خلاف ورغلایا۔ انہوں نے آ کر اس کے ساتھیوں کو قتل کر دیا، اور یزدگرد فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے جا کر ایک چکی ساز کے گھر میں دریائے مرغاب کے ساحل پر پناہ لے لی، جب رات کو یہ سو گیا تو اس نے اسے قتل کر دیا۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 290)
اور طبری کی ایک روایت میں ہے: یزدگرد کرمان سے عربوں کے وہاں پہنچنے سے قبل نکل پڑا، اور طَبَّسَین اور قُہْمِستان کا راستہ لیا، اور چار ہزار افراد کے ساتھ مرو سے قریب پہنچا تاکہ اہلِ خراسان سے اپنی فوج جمع کرے اور پھر عربوں پر حملہ آور ہو، اور ان سے قتال کرے۔ وہاں اس سے دو جرنیل ملے جو مرو میں موجود تھے اور آپس میں ان دونوں کے مابین عداوت و حسد پایا جاتا تھا، ایک کا نام براز اور دوسرے کا سنجان تھا، ان دونوں نے یزدگرد کی اطاعت قبول کر لی اور وہ مرو میں اقامت پذیر ہو گیا۔ اس نے براز کی طرف خصوصی توجہ دی اور اس کو اپنے سے قریب کر لیا، یہ چیز سنجان کو اچھی نہ لگی، اور اس کے اندر حسد پیدا ہوا، اور ادھر براز بھی سنجان کے خلاف سازشیں کرنے لگا، اور یزدگرد کو اس کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ یزدگرد نے اس کے قتل کا عزم کر لیا، اور اپنے ان عزائم کا تذکرہ اپنی ایک بیوی سے کر دیا جس کا براز سے پہلے سے غلط تعلق تھا۔ اس نے عورتوں کے ذریعہ سے اس ارادہ کی اطلاع براز کو بھیج دی، اور اس طرح یہ راز فاش ہو گیا، اور اس کی اطلاع سنجان کو بھی پہنچ گئی۔ اس نے احتیاطی تدابیر اختیار کر لیں اور اپنے ہم نوا جمع کرنا شروع کر دیے۔ یہاں تک کہ براز کے ساتھ جو لوگ تھے اور یزدگرد کی جو فوج تھی اس کے ہم نواؤں کی تعداد ان کے برابر ہو گئی، پھر اس نے ان کو لے کر اس قصر کا رخ کیا جہاں یزدگرد اقامت پذیر تھا۔ براز کو اس کی اطلاع ملی لیکن اس کی فوج کی کثرت دیکھ کر پیچھے ہٹ گیا، اور یزدگرد انہیں دیکھ کر مرعوب اور خوف زدہ ہو گیا، اور خفیہ طور پر پیدل ہی بھاگ کھڑا ہوا تاکہ اپنی جان بچا سکے، تقریباً دو فرسخ چلا ہو گا کہ اس کی نگاہ ایک چکی ساز کے گھر پر پڑی وہ اس کے اندر داخل ہو گیا اور تھکا ہارا بیٹھ گیا، جب چکی ساز نے اس کو اچھی شکل و صورت اور ہیئت میں دیکھا تو اس کے لیے فرش بچھا کر اس پر بٹھایا اور کھانا پیش کیا۔ اس نے اس کے پاس ایک دن اور رات گزاری، چکی ساز نے عرض کیا: ہمارے لائق کوئی خدمت ہو تو حکم فرمائیں۔ یزدگرد نے اپنا پٹکا جو جواہرات سے جڑا ہوا تھا اس کو پیش کیا لیکن چکی ساز نے اسے لینے سے انکار کر دیا، اور عرض کیا کہ ہمارے لیے تو صرف چار درہم کافی ہیں۔ یزدگرد نے اس کو بتلایا کہ اس وقت اس کے پاس نقدی نہیں ہے۔ چکی ساز اس کی چاپلوسی اور تملق میں لگ گیا اور جب اس کو نیند آ گئی تو کلہاڑی سے اس کے سر پر وار کر کے اس کو قتل کر دیا، اور اس کا سر الگ کر دیا اور اس کے جسم پر جو لباس اور پٹکا تھا اس کو لے لیا، اور اس کی لاش کو اس دریا کے حوالہ کر دیا جس کے پانی سے اس کی چکی چل رہی تھی اور اس کا پیٹ پھاڑ کر اس کے اندر جھاؤ درخت کی جڑ بھر دی جو اسی دریا کے کنارے اُگا ہوا تھا تاکہ لاش اسی جگہ جہاں ڈالا ہے بیٹھ جائے، اور پھر کوئی اس کا سراغ نہ لگا سکے، اور خود وہ وہاں سے فرار ہو گیا۔
(خلافۃ عثمان، السلمی: صفحہ، 57)
اور ایک روایت میں ہے کہ ترک اس کی تلاش میں نکلے اور جب دیکھا کہ وہ قتل کیا جا چکا ہے تو انہوں نے اس شخص کو اور اس کے اہلِ خانہ کو قتل کر دیا، اور کسریٰ کا مال و متاع جو اس کے ساتھ تھا لے لیا اور کسریٰ کی لاش کو ایک تابوت میں رکھ کر اصطخر لے گئے۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 297)
طبری نے دو طویل روایات ذکر کی ہیں جن میں سے ایک دوسرے سے نسبتاً زیادہ طویل ہے جس کے اندر یزدگرد کی موت سے قبل ایسے مختلف اضطرابات اور انواع و اقسام کے مشاکل و مصائب کا تذکرہ کیا ہے جس سے وہ دوچار ہوا۔
(الاکتفاء، الکلاعی: جلد، 4 صفحہ، 417)
بعض روایات کے مطابق یزدگرد نے ان لوگوں سے کہا جنہوں نے اس کو قتل کرنا چاہا:
باز آ جاؤ میں نے اپنی کتابوں میں پڑھا ہے کہ جو شخص بادشاہ کو قتل کرنے کی جرأت کرتا ہے اللہ اسے دنیا میں آگ کی سزا دیتا ہے اور آگے جو کچھ ہو گا وہ تو ہو گا ہی، لہٰذا تم مجھے مت قتل کرو بلکہ زمیندار کے حوالہ کر دو یا عرب کی طرف مجھے جانے دو، وہ مجھ جیسے بادشاہوں سے حیا کھاتے ہیں۔
(الاکتفاء، الکلاعی: جلد، 4 صفحہ، 418 تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 302)
یزدگرد کی حکومت بیس سال رہی اس میں سے چار سال عیش و عشرت اور سکون کے گزرے اور باقی ایام اسلام اور اہلِ اسلام کے خوف سے ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف بھاگنے میں گزرے۔ یہ دنیا میں اہلِ فارس کا آخری بادشاہ تھا۔
(خلافۃ عثمان: دیکھیے۔ محمد السلمی: صفحہ، 57)
پاک ہے وہ ذات جو عظمت و سلطنت کا مالک ہے، جو حقیقی معنوں میں بادشاہ ہے اور ہمیشہ زندہ و جاوید رہنے والا ہے، جس پر موت طاری نہیں ہوتی، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کے سوا ہر شے ہلاک و فنا ہونے والی ہے، حکومت و سلطنت کا وہی مالک ہے، سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
(الاکتفاء، الکلاعی: جلد، 4 صفحہ، 419)
رسول اللہﷺ نے سچ فرمایا تھا:
اذا ھلک قیصر فلا قیصر بعدہ، واذا ھلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ، و الذی نفسی بیدہ لتنفقن کنوزھما فی سبیل اللّٰه
(مسلم الفتن: رقم، 2918، 2919)
ترجمہ: جب قیصر ہلاک ہو جائے تو پھر اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہو گا اور جب کسریٰ ہلاک ہو جائے تو پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہو گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔