سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ احد میں - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ احد میں

  علی محمد محمد الصلابی

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور طلحہ بن عثمان کے درمیان اولین مقابلہ سے معرکۂ احد کا آغاز ہوا، طلحہ بن عثمانؓ کے ہاتھوں میں مشرکین کا پرچم تھا، اس نے کئی مرتبہ مسلمانوں کو دعوت مبارزت دی، حضرت علی بن ابی طالبؓ مقابلہ کے لیے سامنے آئے اور اسے چیلنج دیتے ہوئے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تجھے اس وقت تک نہ چھوڑوں گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ تجھے میری تلوار سے جلد سے جلد جہنم رسید نہ کردے یا تیری تلوار سے مجھے جلد از جلد جنت میں نہ پہنچا دے۔ اور پھر اس پر سخت وار کیا، جس سے اس کا پاؤں جسم سے جدا ہو گیا اور وہ زمین پر آگرا، اس کی شرم گاہ کھل گئی، اس نے کہا: اے میرے چچازاد بھائی! میں تجھے اللہ اور قرابت داری کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے چھوڑ دو، آپ پیچھے ہٹ گئے، اور اس کا کام تمام نہیں کیا، اللہ کے رسولﷺ نے تکبیر کی صدا بلند کی جبکہ حضرت علیؓ سے ان کے بعض ساتھی کہنے لگے: تم نے اس کا کام کیوں نہیں تمام کر دیا؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ جب اس کی شرم گاہ کھل گئی تو اس نے اللہ اور قرابت داری کا واسطہ دیا، اس لیے مجھے شرم آگئی اور میں نے چھوڑ دیا۔

(السیرۃ الحلبیۃ: جلد 2 صفحہ 497، 498)

جب معرکۂ کارزار گرم ہوا، دونوں افواج آپس میں گتھم گتھا ہوگئیں توحضرت علیؓ میمنہ میں ہو گئے اور حضرت معصب بن عمیرؓ کی شہادت کے بعد آپ ہی نے پرچم اسلام کو اپنے ہاتھ میں سنبھالا، اس غزوہ میں اگرچہ مسلمانوں کو سخت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا اور رسول اللہﷺ کے دفاع میں آپ بھی آزمائے گئے، لیکن کافروں کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا اور ان کے بےشمار افراد موت کے گھاٹ اتارے گئے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد صفحہ 224)۔

اس غزوہ میں جب اللہ کے رسولﷺ جب گڑھے میں گر گئے تھے، تو اس وقت حضرت علیؓ ہی نے آپﷺ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو باہر نکالا تھا۔

(السیرۃ النبویۃ: ابن ہاشم: جلد 3 صفحہ 89)۔

 اس غزوہ میں مہاجرین و انصار میں سے بہت سارے ممتاز صحابہؓ شہید ہوئے تھے، جس سے اللہ کے رسولﷺ کو بہت صدمہ پہنچا تھا اور اسی کے بالمقابل دشمنوں کو بھی اللہ کے رسول کی طرف سے سخت نقصان اٹھانا پڑا تھا، ان ظالموں نے آپﷺ کے چہرہ مبارک کو خون آلود کر دیا، اس وقت آپﷺ کی لخت جگر فاطمہ اور داماد علی رضی اللہ عنہما نے آپ کی مرہم پٹی کی، اور چہرہ انوار و ریش مبارک پر بہتے ہوئے خون کو پونچھا۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 4085)۔

اس غزوہ میں حضرت علیؓ نے اپنی بےباک شجاعت کا مظاہرہ کیا، جب آپﷺ کے بارے میں یہ خبر پھیل گئی کہ آپﷺ شہید کر دیے گئے اور حضرت علیؓ کو آپﷺ نظر نہ آئے تو حضرت علیؓ نے سوچا کہ رسول اللہﷺ کے بغیر زندگی میں لطف ہی کیا ہے۔ پھر حضرت علیؓ اٹھے اور تلوار کی میان توڑ دیا اور دشمن پر پل پڑے، مسلمانوں نے حضرت علیؓ کے لیے راستہ خالی کر دیا، اچانک آپ کی نگاہ رسول اللہﷺ پر پڑی

(شرح النووی: صحیح مسلم: جلد 12 صفحہ 148)۔

آپ رسول اللہﷺ کے ساتھ ہو گئے اور جانباز بہادروں کی طرح آپﷺ کی طرف سے دفاع کیا، اس جنگ میں آپ کو سولہ (16) زخم آئے۔

جب مشرکین کا لشکر میدانِ جنگ خالی کر کے پیچھے ہٹا تو آپﷺ نے دشمن کی واپسی کا رخ معلوم کرنے کے لیے فوراً حضرت علیؓ کو اس کے پیچھے بھیجا، آپﷺ نے کہا: تم دشمن کا پیچھا کرو اور دیکھو وہ کیا کر رہے ہیں؟ اور ان کا ارادہ کیا ہے؟ اگر گھوڑوں کو پہلو میں ایک جانب کر کے اونٹوں پر سوار ہو گئے ہوں تو ان کا ارادہ مکہ جانے کا ہوگا اور اگر گھوڑوں پر سوار ہو کر اونٹوں کو چرانے کے لیے ہانکا ہو، تو ان کا ارادہ مدینہ پر حملے کا ہوگا، واللہ اگر انھوں نے مدینہ کی طرف رخ کیا تو ہم ابھی فوراً ان کا پیچھا کریں گے اور ان کا زبردست مقابلہ کریں گے۔

سیدنا علیؓ کا بیان ہے کہ ان کی نقل و حرکت کا پتہ کرنے کے لیے میں ان کے پیچھے لگ گیا، دیکھا تو وہ گھوڑوں کو پہلو میں ایک جانب کر کے اونٹوں پر سوار ہو کر مکہ کا رخ کر چکے تھے، پھر میں واپس آیا اور رسول اللہﷺ کو صورت حال سے آگاہ کیا۔

(مسند أبو یعلی: جلد 1 صفحہ 415، 416) اس کی سند حسن ہے۔ خلافۃ علی بن أبی طالب: عبدالحمید فقیہی: صفحہ 39)۔

اس واقعہ کے دروس و مواعظ اور عبرتیں:

• اس واقعہ میں نبی کریمﷺ کی شجاعت قابلِ دید ہے کہ آپ مشرکین کی صف میں گھس کر ان سے نبرد آزما تھے، کافی مشقت، مار دھاڑ اور زخم کھانے کے بعد حضرت علیؓ آپﷺ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور پہنچ کر دیکھا کہ آپﷺ دشمن کے قلب میں گھسے ہوئے ہیں۔

• آپﷺ دشمن سے ہمہ وقت چوکنا رہتے اور اس کی نقل و حرکت پر نہایت گہری نگاہ رکھتے، حالات کو سمجھنے، مدمقابل کی نقل و حرکت کا تجزیہ کرنے اور مستقبل کی توقعات و اندیشوں کو اچھی طرح بھانپ لینے پر آپﷺ کو عبور حاصل تھا۔

•آپﷺ بلند ترین روحانی عزم و حوصلہ اور قوت کے مالک تھے، اس عزم وحوصلہ کا عکس آپ کے معرکہ کی تیاری میں صاف نظر آرہا ہے، کہ اگر مشرکین مکہ، مدینہ پر چڑھائی کرتے ہیں تو آپﷺ نے کہا ابھی جم کر ان کا مقابلہ کیا جائے گا۔

• آپﷺ کو حضرت علیؓ پر مکمل اعتماد تھا اور انھیں جوہری شخصیات کی معرفت کا ملکہ حاصل تھا۔

• سیدنا علیؓ مروت و مکارم اخلاق جیسے اوصاف حمیدہ کے مالک تھے، چنانچہ مقابلہ میں جب حضرت علیؓ نے دشمن کو پچھاڑ دیا اور اس کی شرم گاہ کھل گئی، تو حضرت علیؓ شرم کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے اور رسول اللہﷺ نے اس پر کوئی نکیر نہ کی۔ آپ کا یہ کردار دشمن کے ساتھ برتاؤ کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے اور سبق دیتا ہے کہ دشمن کے ساتھ عام حالات تو کیا میدانِ جنگ میں بھی کیا سلوک کرنا چاہیے

• اللہ کے راستہ میں قربانی دینا واجب ہے، قربانی کی روح ہی دنیا میں اسلام کی سرفرازی اور آخرت میں جنت کی ضامن ہے، اس حقیقت کو غزوۂ احد وغیرہ میں بہت سے مہاجرین و انصار صحابہؓ نے کر دکھایا۔

•اللہ پر کامل توکل کے ساتھ ساتھ اسباب و وسائل کو استعمال کرنا ضروری ہے، چنانچہ آپﷺ نے اپنے بعض صحابہ کو چند ہدایات کے ساتھ جبل احد پر مقرر کیا تھا، لیکن انھوں نے غلطی کی اور پہاڑ سے نیچے اتر گئے، جس کے نتیجہ میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

•حضرت علیؓ کی شجاعت بھی دیکھی جا سکتی ہے، کہ آپؓ خطرات کے گھیرے میں تھے، اگر حضرت علیؓ دشمن کو نظر آجاتے تو وہ آپ کو قتل کرنے سے نہ چوکتے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 4 صفحہ 41، السیرۃ النبویۃ: علی محمد محمد الصلّابی: جلد 2 صفحہ 145، غزوہ أحد: أبی فارس: صفحہ (95 تا 96)۔