Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حق امن رہائش گاہ کی حرمت اور ملکیت کی آزادی

  علی محمد الصلابی

حق امن:

متعدد قرآنی آیات اور احادیث نبوی میں حق امن سے متعلق اسلامی تعلیمات موجود ہیں۔

ارشادِ الہٰی ہے:

 فَلَا عُدۡوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ۞(سورۃ البقرة: آیت 193)

ترجمہ: ’’ظالموں کے سوا کسی پر کوئی زیادتی نہیں۔‘‘اور فرمایا:

 فَمَنِ اعۡتَدٰى عَلَيۡكُمۡ فَاعۡتَدُوۡا عَلَيۡهِ بِمِثۡلِ مَا اعۡتَدٰى عَلَيۡكُمۡ ۞(سورۃ البقرة: آیت 194)

ترجمہ: ’’پس جو تم پر زیادتی کرے سو تم اس پر زیادتی کرو، اس کی مثل جو اس نے تم پر زیادتی کی ہے ۔‘‘

اسلام نے حق امن کے ساتھ حق زندگی کا بھی تعارف پیش کیا ہے، البتہ اس کا دائرہ حق امن سے زیادہ وسیع ہے۔ اس لیے کہ حق امن کا مسئلہ حکومت کی طرف سے منفی پہلو کو شامل ہوتا ہے، منفی پہلو کو شامل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ظالم کو سرکشی کرنے اور دھمکیاں دینے سے روکا جاتا ہے جب کہ حق زندگی میں ہر ظلم و تعدی کے دفاع کے ساتھ ساتھ جسم و جان کی حفاظت کا مثبت پہلو بھی پایا جاتا ہے۔ حفاظت کی یہ ذمہ داری عمومی ہوتی ہے اور سب پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ کسی فرد واحد کا ناحق قتل تمام انسانوں کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ 

(الاموال: أبوعبید: صفحہ 245)

ارشادِ الہٰی ہے:

مِنۡ اَجۡلِ ذٰلِكَ ‌ كَتَبۡنَا عَلٰى بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اَنَّهٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِى الۡاَرۡضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيۡعًا ۞ (سورۃ المائدة آیت 32)

ترجمہ: ’’اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ جس نے ایک جان کو کسی جان کے (بدلے کے) بغیر، یا زمین میں فساد کے بغیر قتل کیا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا اور جس نے اسے زندہ کیا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندہ کیا۔‘‘

قرآنی دستور اور نبویﷺ تربیت کی وجہ سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے دورِ حکومت میں تمام افراد کو امن و سکون دینے اور ان کی زندگی کی حفاظت کرنے میں کامیاب رہے اور قیام امن و حفاظت زندگی کے حقوق کو استحکام بخشنے، انہیں ہر قسم کی دست درازیوں سے بچانے اور کھلواڑ بننے سے ان کی حفاظت کے لیے شبِ بیداری کرتے رہے۔ آپؓ کہا کرتے تھے:

’’میں نے تم پر اپنے گورنروں کو اس لیے نہیں متعین کیا کہ وہ تمہاری چمڑیاں ادھیڑیں، تمہیں بے عزت کریں اور تمہارے مال غصب کر لیں، بلکہ انہیں اس لیے گورنر بنا کر بھیجا ہے تاکہ تمہیں اللہ کی کتاب اور سنتِ نبویﷺ کی تعلیم دیں، لہٰذا اگر کسی پر اس کا گورنر کوئی ظلم کرے تو وہ مجھے بتائے تاکہ میں اس کا بدلہ دلا سکوں۔‘‘ 

(الخراج: أبویوسف: صفحہ 79 )

اور آپؓ کا قول ہے کہ

’’کسی آدمی کو اقرار جرم کے لیے میں تکلیف دوں، دھمکیاں دوں، یا قید کر دوں تو گویا وہ اپنی جان کے سلسلہ میں مامون نہیں ہے۔‘‘ 

(نظام الحکم فی عہد الراشدین: صفحہ 163) 

آپؓ کا یہ فرمان اس بات کی دلیل ہے کہ دباؤ اور دھمکیوں کے نتیجہ میں کسی مشتبہ مجرم سے جرم کا اقرار اور اعتراف کرانا شرعاً معتبر نہیں ہے، خواہ اس کے لیے مادی ذریعہ اختیار کیا گیا ہو مثلاً مشتبہ مجرم کی تنخواہ یا آمدنی کے ذرائع پر پابندی لگا دی جائے، یا معنوی ذریعہ اختیار کیا گیا ہو مثلاً اسے دھمکیاں دی گئی ہوں اور سزاؤں سے خوفزدہ کیا گیا ہو۔ آپؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو جب کہ وہ قاضی تھے، یہ خط لکھا تھا:

’’مدعی کا حق کالعدم سمجھو مگر یہ کہ وہ مستند دلیل دے، اگر اس نے اپنی دلیل پیش کر دی تو اپنا حق لے جائے ورنہ اس کے خلاف فیصلہ ہو، کیونکہ یہی عمل شک مٹانے کے لیے زیادہ بہتر ہے۔‘‘ 

(نظام الحکم فی عہد الراشدین: صفحہ 164 )

یہ فرمانِ فاروقیؓ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کے دور میں حق دفاع کا پورا احترام کیا جاتا تھا اور اس کی مکمل حفاظت کی جاتی تھی۔

رہائش گاہوں کی حرمت:

رہائش گاہوں کی حرمت کا جہاں تک تعلق ہے تو اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے گھر والوں کی اجازت کے بغیر یا مالوف طریقوں کے خلاف گھروں میں داخل ہونا حرام قرار دیا ہے۔ ارشادِ الہٰی ہے:

فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فِيۡهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدۡخُلُوۡهَا حَتّٰى يُؤۡذَنَ لَـكُمۡ‌ وَاِنۡ قِيۡلَ لَـكُمُ ارۡجِعُوۡا فَارۡجِعُوۡا‌ هُوَ اَزۡكٰى لَـكُمۡ‌ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ‏ ۞ فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فِيۡهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدۡخُلُوۡهَا حَتّٰى يُؤۡذَنَ لَـكُمۡ‌ وَاِنۡ قِيۡلَ لَـكُمُ ارۡجِعُوۡا فَارۡجِعُوۡا‌ هُوَ اَزۡكٰى لَـكُمۡ‌ ۞(سورۃ النور: آیت 27، 28)

ترجمہ: ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں داخل نہ ہو، یہاں تک کہ ان سے معلوم کر لو اور ان کے رہنے والوں کو سلام کہو یہ تمھارے لیے بہتر ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو پھر اگر تم ان میں کسی کو نہ پاؤ تو ان میں داخل نہ ہو، یہاں تک کہ تمھیں اجازت دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے واپس چلے جاؤ تو واپس ہو جاؤ، یہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔‘‘اور فرمایا:

وَاۡتُوا الۡبُيُوۡتَ مِنۡ اَبۡوَابِهَا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ۞(سورۃ البقرة: آیت 189)

ترجمہ: ’’گھروں میں ان کے دروازوں کے راستہ سے داخل ہو۔اور فرمایا:

 وَّلَا تَجَسَّسُوۡا ۞(سورۃ الحجرات: آیت 12)

ترجمہ: "اور بھید نہ ٹٹولا کرو۔‘‘

خلفائے راشدینؓ اور عہدِ فاروقیؓ میں رہائش گاہوں کی حرمت محفوظ تھی۔ 

(نظام الحکم فی عہد الراشدین: صفحہ 165)

انفرادی ملکیت کی آزادی:

خلفائے راشدینؓ کے دور میں اسلامی شریعت کے مقرر کردہ اصولوں کی مکمل پاس داری کی گئی۔ چنانچہ جب کچھ سیاسی اور جنگی اسباب کی بنا پر سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نجران کے نصاریٰ اور خیبر کے یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے شام اور عراق کی طرف جلا وطن کرنے کے لیے مجبور ہوئے تو تمام مسلمانوں کی طرح ذمیوں کو دیے گئے اسلامی حقوق اور انفرادی ملکیت کا اقرار و احترام کرتے ہوئے انہیں اسی طرح کی زمین دینے کا حکم دیا جس طرح کی زمین کے وہ یہاں مالک تھے۔ 

(القضاء ونظامہ فی الکتاب والسنۃ: دیکھئے عبدالرحمن الحمیض: صفحہ 48)

اور حرم مکی کی توسیع کے لیے جب آپؓ کو بعض مکانوں کی ملکیت ختم کرنے کی ضرورت پیش آئی تو اس کا پورا معاوضہ اسی بنیاد پر دیا کہ آپؓ کو انفرادی ملکیت کے ان حقوق کا مکمل اعتراف و اقرار تھا جن کا مطالبہ مالکان کے ساتھ انصاف کے بغیر اضطراری حالات میں بھی جائز نہیں ہے۔ 

(نظام الحکم فی عہد الراشدین: صفحہ 165)

خلفائے راشدینؓ کے عہد میں انفرادی ملکیت کی آزادی مطلق العنان نہ تھی بلکہ شرعی حدود کی رعایت اور مصلحت عامہ سے مربوط تھی۔ روایت کیا گیا ہے کہ بلال بن حارث مزنیؓ رسول اللہﷺ پاس ایک زمین کا مطالبہ لے کر آئے، آپﷺ نے ان کو ایک لمبی چوڑی زمین دے دی اور جب حضرت عمرؓ کی خلافت آئی تو آپؓ نے ان سے کہا: اے بلالؓ! تم نے رسول اللہﷺ سے ایک لمبی چوڑی زمین مانگی اور اسے رسول اللہﷺ نے تمہیں دے دیا، رسول اللہﷺ سے کوئی آدمی کچھ مانگتا تھا تو آپﷺ اسے ضرور دیتے تھے اور اب پوری زمین استعمال کرنے کی تم میں طاقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: جی ہاں! حضرت عمرؓ نے فرمایا: بہتر یہ ہے کہ جتنی زمین تم استعمال میں لاسکتے ہو اسے اپنی ملکیت میں رکھو اور جو تمہاری طاقت سے باہر ہے اسے ہمیں دے دو تاکہ ہم مسلمانوں میں تقسیم کر دیں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم جو کچھ مجھے رسول اللہﷺ نے دیا ہے اس میں سے کچھ نہ دوں گا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم کو ایسا کرنا پڑے گا اور پھر آپؓ نے بلالؓ کی وہ زمین جس کی آبادکاری سے وہ عاجز رہے قبضہ میں لے کر مسلمانوں میں تقسیم کر دی۔

اس واقعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انفرادی ملکیت کی آزادی مصلحتِ عامہ سے مربوط ہے۔ لہٰذا اگر مالک اس کو کام میں لا رہا ہے، اس کی نگہداشت کماحقہ کر رہا ہے تو کسی کو بھی اس کی ملکیت سلب کرنے کا حق نہیں ہے، ورنہ حاکم کو حق ہے کہ وہ اس کو بیکار پڑے رہنے سے بچانے کے لیے اس میں تصرف کرے تاکہ وہ مسلمانوں اور رعایا کے لیے کارآمد اور مفید ثابت ہو۔ 

(نظام الحکم فی عہد الراشدین: صفحہ 168)