حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہیوں تو حضرات شیعہ کی زبان طعن سے انسان تو کیا خدا اور رسولِ اکرمﷺ بھی نہیں بچے لیکن اصحابِ ثلاثہؓ ان اقدام کے بعد زیادہ غیظ و غضب شیعہ اصحاب کو ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ سے ہے اور آپ کے خلاف چند الزامات لگائے گئے ہیں جن کا جواب دینا فرض ہے۔
پہلا طعن قرآن مجید میں ہے:
وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى الخ۔
(سورۃ الاحزاب: آیت 33)
ترجمہ: اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور زمانہ جاہلیت کی طرح باہر نہ نکلا کرو۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ نے اس حکم کی مخالفت کی کہ معرکہ کارزار میں نکل کر شریکِ جنگ ہوئیں جہاں کہ ہزار ہا کی تعداد میں نا محرم اشخاص موجود تھے۔
جواب: نادان معترض جس کو تدبر فی القرآن نصیب نہیں آیاتِ قرآن کے معنیٰ کرتے وقت ہمیشہ ٹھوکر کھاتا ہے کیا اس کا یہ معنیٰ ہے کہ گھر کی چار دیواری میں عمر بھر ایسی محبوس و مقید رہے کہ گھر سے باہر نکلنا کسی دینی ضرورت کے لیے بھی جائز نہ ہو ہرگز نہیں آنحضرتﷺ ازواجِ مطہراتؓ کو حج و عمرہ کے لیے ساتھ لے جایا کرتے تھے میکے جانے، عیادت مریض، تعزیت قریبی میت کی ممانعت نہ تھی غزوات میں بھی ساتھ لے جانے کی اجازت تھی پھر آیت سے مخالف کا استدلال صحیح نہیں ہے۔ آیت کا معنیٰ یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جیسے عورتیں بے حجاب ہو کر زیورات زرق برق لباس پہنے بازاروں میں پھرتی تھیں اب اس طرح بے پردہ پھرنا جائز نہیں ہے جیسا کہ اس آیت سے اس کی تشریح ہوتی ہے۔
يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ يُدۡنِيۡنَ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ جَلَابِيۡبِهِنَّ ذٰلِكَ اَدۡنٰٓى اَنۡ يُّعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا
(سورۃ الاحزاب: آیت 59)
ترجمہ: اے نبی! اپنی عورتوں (بیٹیوں اور مؤمنوں کی عورتوں) کو کہہ دیجیے کہ اپنے منہ پر چادر (نقاب) ڈال لیا کریں یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ پہچانی نہ جائیں اور ایذاء نہ اٹھائیں)
حدیث میں ہے کہ اس آیت کے بعد آنحضرتﷺ نے فرمایا:
اذن لكن ان تخرجن لحاجتكن۔
ترجمہ: اب تمہیں اجازت دی گئی ہے کہ اپنی حاجت کے لیے نکل سکو۔
سیدہ عائشہ صدیقہؓ چونکہ مظلوم خلیفہ عادل کے قصاص کے لیے سفر میں نکلنے پر مجبور ہوئی تھیں اس لیے یہ سفرِ جہاد، حج، عمرہ کے سفر کی طرح ایک دینی ضرورت تھی جس پر طعن نہیں ہوسکتا پھر آپ کے ساتھ آپ کے اقارب میں سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہی آپ کے ہمیشرہ زاد اسماء بنتِ ابوبکرؓ اور اُن کی اولاد سب محرم تھے علاوہ ازیں آپ ام المؤمنینؓ ہونے کی وجہ سے تمام مسلمانوں کی ماں اور سب ان کے فرزند تھے اس لیے آپ کے اس سفر پر معترض ہونا شیعہ کی سخت حماقت ہے ابنِ قتیبہ اپنی تاریخ میں جو شیعہ کے معتمد علیہ ہے رقمطراز ہے:
لما بلغها بيعة على امرت ان يعمل لها هودج من حديد جعل فيها موضع الدخول والخروج فخرجت وابناء طلحة الزبير معها۔
ترجمہ: جب سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو بیعتِ علی المرتضیٰؓ کی اطلاع ملی حکم دیا کہ آپ کے لیے ایک آہنی کجاوہ بنایا جائے اور اس میں داخل ہونے اور نکلنے کا راستہ بنایا جائے پس آپ نکلیں جب طلحہٰ و زبیر رضی اللہ عنہما کے فرزند آپ کے ہمراہ تھے۔
اب بتلائیے! ایک اہم دینی ضرورت کے لیے اپنے محرموں کے ساتھ سفر کرنے پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے جب کہ پردہ کا بھی اس قدر اہتمام کیا جائے۔
غالباً شیعہ صاحبان اہلِ سنت پر ایسے اعتراض کرتے وقت اپنے گھر سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔ شیعہ کی معتبر کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت فاطمہؓ گھر سے باہر نکل کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دست وگریباں ہوئیں۔
فاخذت بتلابيب عمر وجذبتها اليها۔
ترجمہ: سیدہ فاطمہؓ نے عمرؓ کا گریبان پکڑ لیا اور اپنی طرف کھینچا۔
کیا ایک پردہ نشین خاتون کو ایک نامحرم شخص سے یوں دست و گریباں ہونا جائز ہے؟
شیعہ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ سیدہ فاطمہؓ نے باغِ فدک کے لیے دربارِ خلافت میں اصالتاً جا کر دعویٰ کیا یہ بھی شیعہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ غصب خلافت و دیگر حقوق پر جناب امیرؓ خاتونِ جنت کو سوار کر کے مہاجرین و انصار کے گھر پھرے کیا یہ باتیں جائز تھیں؟
دوسرا طعن: حضرت عائشہ صدیقہؓ نے جناب امیرؓ سے بغاوت کی اور جنگ کی حالانکہ خلیفہ سے بغاوت جائز نہیں اور جرمِ کبیر ہے۔
جواب: اس قسم کا اعتراض جناب امیرؓ پر عائد ہوتا ہے کہ بحکمِ وَأَزْوَاجُهُ أمَّهَاتُهُمُ (رسول کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں) جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی ماں تھیں، آپ کو ان سے جنگ کرنا ہرگز جائز نہ تھا قرآن میں ہے:
فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ الخ۔
(سورۃ الاسراء: آیت 23)
ترجمہ: ماں باپ کو اُف تک بھی نہ کہو۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ و جدل طرفین کی کسی بدنیتی پر مبنی نہ تھا بلکہ ہر دو فریق کی اجتہادی غلطی تھی سیدہ عائشہ صدیقہؓ ہی اور ان کے طرف دار حضرت عثمانِ غنیؓ کا قصاص لینے کے لیے ان کے قاتلین کو جناب امیرؓ سے مانگتے تھے جناب امیرؓ ان کے شر و فساد کے اندیشہ سے ان کو حوالہ نہ کر سکے دوسری طرف سے سمجھا گیا کہ قتلِ سیدنا عثمانؓ ہی میں آپ کا بھی کچھ ہاتھ ہو گا حالانکہ سیدنا علیؓ اس الزام سے پاک تھے جس کا اظہار بار بار آپ بذریعہ خطوط و خطبات کرتے رہے اسی طرح جناب امیرؓ اور ان کے معاونین نے خیال کیا کہ دوسرا فریق خلیفہ سے باغی ہو کر جنگ کرنا چاہتا ہے طرفین میں معرکہ کی جنگ ہوئی بہت سے مسلمان شہید ہوئے آخر کار صلح و صفائی ہوئی حضرت عائشہ صدیقہؓ ہی اپنے کیے پر پشیمان ہوئیں جناب امیرؓ نے ان کو بڑی عزت و تکریم سے گھر پہنچایا اور دلی صفائی ہوگئی اب اس بات پر طعن کرنا خود بطورِ طعن بنتا ہے اعتراض ہر دو فریق پر یکساں عائد ہوتا ہے فما هو جوابكم فهو جوابنا۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ کا مؤمنوں کی ماں ہیں آپ کو ہی یہ فضیلت حاصل ہے کہ آپ کے حجرہ میں آپ کی گود میں حضورِ اکرمﷺ کا وصال ہوا آپ کی نسبت قرآنِ کریم میں آپ کی برأت کے متعلق آیات نازل ہوئی اور آپ کے قاذفین اور (طاعنین) کو عتاب ہوا پھر جو لوگ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی بدگوئی کرتے ہیں وہ خدا اور رسول اللہﷺ سے دشمنی رکھتے ہیں۔
اعاذنا الله منهم.امین
تیسرا طعن: حضرت عائشہ صدیقہؓ نے روضہ مطہرہ میں اپنے باپ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہی کو دفن کرنے کی اجازت دی حالانکہ اس مکان کی آپ اکیلی مالک نہ تھیں تمام ورثاء کا حق تھا۔
جواب: حضورﷺ نے اپنی زندگی میں ازواجِ مطہراتؓ کو الگ الگ مکان دے کر ان کو ان کا مالک کر دیا ہوا تھا چنانچہ یہ حجرہ جو مدفنِ رسول و خلفائے رسول ہے سیدہ عائشہ صدیقہؓ ہی کا حجرہ تھا جو ان کی ملکیت تھا اس لیے ان کو اختیار تھا کہ اپنے باپ اور حضرت عمرؓ کے مزارات کی وہاں اجازت دیں اگر سیدہ عائشہ صدیقہؓ ہی کی ملکیت نہ تھی تو سیدنا حسنؓ نے اپنے مزار کے لیے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کیسے کیوں اجازت طلب فرمائی (یہ روایت کتب شیعہ میں موجود ہے) قرآن سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ حجراتِ ازواجِ مطہراتؓ کی ملکیت تھے جہاں وہ بستی تھیں:
قرآن میں ہے:
وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ الخ۔
(سورۃ الاحزاب: آیت 33)
ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو۔
غرض یہ اعتراض نہ تو جناب امیرؓ اور نہ دیگر ائمہ اہلِ بیتؓ کو سوجھا اب شیعہ ایسے بیہودہ اعتراضات اُٹھانے لگے ہیں ہم تو یہی کہیں گے۔
کون سنتا ہے کہانی تیری او یار غلط
کیوں بغل میں لیے پھرتا ہے یہ طومار غلط
اب ہم حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہیں، جن کو شیعہ صاحبان سخت مطعون کرتے ہیں۔