علم اور تعلیم و تربیت کی قدرت و صلاحیت
علی محمد الصلابیسیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا شمار کتاب و سنت کے اکابر علماء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے اور عنقریب ہم آپؓ کے قضائی، مالی، جہادی، اور فقہی اجتہادات کا تذکرہ ان شاء اللہ کریں گے۔
آپ نبی کریمﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کے نقشِ قدم کے اتباع کے انتہائی حریص تھے، چنانچہ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبیداللہ بن عدی بن خیار نے انہیں خبر دی کہ سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث نے ان سے کہا: تم اپنے ماموں امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے سیدنا ولید بن عقبہؓ کے بارے میں کیوں نہیں گفتگو کرتے، ان کے کیے پر لوگ آپس میں کثرت سے چہ میگوئیاں کر رہے ہیں؟ سیدنا عبید اللہؓ کا بیان ہے کہ ایک روز جب امیر المؤمنین سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نماز کے لیے نکلے میں آپؓ کے سامنے آیا اور عرض کیا مجھے آپؓ سے کام ہے وہ یہ کہ میں آپؓ کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں۔
حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے شخص میں اللہ کی تم سے پناہ چاہتا ہوں۔ پھر میں (عبیداللہ) واپس آ گیا، جب نماز ہو گئی تو میں حضرت مسور اور حضرت ابنِ عبد یغوث کے پاس جا بیٹھا اور انہیں اس کی خبر دی ان دونوں نے مجھ سے کہا: تم نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی، ابھی میں ان دونوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ امیر المؤمنین کا فرستادہ آ پہنچا۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا: اللہ کی ابتلاء میں تم پڑ گئے، میں امیر المؤمنین کے پاس چل پڑا، جب آپؓ کے پاس پہنچا تو انہوں نے فرمایا: تم ابھی کیا نصیحت کرنا چاہتے تھے؟ حمد و صلوٰۃ کے بعد میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا اور ان پر کتاب نازل فرمائی، تو آپؓ ان لوگوں میں تھے جنھوں نے اللہ و رسول اللہﷺ کی دعوت پر لبیک کہا، اور آپﷺ کے طریقہ و نقشِ قدم کو آپؓ نے دیکھا ہے، لوگ حضرت ولیدؓ کے سلسلہ میں کثرت سے باتیں کر رہے ہیں، لہٰذا آپؓ پر حق ہے کہ آپؓ اس پر حدِ شرعی نافذ کریں۔ اس پر سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے بھانجے! کیا تم نے رسول اللہﷺ کو پایا ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، لیکن آپﷺ کا علم اور یقین مجھے پہنچا ہے جو کنواریوں کو پردے کے پیچھے پہنچ جاتا ہے۔ پھر سیدنا عثمانِ غنیؓ نے حمد و صلوٰۃ کے بعد فرمایا: اما بعد! اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا تو میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اللہ و رسول اللہﷺ کی دعوت پر لبیک کہا، اور محمدﷺ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا، پھر میں نے دونوں ہجرتیں کیں جیسا کہ تم کہتے ہو۔ میں نے رسول اللہﷺ سے بیعت کی۔ اللہ کی قسم میں نے نہ کبھی آپﷺ کی نافرمانی کی اور نہ آپﷺ کو دھوکا دیا یہاں تک کہ آپﷺ وفات پا گئے۔ پھر آپﷺ کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، ہم نے آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کی، اللہ کی قسم نہ کبھی آپؓ کی نافرمانی کی اور نہ آپؓ کو دھوکا دیا، یہاں تک کہ آپؓ وفات پا گئے، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، اللہ کی قسم میں نے نہ کبھی ان کی نافرمانی کی اور نہ دھوکا دیا یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے خلافت عطا کی تو کیا میرا تم پر وہ حق نہیں جو ان کا میرے اوپر تھا؟ میں نے کہا کیوں نہیں۔ تو آپؓ نے فرمایا: تو پھر میں یہ کیا باتیں سن رہا ہوں؟ اور جو تم نے ولید سے متعلق باتیں کی ہیں تو ان شاء اللہ عنقریب میں اس پر حق قائم کروں گا۔ پھر آپؓ نے سیدنا ولیدؓ کو کوڑے لگوائے، اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو مامور کیا کہ وہ حضرت ولید رضی اللہ عنہ کو کوڑے لگائیں، چنانچہ انہوں نے کوڑے لگائے۔
(فضائل الصحابۃ: جلد، 1 صفحہ، 597 رقم، 791 اسنادہ صحیح)
سیدنا ذوالنورین رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کی صحبت کو لازم پکڑا، آپﷺ کے علم اور طور و طریقہ سے بھرپور استفادہ کیا اور اکابر علماء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شمار ہوئے۔
آپ رضی اللہ عنہ اپنی رعیت کی مفید رہنمائی و ہدایت پر قدرت رکھتے تھے، اور انہیں ان کے واجبات کی تعلیم اور علم و تجربہ کی روشنی میں حاصل شدہ اپنے افکار و خیالات اور تجربات کو ان تک منتقل کرنے کی صلاحیت آپؓ کے اندر بدرجہ اتم موجود تھی، تاکہ وہ دعوت و تربیت، تعلیم و جہاد اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی تیاری کے میدان میں ترقی کریں۔ سیدنا عثمانِ غنیؓ کی رہنمائی و ہدایت میں سے آپؓ کا خطبہ خلافت ہے جس کے اندر آپؓ نے اللہ کی حمد و ثنا اور نبی کریمﷺ پر درود و سلام کے بعد فرمایا:
یقیناً تم امن و امان میں ہو، اور عمر کے باقی حصہ میں ہو، لہٰذا حتیٰ المقدور موت سے قبل نیکیاں کر لو، موت صبح یا شام آ کر رہے گی۔ خبردار ہو جاؤ! یقیناً دنیا کی فطرت میں دھوکا ہے، لہٰذا تم کو دنیا کی زندگی دھوکا میں نہ ڈالے اور دھوکا باز تمہیں اللہ سے دھوکا میں نہ رکھے، جو گزر چکے ہیں ان سے عبرت حاصل کرو پھر کوشش کرو اور غفلت نہ برتو، دنیا کے پرستار کہاں گئے جنھوں نے اس کو ترجیح دی اور آباد کیا اور طویل عرصہ تک اس سے لطف اندوز ہوتے رہے، کیا دنیا نے ان کو نکال نہیں پھینکا؟ دنیا کو اس کے عوض پھینک دو جو بہتر ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 153)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاضۡرِبۡ لَهُمۡ مَّثَلَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا كَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ فَاَصۡبَحَ هَشِيۡمًا تَذۡرُوۡهُ الرِّيٰحُ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقۡتَدِرًا ۞ اَلۡمَالُ وَ الۡبَـنُوۡنَ زِيۡنَةُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَالۡبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيۡرٌ عِنۡدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ اَمَلًا ۞
(سورۃ الكهف: آیت 45، 46)
ترجمہ: اور ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی یہ مثال بھی بیان کر دو کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا، تو اس سے زمین کا سبزہ خوب گھنا ہو گیا، پھر وہ ایسا ریزہ ریزہ ہوا کہ اسے ہوائیں اڑا لے جاتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔ مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں، اور جو نیکیاں پائیدار رہنے والی ہیں، وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں، اور امید وابستہ کرنے کے لیے بھی بہتر۔
خلیفہ ثالث سیدنا عثمانِ غنیؓ کا یہ خطبہ خلافت جن معانی و مفاہیم کے گرد گردش کر رہا ہے وہ اللہ رب العزت اور دنیا میں زہد کی طرف متوجہ ہونے پر لوگوں کو ابھارتا ہے، اور موقع و محل کے مناسب بھی یہی تھا، کیوں کہ اسلام روئے زمین میں پھیل چکا تھا، اور اسے غلبہ و قوت حاصل ہو چکی تھی، مختلف ممالک فتح ہو چکے تھے، اور دنیا ناز و نعم کے ساتھ مسلمانوں کے پاس سمٹ آئی تھی، لوگوں کے اندر دنیا کے سلسلہ میں مقابلہ کا جذبہ برپا ہو چکا تھا خاص کر ان لوگوں کے اندر جو صحابیت کا شرف حاصل نہ کر سکے تھے، لہٰذا آپؓ کا بیان و فرمان مقام کے بالکل موافق تھا۔
(الکفاء ۃ الإداریۃ فی السیاسۃ الشرعیۃ، القادری: صفحہ، 93)
حضرت عثمانِ غنیؓ نے رسول اللہﷺ سے متعدد احادیث روایت کیں جن سے امت مستفید ہوئی۔ چنانچہ سیدنا ابو عبدالرحمٰن سلمیٰؓ وہ حدیث بیان کرتے ہیں جو انہوں نے سیدنا عثمانِ غنیؓ سے سن کر اس پر عمل کیا۔ سیدنا سعد بن عبیدؓ، سیدنا ابو عبدالرحمٰن سلمیٰؓ سے اور وہ حضرت عثمانِ غنیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
خیرکم من تعلم القرآن و علمہ (البخاری: حدیث، 5028)
ترجمہ: تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔
اس حدیث کو سن کر حضرت ابو عبدالرحمٰن سلمیٰؓ نے حضرت عثمانِ غنیؓ کے دورِ خلافت میں قرآن پڑھانا شروع کیا یہاں تک کہ حجاج بن یوسف برسرِ اقتدار آیا۔
(سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آغاز سے لے کر حجاج بن یوسف کے اختتامِ اقتدار تک تین ماہ کم بہتر (72) سال ہوتے ہیں، اور حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے اختتامِ خلافت سے لے کر حجاج بن یوسف کے آغازِ اقتدار تک 38 سال ہوتے ہیں، حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عبدالرحمٰن سلمیٰؓ کے پڑھانے کے آغاز و اختتام کی تعیین معلوم نہیں۔ (فتح الباری: جلد، 8 صفحہ، 695مترجم)
سیدنا ابو عبدالرحمٰن سلمیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ھذا الذی اقعدنی مقعدی ھذا
(یہاں اشارہ اس حدیث کی طرف ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کی تعلیم دینے میں لگ گیا تاکہ یہ فضیلت حاصل کر سکوں، اور اس کا بھی احتمال ہے کہ اشارہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف ہو۔ چنانچہ سیدنا ابو عوانہؓ کی روایت میں یہ الفاظ وارد ہیں: وھو الذی اجلسنی ھذا المجلسی ترجمہ: انہوں نے ہی مجھے اس مقام پر بٹھایا ہے۔ (فتح الباری: جلد، 8 صفحہ، 695 مترجم)
ترجمہ: اسی نے مجھے اس مقام پر بٹھایا ہے۔
اور شعبہ کی ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابو عبدالرحمٰن سلمیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اس نے مجھے اس مقام پر بٹھایا، اور وہ لوگوں کو قرآن پڑھاتے تھے۔
(الخلافۃ الراشدۃ: د، یحییٰ الیحییٰ: صفحہ، 420، 421 دیکھیے: فتح الباری: جلد، 8 صفحہ، 695 مترجم)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ موقع و محل کی مناسبت سے رسول اللہﷺ کی احادیث مسلمانوں سے بیان کرتے رہتے تھے، آپؓ کی بیان کردہ چند احادیث یہ ہیں: