قاتلان حسینؓ خدا کی مجرم ہیں
مولانا اقبال رنگونیشیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ (728ه) لکھتے ہیں بلا شک و شبہ سیدنا حسینؓ مظلومانہ شہید ہوئے اور جن کے ہاتھ آپؓ کے خون سے رنگیں ہوئے وہ سب خدا کے مجرم ہیں۔
وَاَمَّا مَقْتَلُ الْحُسَيْنِ رَضِي الله عنه فَلَارَيْبَ أَنَّهُ قُتِلَ مَظْلُوْمًاشَهِيْداً، كَمَاقُتِلَ اَشْبَاهَهُ مِنَ الْمَظْلُوْمِيْنَ الشُّهَدَاءِ.وَقَتْلُ الْحُسَيْنِ مَعْصِيَةٌ لِلهِ وَرَسُوْلِهِ مِمَّنْ قَتَلَهُ أَوْأَعَانَ عَلٰى قَتْلِهٖ اَوْ رَضِيَ بِذٰلِكَ، وَهُوَ مُصِيْبَةٌ أُصِيْبَ بِهَا الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ أَهْلِهِ وَغَيْرِأَهْلِهِ، وَهُوَفِى حَقِّهِ شَهَادَةً لَهٗ، وَرَفْعِ دَرَجَةٍ، وَعَلُوُّمَنْزِلَةٍ، فَأِنَّهٗ وَأَخَاهٗ سَبَقَتْ لَهُمَامِنَ اللهِ السَّعَادَةُ، الَّتِى لَا تَنَالُ اِلَّابِنَوْعٍ مِنَ الْبَلَاءِ، وَلَمْ يَكُنْ لَّهُمَا مِنَ السَّوَابِقِ مَالِ أَهْلِ بَيْتِهِمَا فِأِنَّهُمَا تَرَبَّيَا فِى حِجْرِ الْاِسْلَامِ، فِى عِزٍّ وَ أَمَانٍ، فَمَاتَ هٰذَا مَسْمُوْعًا وَهٰذَا مَقْتُوْلاً ،لِيَنَا لَابِذٰلِكَ مَنَازِلَ السُّعَدَاءِ وَعَيْشَ الشُهَدَاءِ (منہاج السنہ: جلد 2 صفحہ 550) وَكَذٰلِكَ الْحُسَينُ رَضي اللّٰه عَنْهُ لَمْ يُقْتَلْ أِلَّا مَظْلُوْماً شَهِيْداً۔ (منہاج : جلد 4 صفحہ 535، 62)
رہا سیدنا حسینؓ کا معاملہ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ آپؓ نہایت مظلومیت کی حالت میں شہید کیے گئے جس طرح کے آپؓ جیسے بہت سے دوسرے لوگ مظلومانہ شہید کیے گئے، سیدنا حسینؓ کا مقصد شروع میں قتال کرنا نہیں تھا، سیدنا حسینؓ کو قتل کرنا، یا اس پر مدد کرنا، یا اس پر راضی ہونا، اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بڑی نافرمانی تھی، سیدنا حسینؓ کا قتل مسلمانوں کے لیے ایک بڑی مصیبت تھی جو اپنوں اور غیروں کی وجہ سے پہنچی جب کہ یہ شہادت سیدنا حسینؓ کے لیے درجات کی بلندی اور بڑی منزلت کا سبب بن گئی، اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپؓ کے لیے اور آپؓ کے بھائی کے لیے سعادت اور خوش نصیبی مقدر ہو چکی تھی جو کہ کسی امتحان کے آئے بغیر انہیں نہیں مل سکتی تھی اور اس خاندان میں ان دو بھائیوں جیسی مثال نہیں ملتی، انہوں نے اسلام کی گود میں عزت و امان کے ساتھ پرورش پائی پھر ان میں سے ایک کو بذریعہ زہر اور دوسرے کو قتل کر کے شہید کیا گیا تاکہ یہ دونوں حضرات جنت میں شہداء کے درجات حاصل کر لیں۔
آپ یہ بھی لکھتے ہیں:
وَكَانَ قَتْلُهٗ رضي الله عَنْه مِنَ الْمَصَائِبِ الْعَظِيْمَةِ فَإِنَّ قَتْلَ الْحُسَيْنِ، وَقَتْلَ عُثْمَانَ قَبْلَهُ: كَانَا مِنْ أَعْظَمِ أَسْبَابِ الْفِتَنِ فِي هٰذِهِ الْأُمًَةِ وَقَتَلْتَهُمَا مِنْ شِرَارِ الْخَلْقِ عِنْدَ الله
(فتاویٰ ابن تیمیہؒ: جلد 4 صفحہ نمبر 411)
سیدنا حسینؓ کی شہادت عظیم مصائب میں سے ہے کیونکہ سیدنا حسینؓ اور ان سے پہلے سیدنا عثمانؓ کی شہادت اس امت کے اندر فتنوں کا سب سے بڑا سبب ہے اور جن لوگوں نے انہیں شہید کیا وہ خدا کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔
(مجموعہ رسائل کبریٰ: صفحہ 311)
آپ ایک بحث میں لکھتے ہیں:
وَالْحُسَينِ رضي اللهُ عَنْهُ أَكْرَمَهُ اللهُ تَعَالىٰ بِالشَّهَادِةِ فِي هٰذَا الْيَوْمِ وَأَهَانَ بِذٰلِكَ مَنْ قَتَلَهٗ أَوْ أَعَانَ عَلَى قَتْلِهٖ أَوْ رَضِيَ بِقَتْلِهٖ،وَلَهٗ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ بِمَنْ سَبَقَهٗ مِنَ الشُّهَدَاءِ فَإِنَّهٗ وَأَخُوْهٗ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلَ الْجَنَّةِ وَكَانَ قَدْ تَرَبَّيَا فَي عِزِّ الإِسْلَامِ لَمْ يَنَالَا مِنَ الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ وَالصَّبْرِ عَلَى الْأَذَي فِي اللهِ مَانَالَهٗ أَهْلُ بَيْتِهٖ فَأَكْرَمَهُمَا الله تعالى بِالشَّهَادَةِ تَكْمِيْلاً لِكَرَامَتِهِمَا وَرَفْعاً لِدَرْجَاتِهِمَا وَقَتْلُهٗ مُصِيْبَةٌ عَظِيْمَةٌ
(مجموع الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 511)
اللہ تعالیٰ نے سیدنا حسینؓ کو اس دن (عاشورہ کے دن) شہادت سے مکرم فرمایا اور جن لوگوں نے آپؓ کی شہادت میں مدد کی یا ان کے قتل پر راضی رہے اللہ نے اس کو ذلیل کیا، جو لوگ آپؓ سے پہلے شہادت سے سرفراز ہوئے ہیں سیدنا حسینؓ ان کا بہترین نمونہ تھے بلا شبہ سیدنا حسینؓ اور آپؓ کے بھائی سیدنا حسنؓ دونوں جوانان جنت کے سردار ہیں ان دونوں کی نشوونما اس دور میں ہوئی جس میں اسلام کو غلبہ حاصل تھا اس لیے دوسرے اہلِ بیت کی طرح ان دونوں کو ہجرت، جہاد، صبر اور اللہ کی راہ میں مشقت اور تکلیف اٹھانے کا وہ موقع نہ ملا جو دوسرے حضرات کو ملا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں بھائیوں کو شہادت کی سعادت سے نواز کر معزز بنا دیا تاکہ ان کے اعزاز اور تکریم کی تکمیل ہو جائے اور ان کے درجات بلند ہو جائیں،سیدنا حسینؓ کی شہادت تو بڑی تکلیف کا باعث ہے۔
