پہلا طعن
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہپہلا طعن روافض کا جناب صدیقِ اکبرؓ کی نسبت یہ ہے کہ اپ نے جیشِ اسامہؓ سے تخلف کیا حالانکہ حضورِ اکرمﷺ نے اس لشکر کو خود تیار کر کے اسامہؓ کے ماتحتی میں روانہ کیا اور سب کو نام بنام متعین کر دیا اور بڑی تاکید و مبالغہ سے فرمایا کہ: جھزوا جیش اسامةؓ لعن (لعن الله الخ اہلِ سنت کی کسی کتاب میں مذکور نہیں ہے یہ روافض کا الحاق ہے صرف محمد بن عبدالکریم شہر ستانی نے اپنی کتاب ملل و نحل میں یہ جملہ لکھا ہے شہر ستانی حسد تحریر کتب جرح و تعدیل سے کہا نہیں بلکہ وہ شیعہ کی طرف مائل تھا ایسے شخص کی تحریر کوئی وقعت نہیں رکھتی 12 مصنف رحمۃاللہ 12) الله من تخاف عنھا۔
ترجمہ: اسامہ کے لشکر کو تیار کرو جو شخص اس سے تخلف کرے گا مورد لعنت ہوگا۔
جواب: اس طعن کا جواب یہ ہے کہ حضورﷺ نے تجہیز جیشِ اسامہؓ کا حکم فرمایا اس کی تعمیل صدیقِ اکبرؓ نے بوجہ احسن کی تفصیل اس اجمال کی یہ ہے: 26، صفر کو پیر کے دن حضرت محمدﷺ نے حکم دیا کہ رومیوں کی سرکوبی کے لیے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے انتقام کی مہم روانہ کی جائے آپ نے منگل کے روز اسامہ بن زیدؓ کو اس لشکر کا امیر نامزد فرمایا بدھ کو آپ بیمار ہوگئے اس سے دوسرے روز (خمیس) کو باوجود بیماری کے آپ نے بدست خود نشان (علم) کی درستی فرمائی اور اسامہؓ کو فرمایا: اُعْزُ بِسْمِ بِاللَّه فَیْ سَبِیلِ اللَّهِ وَقَاتِلُ مَنْ کَفَرَ بِاللَّهِ۔
ترجمہ: خدا کا نام لے کر خدا کی راہ میں جہاد کرو اور کافر باللہ سے جہاد شروع کر دو۔
اسامہؓ حسبِ ارشادِ نبوی عَلم ہاتھ میں لے کر باہر نکلے اور نشانِ بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ اسلمی کے حوالے کر دیا اور مقامِ جرف میں پڑاؤ کیا جو مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے تاکہ تمام لشکر وہاں جمع ہو جائے اصحابِ کبارِ مہاجرین و انصار صدیق رضی اللہ عنہ فاروق رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ دیگر اصحاب نے بھی ادہر تیاری کر کے اپنے خیمہ مقامِ مذکور میں بھیج دیئے اتنے میں حضورﷺ کی بیماری میں تیزی ہو گئی اور عشاقِ رسولﷺ بے قرار ہوگئے حضورﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو اپنی جگہ امامت پر مامور فرمایا کتبِ طرفین میں اس کا ذکر موجود ہے۔
(کتبِ اہلِ سنت و الجماعت میں تو اس کی تفصیل موجود ہے کے حضورِ اکرمﷺ کی بیماری کے ایام میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نماز پڑھاتے رہے لیکن شیعہ حضرات اس خیال سے کہ اس سے حضرت ابوبکرصدیقؓ کی فضیلت اور استحقاق خلافت ثابت ہوتا ہے صاف الفاظ میں اس بات کا اقرار نہیں کر سکتے لیکن چونکہ اصلیت چھپی نہیں رہتی اس لیے بعض منصف مزاج مصنفین کو اس کا اعتراف کرنا پڑا ہے چنانچہ ذاکر حسین شیعی امامی اثنا عشری لکھتا ہے ایام مرض میں جب وقت نماز آتا بلالؓ آنحضرتﷺ کو اطلاع دے دیتے اور حضرت باہر آ کر نماز پڑھاتے مگر اکثر مورخین نے لکھا ہے کہ آخری سترہ نمازوں میں حاضر نہ ہو سکے اس موقعہ پر طبری نے لکھا ہے کے رسول نے فرمایا کے سیدنا علیؓ کو بلا بھیجو پس سیدنا علیؓ کو بلانے گئے سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے کہا اگر ابوبکر صدیقؓ کو بلاؤں تو کیا حرج ہے پس یہ سب آنحضرتﷺ کے پاس آ کر جمع ہوگئے پس فرمایا رسول اللہﷺ نے کے اب تم چلے جاؤ جب مجھے ضرورت ہوگی تو بلا لوں گا پس یہ لوگ چلے گئے اس کے بعد رسول اللہﷺ نے فرمایا نماز کا وقت آ گیا ہے جواب ملا البتہ فرمایا تو ابوبکر صدیقؓ کو حکم دے دو کے لوگوں کو نماز پڑھا دیں (تاریخِ اسلام حصہ 2 مؤلفہ ذاکر حسین: صفحہ، 518 مطبوعہ مقبول پریس دہلی 1331ھ) 10 ربیع الاول حضورﷺ کو مرض سے کس قدر افاقہ ہوا اور سب مسلمانوں نے جہاد کے لیے روانگی کا قصد کیا حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو حضورﷺ نے بغل گیر فرما کر دعا فرمائی اسامہؓ کوچ کے لیے تیار تھے کہ ام امین مادرِ اسامہؓ ان کے پاس پہنچ کر کہنے لگے کہ حضورﷺ کی حالت نازک ہوگئی ہے اسامہؓ اور دیگر لشکریان یہ خبر وحشت اثر سن کر ششد رہ گئے اور کمریں کھول دیں اور نشان درِ دولت نبیﷺ پر نصب کر دیا حضورﷺ کے وصال کے بعد جب تجہیز و تدفین سے فراغت ہوئی اور منصبِ خلافت پر صدیقِ اکبرؓ جاگزیں ہوئے تو اسامہؓ نے پھر مقامِ جرف میں جھنڈا گاڑ دیا اور فوج جمع ہونے لگی اسی اثناء میں مدینہ میں خبر پہنچی کہ بعض قبائل مرتد ہوگئے ہیں اور مدینہ منورہ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے عرض کی اس موقع پر لشکر اسامہؓ کی روانگی مہم دوم پر ملتوی کر دی جائے تاکہ مدینہ منورہ معرضِ خطر میں نہ رہے لیکن صدیقِ اکبرؓ نہ مانا اور کہا کہ جس لشکر کو آقائے نامدارﷺ تیار فرما چکے ہیں میں اس کو کبھی نہیں روک سکتا اور مہم کو ضرور روانہ کروں گا اگرچہ منافقین مدینہ مضافات میں مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں القصہ لشکر اسامہؓ کو آپ نے مکمل ساز و سامان سے لیس کر کے روانہ کیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اسامہؓ سے اجازت لے کر ہمراہ خود لیا تاکہ ان کی تدبیر کار سے فائدہ اٹھا کر بغاوت کو فرو کر سکیں اسامہؓ منزل مقصود پر پہنچے جدال و قتال کر کے حدودِ شام کو مفتوح کیا اور مدینہ میں بافتح و ظفر واپس آئے سو یہ اعتراض صدیقِ اکبرؓ پر کرنا آپ نے لشکرِ اسامہؓ کی تجہیز میں کوتاہی کی، درست نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ نے اس لشکرِ ظفر پیکر کو پورے ساز و سامان سے تیار کر کے روانہ کیا جَہَزُوْا کی تکمیل کا حق ادا کیا اور اگر روافض کا یہ اعتراض ہے کہ آپ نے لشکرِ اسامہؓ سے تخلف کیا خود ساتھ نہیں گئے تو ایسا اعتراض اور روافض کا ان کی جہالت اور لاعلمی کی دلیل ہے جب خلیفہ یا بادشاہ کسی مہم کو کسی افسر کے ماتحت کر کے کسی جگہ روانہ کرتا ہے تو حقیقت میں قائد فوج وہی سمجھا جاتا ہے لڑتی فوج ہے اور نام بادشاہ کا ہوتا ہے کیونکہ فوج بدوں سماں خوراک و اسلحہ وغیرہ لڑ نہیں سکتی اور یہ سب کچھ بادشاہ کے ذمہ ہوتا ہے غرض سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے باوجود خطرناک حالت کے لشکرِ اسامہؓ کو بھیج کر زید بن حارثہؓ کا خوب انتقام لیا اور اسامہؓ مہم سر کر کے پوری کامیابی سے مراجعت فرما ہوئے رسول اللہﷺ کے منشاء و حکم کو پورا کر دیا گیا علاقہ ازیں یہ الزام حضرت علی رضی اللہ عنہ پر وارد ہو سکتا ہے کہ آپ بھی لشکرِ اسامہؓ کے ساتھ جانے پر مامور تھے کیوں نہ گئے اگر ایسی نازک حالت میں کہ حضورﷺ نزع کی حالت میں ہوں عاشقانِ ذات والا آپ کو چھوڑ کر لڑائی پر چلے جاتے تو مخالفین نابکار کا ہمیشہ کے لیے یہ اعتراض ہوتا کہ ملک گیری کی ہوس میں آقائے نامدارﷺ کو مرض الموت میں تنہا چھوڑ کر یارانِ خاص باہر سفر میں چل دیا اور جب دوسرا پہلو اختیار کیا گیا تو اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ تعمیل حکم نہیں ہوئی۔
چشم بدندایش کہ بر کندہ باز
عیب نماید ہنرش در نظر
یہ بھی واضح رہے کہ جب حضورﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو خدمتِ امامت پر مامور کر دیا تھا تو تعمیلِ حکم اسی صورت میں تھی کہ اس ڈیوٹی میں کوتاہی نہ ہو پھر جب بات وفات رسول اللہﷺ بارِ خلافت آپ کے سر پر ڈالا گیا تھا تو پھر تعمیل ارشاد اس طرح ہو سکتی تھی کہ خود امور خلافت کو سرانجام کریں از مودہ کو بما تختی اسامہ رضی اللہ عنہ پوری تیاری سے روانہ کر کے اس مہم کو سر کریں چنانچہ یہ دونوں کام خدا کے فضل سے پورے ہوئے اور فتح و ظفر کا سہرا صدیقِ اکبرؓ کے سربندھا حاسد نہ بکار کڑھا کریں:
بمیر تا برہی اے حسود کیں رنجیست
کہ از مشقتِ اوجز بمرگ نتواں رُست