چونکہ حضراتِ صوفیاء کرام رحمہم اللہ پر حسنِ ظن کا بہت غلبہ ہوتا ہے، اسی لیے بہت سی باتیں صوفیاء حضرات کے نزدیک تحقیق و تنقید سے خارج ہو گئیں، اگرچہ ان حضرات کا زہد و تقشف ہر ایک کے نزدیک مسلم ہے پروفیسر یوسف سلیم چشتی مرحوم لکھتے ہیں:
ان صوفیوں کی کمزوری یہ تھی کہ یہ لوگ نہ محدث تھے، نہ مؤرخ اس پر مستزاد یہ امر ہوا کہ ان لوگوں کے نزدیک تحقیق و تدقیق و تنقید یہ سب باتیں سوءِ ادب میں داخل ہو گئی تھیں جنید کا تصوف یہ تھا کہ ہم ہر بات کو قرآن و سنت کی کسوٹی پر آزما کر دیکھیں گے، اگر کوئی بات کتاب و سنت کے خلاف ہو گی فَهُوَ مَرْدُودٌ خواہ وہ کسی کی زبان سے نکلی ہو لیکن نویں صدی ہجری میں باطنیہ کی مساعیِ قبیحہ سے سنی صوفیوں کی ذہنیت یہ ہو گئی تھی کہ وہ قول کے حسن و قبیح کے بجائے قائل کو دیکھنے لگے تھے مثلاً ایک روایت خواہ کتنی ہی خلافِ عقل و نقل کیوں نہ ہو، اگر وہ کسی بزرگ سے منسوب ہے تو محض اس سے نسبت کی وجہ سے قابلِ اعتماد قرار پا جائے گی، اور اس میں تحقیق یا اس پر تنقید کو سوءِ ادب سمجھا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ سنت کی کتابوں میں صدیوں سے غلط روایات نقل ہوتی چلی آ رہی ہیں اور آج کسی میں یہ اخلاقی ہمت نہیں ہے کہ انہیں غلط کہہ کر اپنی مرجعیت اور مقبولیت سے دستبردار ہو جائے۔
(اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش: صفحہ 84، 85، تحت: بعض دوسری مثالیں)
حضرت مولانا نجم الدین اصلاحی رحمۃ اللہ، خلیفہ شیخ العرب و العجم امامِ راشد حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس اللہ روحہ، مکتوباتِ شیخ الاسلام کے حاشیے پر لکھتے ہیں:
صوفیاء کی کتابوں میں رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ کو صحیح حدیث کہا گیا ہے لیکن عسقلانی کا قول ہے کہ امام نسائیؒ نے اسے ابراہیم بن عیلہ کا کلام بتایا ہے الفاظ کی رکاکت زبردست قرینہ ہے کہ یہ آنحضرتﷺ کا قول نہیں ہو سکتا، اور نہ حدیث کی کتابوں میں شاہ عبدالعزیز جیسے متبحر محدث نے دیکھا ہے پس احادیث اور غیر احادیث کا فیصلہ محدثین کے اصول و قواعد کی رو سے کیا جائے گا، کیونکہ ہر فن میں صاحبِ فن کی رائے اگر تسلیم نہ کی جائے تو امان اٹھ جائے گا اور شریعت کا بھرم جاتا رہے گا۔ بے چارے صوفیاء، جن پر حسنِ ظن کا غلبہ ہوتا ہے، بھلا ان حضرات کو تنقید و تفتیش کی کہاں فرصت، اور انہیں نہ اس کی عادت ہے پس جو سن لیا یا دیکھ لیا، اسے باور کر لیا ان کے اس حسنِ ظن سے کسی قول کا حدیثِ رسولﷺ ہونا ثابت نہیں ہو جائے گا۔
(مکتوباتِ شیخ الاسلام: جلد1 صفحہ 324 حاشیہ مکتوب: 105)
امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانیؒ فرماتے ہیں کہ:
باید دانست کہ در ہر مسئلہ از مسائل علماء و صوفیہ در آن اختلاف دراند چون نیک ملاحظہ می نماید حق بجانب علمامی باید سرش آنست کہ نظر علماء بواسطہ متابعت انبیا علیہم السلام بکمالات نبوت و علوم آن نفوذ کرده است و نظر صوفیہ مقصور بر کمالات ولایت و معارف انست پس نا چار علمیکہ از مشکوٰة نبوت اخذ نموده شود اصوب و احق خواہد بود از آنچہ از مرتبہ ولایت ما خود شد۔
(مکتوباتِ امامِ ربانی: دفتر اول، مکتوب نمبر 366)
ترجمہ: جاننا چاہیے کہ ان مسائل میں سے ہر ایک مسئلہ جس میں علماء اور صوفیاء کے درمیان اختلاف ہے، اگر تم غور سے دیکھو گے تو حق علماء کی جانب نظر آئے گا اس کا راز یہ ہے کہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کی پیروی کے باعث علماء کی نظر کمالاتِ نبوت اور ان کے علوم تک نفوذ کر جاتی ہے، اور صوفیاء کی نظر کمالاتِ ولایت اور ان کے علوم و معارف پر مقصور رہتی ہے پس لا محالہ جو علم مشکوٰۃِ نبوت سے ماخوذ ہوتا ہو گا، وہ کئی درجے بہتر اور حق ہو گا بمقابلہ اس کے جو مرتبہ ولایت سے ماخوذ ہو گا۔