جنگ ارتداد میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی…

جنگ ارتداد میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مکمل تائید و مدد

  علی محمد محمد الصلابی

سیدنا علیؓ زندگی بھر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سچے خیر خواہ اور مشیر تھے، ہر معاملہ میں اسی بات کو ترجیح دیتے جس میں اسلام اور مسلمانوں کی بہبودی اور بہتری مضمر ہو، اس کا انتہائی روشن، ناقابلِ انکار کھلا ثبوت روزِ روشن کی طرح عیاں ہیکہ مسلمانوں کا اتحاد اور خلافت کی بقا سے زیادہ کوئی شے ان کو عزیز نہ تھی، یہ واقعہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ مرتدین سے جنگ کرنے اور ان کے خلاف فوجی کارروائیوں کی بذات خود قیادت کرنے کے خواہاں تھے، اور اس سلسلہ میں ذوالقصہ جانے کے لیے پابہ رکاب تھے جو ایک انتہائی خطرناک اقدام تھا، جس سے نہ صرف ان کی ذات بلکہ پورے اسلامی وجود کو خطرہ لاحق تھا۔ 

(المرتضیٰ: الندوی: صفحہ 97)۔

سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ ذوالقصہ کے لیے تیار ہوئے، اور اپنی سواری (اونٹنی) پر بیٹھ گئے تو سیدنا علیؓ نے اس کی مہار پکڑ لی اور کہا: اے خلیفۂ رسولﷺ کدھر جانے کاارادہ ہے؟ میں آپؓ کے لیے وہی کہتا ہوں جو احد کے موقع پر رسولﷺ نے فرمایاتھا:

لَمْ سَیْفُکَ وَلَا تَفَجِّعْنَا بِنَفْسِکَ، وَارْجِعَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ، فَوَاللّٰہِ لَئِنْ فَجَّعْنَابِکَ لَا یَکُوْنَ لِلْاِسْلَامِ نَظَامُ أَبَدًا۔

’’اپنی تلوار نیام میں رکھو اور ہم سب کو اپنی دائمی جدائی کا صدمہ نہ دو اور مدینہ واپس لوٹ جاؤ، اللہ کی قسم! اگر آپؓ کو کچھ ہو گیا تو اسلام کا شیرازہ ہمیشہ کے لیے بکھر جائے گا۔‘‘

چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ واپس پلٹ گئے۔ 

(البدیۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 314، 315)۔

حضرت علیؓ کا اللہ کی پناہ اگر حضرت ابوبکر صدیقؓ اور ان کی خلافت کی طرف سے دل صاف نہ ہوتا تو ان کے لیے یہ سنہری موقع تھا جس سے بآسانی فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا، وہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو اپنی حالت پر چھوڑ دیتے، کیا تعجب تھا کہ ان کا رشتہ حیات ہی منقطع ہو جاتا اور آپ کے لیے فضا ہموار ہوجاتی، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر (خاکم بدہن)۔ اگر واقعی وہ دل سے سیدنا ابوبکرؓ کو ناپسند کرتے اور ان سے گلو خلاصی چاہتے تھے تو وہ کسی کو اشارہ کر دیتے کہ ان کا کسی ترکیب سے کام ہی تمام کردے جیسا کہ یہ سیاسی لوگوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

(المرتضیٰ: الندوی: صفحہ 97)۔

سیدنا علیؓ کی رائے تھی کہ مرتدین سے جنگ لڑی جائے، چنانچہ جب حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت علیؓ سے پوچھا کہ اے ابوالحسن! مرتدین کے بارے میں تمھاری کیا رائے ہے؟ تو سیدنا علیؓ کا بیان ہے کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول(ﷺ) ان سے جو کچھ وصول کرتے تھے اگر کچھ بھی آپؓ نے لینا چھوڑ دیا، تو آپؓ سنت کی خلاف ورزی کریں گے۔ انھوں نے کہا: اگر سیدنا علیؓ یہ کہہ رہے ہیں تو میں ان سے ضرور جنگ لڑوں گا اگرچہ وہ ایک عقال (بکری کا چھوٹا بچہ، یا رسی) ہی روکنا چاہیں۔ 

(المختصر من کتاب الموافقۃ بین أہل البیت و الصحابۃ: الزمخشری: صفحہ 48) الریاض النضرۃ: صفحہ 670)۔