Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اہل قبرص کی بدعہدی

  علی محمد الصلابی

32ھ میں قبرص پر رومیوں کا سخت دباؤ پڑا جس کے نتیجہ میں انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے رومی فوج کو کشتیاں فراہم کیں، اور اس طرح انہوں نے صلح کی شرط کی خلاف ورزی کی۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں کی خیانت کا پتہ چلا تو سیدنا معاویہؓ نے قبرص پر قبضہ کرنے کا عزم کر لیا۔ چنانچہ مسلمانوں نے جزیرئہ قبرص پر سخت حملہ کیا۔ ایک جانب سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اور دوسری جانب سے حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے جزیرہ پر چڑھائی کی اور بہت سوں کو قتل کیا، بہت سے قیدی بنائے گئے اور بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا۔

(جولۃ تاریخیۃ: صفحہ 359، 360) 

اسلامی فوج کے دباؤ کے تحت قبرص کا حاکم ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوا اور مسلمانوں سے صلح طلب کی۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پہلی صلح پر ان کو بحال کر دیا۔

([2] البلاذری: صفحہ 158)

سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ قبرص میں بغیر فوجی اڈہ قائم کیے ہوئے چھوڑنا مناسب نہیں ہے۔ فوجی اڈہ ہونے کی صورت میں وہاں کا داخلی امن بحال رہے گا۔ تمرد و بغاوت جنم نہ لے گی اور خارجی حملوں سے حفاظت رہے گی، چنانچہ آپ نے وہاں بارہ ہزار فوج روانہ کی، بعلبک کے لوگوں کو وہاں منتقل کیا، ایک شہر بسایا اور مسجد کی تعمیر کی۔ ان افواج کے لیے ماہانہ وظیفہ جاری کیا اور یہ برابر قائم رہا۔ قبرص میں سکون رہا، مسلمان رومی حملوں سے محفوظ ہو گئے۔ مسلمانوں نے دیکھا کہ قبرص کے لوگ عسکری قوت نہیں رکھتے ہیں اور انہیں اپنے مصالح کے لیے استعمال کرتے ہیں اس لیے ان کا حق ہے کہ مسلمان روم کے ظلم اور بیزنطینی تسلط سے ان کی حفاظت کریں۔

 اسماعیل بن عیاش فرماتے ہیں: قبرص کے لوگ ذلیل و مظلوم ہیں، رومی ان پر اور ان کی عورتوں پر غالب رہتے ہیں،لہٰذا ہم پر ان کا حق ہے کہ ہم ان کی حفاظت و حمایت کرتے ہوئے رومی ظلم سے ان کو بچائیں۔

(جولۃ تاریخیۃ: صفحہ 361)