مصنفِ نام و نسب نے اپنے مؤقف کی تائید میں مودودی کی تشیع آمیز کتاب خلافت و ملوکیت: صفحہ 143 کا حوالہ بھی پیش کیا ہے، جس میں مودودی نے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ پر ناروا اعتراضات کے بعد آخر میں کہا ہے:
(جتنے اعتراضات میں نے حضرت امیرِ معاویہؓ پر کیے ہیں، ناقل)
اس سے بڑھ کر صحابی کی ذات کو بحیثیتِ مجموعی مطعون نہ کیا جائے۔
مصنفِ نام و نسب مودودی کے اس آخری جملے پر یوں تبصرہ کرتے ہیں:
مولانا مرحوم کے اس تبصرے کا آخری جملہ بحیثیتِ مجموعی مطعون نہ کرے قابلِ توجہ ہے۔
جناب مودودی (متوفی 1974ء) کا شمار ماضیِ قریب کے معروف اور کثیرُ التصانیف اہلِ قلم میں ہوتا ہے توفیقِ ایزدی نے جہاں انہیں وسعتِ مطالعہ، انشا پردازی، تحلیلِ افکار اور تجزیہِ ابحاث جیسی اعلیٰ خوبیوں سے نوازا تھا، وہیں صحیح تعلیم و تربیت کے فقدان، زائغین و ملحدین کی صحبت و رفاقت اور قلم کو وسیلہ معاش بنانے کے جذبے نے ان میں ایسے نقائص بھی پیدا کر دیے جس نے ان کی خوبیوں کو اوجھل کر دیا ان کی طبیعت اور فکر دونوں انا ولا غیری پر استوار ہو گئی تھیں۔
مودودی کی مضمون نگاری اور انشائیت ہی کو ان کی تصانیف کا سب سے بڑا کمال سمجھا جاتا ہے اور اس حوالے سے ہم بھی ان کے قلم کی روانی اور شستہ بیانی کے مداح و معترف ہیں، لیکن کیا کیجیے کہ ان صفات کے باوجود ان کا قلم جس شدت وحدت کے ساتھ تہذیبِ جدید و مغربی فلسفۂ حیات کے رسیا کسی ملحد و زندیق کے خلاف حق کی ترجمانی میں چلتا ہے، بالکل اس کے برعکس ان کے قلم نے انبیائے کرام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلفِ صالحین پر اسی (شدت وحدت کے ساتھ) تنقید و جرح کا دروازہ کھول کر باطل کی خوب خوب ترجمانی فرمائی ہے ان کی آزاد فکر ان کا بے باک قلم مذکورہ شخصیات کی بارگاہ میں بھی پاسِ ادب ملحوظ نہیں رکھتا وہ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلفِ صالحین پر جسارت و توہین آمیز تنقید کو اپنا علمی فرض اور تحقیقی حق سمجھتے ہیں، اور اگر کوئی مظلوم ان اکابر کی صفائی میں کچھ عرض کرنے کی جرأت کرے تو مودودی اسے وکیلِ صفائی، اس کے دلائل کو خواہ مخواہ کی سخن سازیاں اور غیر معقول تاویلات قرار دے کر رد کر دیتے ہیں، اور ان دلائل پر کان دھرنے کو اپنے صحیح و غلط کے معیار کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف گردانتے ہیں وہ اکابرِ سلفِ صالحین کی اتباع و اقتداء کو ذہنی غلامی کا نام دے کر اس کا استہزاء اڑاتے ہیں تقلید ان کے نزدیک گناہ سے بھی شدید تر چیز ہے وہ بلا واسطہ اسلاف سے دین فہمی کے مدعی ہیں اصول و روایت مودودی کے نزدیک اس دورِ تجدید میں اگلے وقتوں کی بکواس ہے تصوف افیون کا چسکہ، چنیا بیگم اور صوفیت ایک مرض ہے۔
اگرچہ مودودی کی تصنیفات میں بعض مفید ابحاث بھی آ گئی ہیں لیکن ان کی حیثیت وَاِثۡمُهُمَآ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِهِمَا جیسی ہے ان کی تصانیف کا مجموعی ضرر جزوی فائدے سے کہیں زیادہ ہے۔ راقمُ السطور اپنے بیان کے اثبات میں مودودی کی کتب کے چند حوالہ جات نقل کرنے سے قبل مفتیِ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ (متوفی 1396ھ) کا ایک اقتباس نقل کرنا چاہتا ہے جو مودودی کے بارے میں انتہائی دیانتدارانہ اور معتدل مؤقف پر مبنی ہے:
احقر کے نزدیک مولانا مودودی کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ عقائد اور احکام میں ذاتی اجتہاد کی پیروی کرتے ہیں، خواہ ان کا اجتہاد جمہور علمائے سلف کے خلاف ہو، حالانکہ احقر کے نزدیک منصبِ اجتہاد کے شرائط ان میں موجود نہیں اس بنیادی غلطی کی بناء پر ان کے لٹریچر میں بہت سی باتیں غلط اور جمہور علمائے اہلِ سنت کے خلاف ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے اپنی تحریروں میں علمائے سلف، یہاں تک کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کا جو انداز اختیار کیا ہے وہ انتہائی غلط ہے خاص طور پر خلافت و ملوکیت میں بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جس طرح تنقید ہی نہیں بلکہ ملامت کا بھی ہدف بنایا گیا ہے اور اس پر مختلف حلقوں کی طرف سے توجہ دلانے کے باوجود اصرار کی جو روش اختیار کی گئی ہے وہ جمہور علمائے اہلِ سنت کے طرز کے بالکل خلاف ہے نیز ان کے عام لٹریچر کا مجموعی اثر بھی اس کے پڑھنے والوں پر بکثرت یہ محسوس ہوتا ہے کہ سلفِ صالحین پر مطلوب اعتماد نہیں رہتا، اور ہمارے نزدیک یہ اعتماد ہی دین کی حفاظت کا بڑا حصار ہے اس سے نکل جانے کے بعد پوری نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ بھی انسان نہایت غلط اور گمراہ کن راستوں پر پڑ سکتا ہے ہاں! یہ صحیح ہے کہ ان کو منکرینِ حدیث، قادیانیوں یا اباحیت پسند لوگوں کی صف میں کھڑا کرنا میرے لیے درست نہیں، جنہوں نے سود، شراب، قمار اور اسلام کے کھلے محرمات کو حلال کرنے کے لیے قرآن و سنت ہی میں تحریفات کی ہیں، بلکہ ایسے لوگوں کی تردید میں ان کی تحریں ایک خاص سطح کے نو تعلیم یافتہ حلقوں میں مؤثر اور مفید بھی ثابت ہوئی ہیں یہ بات میں ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں، لیکن اگر کوئی شخص میری اس بات کو بنیاد بنا کر یہ کہے کہ میں مودودی کے ان نظریات سے متفق ہوں جو انہوں نے جمہور علماء کے خلاف اختیار کیے ہیں تو یہ بالکل غلط اور خلافِ واقعہ بات ہے۔
اگرچہ جماعت کے قانون میں مولانا مودودی اور جماعتِ اسلامی الگ الگ حیثیت رکھتے ہیں اور اصولاً جو بات مودودی کے بارے میں درست ہو ضروری نہیں کہ وہ جماعتِ اسلامی کے بارے میں بھی درست ہو، لیکن عملی طور پر جماعتِ اسلامی نے مولانا مودودی کے لٹریچر کو نہ صرف جماعت کا علمی سرمایہ اور عمل کا محور بنایا ہوا ہے بلکہ اس کی طرف سے زبانی اور تحریری مدافعت کا عام طرزِ عمل ہر جگہ مشاہدے میں آتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ جماعت کے افراد بھی ان نظریات اور تحریروں سے متفق ہیں، البتہ کچھ مستثنیٰ حضرات ایسے ہوں جو مذکورہ بالا امور میں مولانا مودودی سے اختلاف رکھتے ہوں اور جمہور علمائے اہلِ سنت کے مسلک کو اس کے مقابلے میں درست سمجھتے ہوں تو ان پر اس رائے کا اطلاق نہیں ہو گا۔
نماز کے بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ امام اس شخص کو بنانا چاہیے جو جمہور اہلِ سنت کے مسلک کا پابند ہو لہٰذا جو لوگ مودودی سے مذکورہ بالا اُمور میں متفق ہوں، انہیں باختیارِ خود امام بنانا درست نہیں، البتہ اگر کوئی نماز ان کے پیچھے پڑھ لی گئی تو نماز ہو گئی۔
(جواہر الفقہ: جلد 2 صفحہ 171، 172 تحت فتویٰ متعلقہ جماعت اسلامی)