سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کئی مرتبہ سیدنا علی رضی…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کئی مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ پر اپنا نائب مقرر کیا

  علی محمد محمد الصلابی

الف: جنگ قادسیہ سے پہلے چشمۂ ’’صرائ‘‘ جاتے ہوئے:

جنگ قادسیہ سے کچھ پہلے اہل فارس مسلمانوں کے صفایا کے لیے ’’صرائ‘‘ نامی چشمہ کے پاس جمع ہو چکے تھے، حضرت عمر فاروقؓ نے لوگوں کو جمع کیا اور مشورہ لیا، سب نے پیش قدمی کرنے کا مشورہ دیا، سیدنا عمر فاروقؓ نے اس موقع پر سیدنا علیؓ کو مدینہ میں نائب مقرر کیا اور خود اسلامی فوج کی قیادت کرتے ہوئے صراء چشمہ پر پہنچے۔ (المنتظم: جلد 4 صفحہ 192)۔

ب: جابیہ جاتے ہوئے:

جب عمرو بن عاصؓ اسلامی فوج لے کر اجنادین پہنچے، تو روم کے ارطبون نے آپ کے نام خط لکھا کہ واللہ! اجنادین کے بعد اب فلسطین کا کوئی علاقہ تم فتح نہیں کر سکتے، لوٹ جاؤ، دھوکہ میں نہ رہو فلسطین کے اصل فاتح کا نام تین حرفوں پر مشتمل ہے عمرو بن عاصؓ نے فوراً جان لیا کہ اس سے سیدنا عمرؓ مراد ہیں، چنانچہ حضرت عمرو بن عاصؓ نے حضرت عمرؓ کو خط کے ذریعہ سے اطلاع دی کہ فتح آپ کی منتظر ہے۔ حضرت عمرؓ نے اس کے لیے لوگوں کو اکٹھا کیا، اور مدینہ پر حضرت علیؓ کو اپنا نائب مقرر کیا۔ (المنتظم: جلد 4 صفحہ 192)۔

ج: ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو لے کر حج کو جاتے ہوئے:

یہ واقعہ 23ھ کا ہے، جس میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کا آخری حج کیا تھا، بحیثیت امیرالمؤمنین آپ لوگوں کے ساتھ تھے اور ازواج مطہراتؓ بھی اپنے محرم اولیاء کے ساتھ اس حج میں شریک تھیں۔ اس موقع پر حضرت عمرؓ نے مدینہ پر حضرت علیؓ کو اپنا نائب مقرر کیا تھا۔

(المنتظم: جلد 4 صفحہ 327، فتح الباری: جلد 4۔صفحہ 87)۔