قافلہ حسینی کے ساتھ یزید کا سلوک، شیعہ روایات میں - دفاعِ…

قافلہ حسینی کے ساتھ یزید کا سلوک، شیعہ روایات میں

  مولانا اقبال رنگونی

شیعہ علماء لکھتے ہیں کہ یزید نے سیدنا حسینؓ کے گھر والوں سے بہت اچھا سلوک کیا تھا انہیں اپنے گھر میں رکھا اور وہ صبح شام سیدنا زین العابدینؒ کو اپنے دسترخوان پر بلایا کرتا تھا۔ 

شیعہ باقر مجلسی لکھتا ہے:  

پس اہل بیت را در خانہ او جای داد، ہر چاشت و شام حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ را بر سر خوان خود می طلبید۔ (جلاء العیون)

ترجمہ: پس یزید نے اہلِ بیتؓ کو اپنے گھر میں جگہ دی اور صبح شام سیدنا زین العابدینؒ کو اپنے دسترخوان پر بلاتا تھا۔

شیعہ غلام حسین تبریزی طراز مذہب مظفری میں لکھتا ہے کہ یزید نے حکم دیا کہ حضرت حسینؓ کے گھر والوں کو خاص کمروں میں اتارا جائے اور ان کی ضروریات کی تمام چیزیں ان تک پہنچائی جائیں اور جب تک سیدنا زین العابدینؒ دسترخوان پر نہ آتے، یزید نہ کھانا کھاتا اور نہ آرام کرتا تھا:  

یزید فرمان کرد تا علی بن الحسین و اہل بیت را در سرای مخصوص بہ ایشان فرود آوردند و آنچہ محتاج ایشان بود فراہم ساختند و تا آن حضرت حضور نیافتی تغدی و تشی ننمودی۔ (طراز مذہب مظفری: صفحہ 468)  

ترجمہ: یزید نے حکم دیا کہ حضرت علی بن حسینؓ (امام زین العابدین) کو خاص مکان میں رکھا جائے اور ان کو جس چیز کی ضرورت ہو وہ انہیں دی جائے اور جب تک امام زین العابدینؒ نہ آ جاتے، یزید نہ کھانا کھاتا تھا اور نہ آرام کرتا تھا۔

ضروری نہیں کہ اہلِ سنت و الجماعت اس تحقیق سے اتفاق کریں، تاہم اس سے اتنی بات تو واضح ہے کہ شیعہ کتابوں کی رو سے شہادتِ حسینؓ پر پہلے پہل ماتمی مجالس برپا کرنے والے قاتلینِ حسینؓ نکلے اور پھر ماتم کی دوسری مجلس یزید کے گھر برپا ہوئی اور بقولِ شیعہ علماء یزید نے قافلہِ حسینی کے ساتھ بڑا اچھا سلوک کیا تھا۔ 

کاش کہ شیعہ علماء اور ان کے جہلاء ماتم کے بارے میں ائمہِ اہلِ بیتؓ کی تعلیمات و ہدایات کو سامنے رکھتے اور ان کی زندگی سے کچھ سبق لیتے، مگر انہیں قاتلانِ حسینؓ اور یزید کا فعل اتنا مرغوب و محمود ہوا کہ وہ اس پر خوشی سے چل پڑے اور یہ نہ دیکھا کہ ان کے اس فعل سے اسلام کی کتنی حدیں ٹوٹتی ہیں۔